تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

شتر خار: جگر کے امراض کی موثر دوا

طبی ماہرین کے مطابق شتر خار کا موثر ترین جز سیلی میرین (Silymarin) اس کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔

جڑی بوٹیاں قدرت کا بہت بڑا انعام اور بیش بہا دولت ہیں۔ انہیں انمول جواہرات بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ طب دور قدیم ہی سے علاج الامراض کے لیے جڑی بوٹیوں کے خواص و فوائد کی متلاشی رہی ہے۔ ان پر تحقیقات کا کام روزاول سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہیگا۔ انسانی ارتقا کی تاریخ کی طرح جڑی بوٹیوں پر تحقیقات کی ارتقائی صورتوں کی تاریخ بھی بہت طویل اور تابناک ہے۔ طب اسلامی یقینا نباتات پہ تحقیقات کا دلاویز مجموعہ اور عجوبہ ہے۔ ”یاد رکھیے اللہ تعالیٰ نے کوئی شے عبت پیدا نہیں فرمائی۔ ہر بوٹی میں اپنی انفرادیت کے اعتبار سے کوئی نہ کوئی خوبی پوشیدہ ہے۔ کسی نہ کسی مرض کا شافی علاج ہے۔ ادویاتی خواص و افادیت سے بھرپور ہے۔

ایسی ہی جڑی بوٹیوں میں ایک کانٹوں دار جڑی بوٹی یا جھاڑی شتر خارہے جسے جگر اور پتہ کی مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے عرصہ تقریباً دو ہزار سال سے استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند کے ریتلی علاقوں میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ یہ کانٹوں دار جھاڑی ہے۔ جس کا پھل اونٹ بہت رغبت سے کھاتا ہے۔

اس کا پودا اکثر ایک فٹ سے ڈھائی فٹ تک اونچا دیکھا گیا ہے۔ سردیوں میں اسکے پودے سبز ہوتے ہیں۔ جب تک اس کے پھل نہیں لگتے۔ اس وقت تک اس کا پودا ستیا ناسی پودے کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ اس کی جڑ چار سے چھ انچ لمبی ہوتی ہے۔ پتے ستیاناسی سے کچھ چھوٹے لیکن لمبے اور نیچے سے سفید رنگ کے روئیں دار ہوتے ہیں۔ پھول کاٹنے دار پانچ پنکھڑیاں والے سفید رنگ کے جن کے اندر سے سفید روئی کی طرح مواد نکلتا ہے۔

بعض اطباء اس کو برہم ڈنڈی کی قسم مانتے ہیں۔ اور بعض ستیاناسی کی لیکن شتر خار ان دونوں سے بالکل مختلف ہے۔ جیسا کہ ماہیت سے ظاہر ہے کہ ایسا دھوکا اس لئے ہوتا ہے کہ ستیاناسی کے پودے کی طرح اس میں بھی ہر جگہ کانٹے ہوتے ہیں۔ جوکہ اوپر کو اٹھے ہوتے ہیں۔

عربی میں اسے اشوک الجمل، فارسی میں شتر،گجراتی میں ان کنٹو، سندھی میں کانڈیری وڈی، ہندی میں اٹ کٹ نکا، پنجابی میں اونٹ کٹارا اور انگریزی میں Thistle یا Milk Thistle کہتے ہیں۔

شتر خار میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
طبی ماہرین کے مطابق شتر خار کا موثر ترین جز سیلی میرین (Silymarin) اس کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔

شتر خار کے طبی فوائد:
ایک زمانے سے اسے طبیب اور ماہر حکیم مختلف امراض کے علاج اور مختلف جسمانی تکالیف سے نجات دلانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

جگر کے امراض:
شتر خار سے بنی ہوئی دوائیں یورپ اور امریکہ میں جگر کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بہت مقبول ہیں۔خاص طور پر (یرقان) ہیپاٹائٹس کے مرض میں استعمال ہوتی ہیں۔

جگر ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ جدید تحقیق کی رو سے جگر کے امراض وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان کو ہیپاٹائٹس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور ان کی اقسام میں ہیپاٹائٹس G,E,D,C,B,A شامل ہیں۔ زیادہ تر ہیپاٹائٹس C، B,A پائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہیپاٹائٹس A ترقی یافتہ ممالک کا مرض ہے۔ہیپاٹائٹس B جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے اور یہ مرض تیزی سے پھیل رہاہے۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس C کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور یہ بھی جگر کو ناقابل، تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس وائرس کس طرح جگر کو تباہ کرتے ہیں؟ جب جگر میں وائرس پہنچ جاتاہے اور ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو یہ زہریلے مرکبات خارج کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ خارج شدہ زہریلے مرکبات انسانی جسم کو مختلف امراضِ جگر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ جگر میں ورم پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں یہ زہریلے مادے سدوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یہ سدے خارج نہ ہوں تو مرض پیچیدہ سے پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔ وائرس A کی وجہ سے مرض مختصر عرصہ کے لیے رہتا ہے اور یہ جلد ختم ہو جاتا ہے جبکہ وائرسB اور C تمام زندگی انسانی جسم میں رہ سکتے ہیں، جس سے جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ عام طور پر وائرس C کو ناقابلِ علاج مرض قرار دیا گیا ہے۔لیکن شتر خار کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صدیوں سے جگر کے امراض کیلئے ایک موثر دوا کے طور پر استعمال ہوتی آ رہی ہے۔

بھوک کی کمی:
شتر خارکے بیج بھوک کی کمی کو دور کرنے کے علاوہ بدہضمی دور کرنے میں بہت مفید ہے۔ہاضمہ کو طاقت دینے کے لئے اس کی جڑ کی چھال اور چھو ہارہ کی گٹھلی ہم وزن سفوف کر کے چھ ماشہ استعمال کرنا بہت مفید ہے۔

قوت باہ:
نامردی اور ضعف باہ میں اس کی جڑ کو استعمال کرنا مفید ہے۔جڑ کاچھلکا اس مقصد کیلئے کافی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کی جڑ سونٹھ کو باریک پیس کر شہد میں ملا کر قضیب پر لیپ کر نے سے شہوت زیادہ آتی ہے۔اور سختی بڑھ جاتی ہے۔

زہریلے مادوں کا اخراج:
شتر خار مصفیٰ خون کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جڑ کا چھلکا بطور جوشاندہ استعمال کرنے سے جسم میں موجود زہریلے مادے اور یورک ایسڈ پیشاب اور پاخانے کے ذریعے باہرنکال دیتا ہے۔پودے کے تمام اجزاء کو شہد یاشکر کے ساتھ استعمال کرنا بھی اس مقصد کیلئے بہت مفید ہے۔

نزلہ، زکام، بخار:
شتر خار کی جڑ پان کی جڑ کے ساتھ کھانا کھانسی میں مفید ہے۔ یہ بخارخاص طور پر باری کے بخار (ملیریاوغیرہ) میں خاص مفید ہے۔ اس کے پتے کے رس کو شہد کے ہمراہ دینا کھانسی اور دمہ میں بہت مفید ہے۔

ولادت میں آسانی:
ہندوستان میں طبیب اسے ولادت کی آسانی کیلئے اکثر استعمال کرتے ہیں۔اس کی جڑ کو پیس کر پیٹ پر لیپ کیا جائے تو بچہ بآسانی پیدا ہو گا یا اس کی جڑ کی چھال چھ ماشہ پانی میں جوش دے کر پلائیں۔

پیشاب کی رکاوٹ:
پیشاب کی رکاوٹ کے لئے اس کی جڑ کو پیس کر پانی کے ہمراہ پھانکنا یا جوش دے کر پینا پیشاب کی رکاوٹ کے لئے مفید ہے۔

طاقت و توانائی:
جسمانی طور پر کمزور افراد کیلئے یہ ایک اکسیر تحفہ ہے۔ عام طاقت اور توانائی کیلئے اس کا سفوف شہد میں ملاکر استعمال کرنا بہت مفید ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button