سپورٹس

شرجیل نے جان بوجھ کر ڈاٹ گیندیں نہیں کھیلیں، یوسف

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے اسپاٹ فکسنگ کیس میں سابق عظیم بلے باز محمد یوسف نے شرجیل خان کے حق میں گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ شرجیل نے جان بوجھ کر ڈاٹ بالز نہیں کھیلیں۔

پیر کو مقدمے کی سماعت کے دوران سابق بلے باز محمد یوسف نے شرجیل خان کے گواہ کے طور پر تین رکنی ٹریبونل کے سامنے پیش ہو کر ان کے حق میں گواہی دی۔

محمد یوسف کا کہنا تھا کہ شرجیل خان کی دونوں بالز کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ جان بوجھ کر ڈاٹ کھیلی گئیں اور اس میں فکسنگ کا کوئی امکان نظر نہیں آیا، اگر پی سی بی کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ جہاں بھی کہے گا وہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں اور اگر شرجیل کی جانب سے کھیلی گئی گیند گیپ میں جاتی تو ڈاٹ نہ ہوتی۔

شرجیل خان پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور زلمی کے خلاف جان بوجھ کر ڈاٹ گیندیں کھیلیں۔

شرجیل خان نے اس میچ میں چار گیندوں پر ایک رن بنایا تھا اور ان میں سے دو گیندیں انہوں نے ڈاٹ کھیلی تھیں اور اور اگر شرجیل پر اسپاٹ فکسنگ کا الزام ثابت ہو جاتا ہے کہ تو ان پر پانچ سال سے تاحیات پابندی کی سزا کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ یوسف سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ ڈین جونز بھی شرجیل کے حق میں گواہی دیتے ہوئے کہ چکے ہیں کہ اوپننگ بلے باز نے دونوں ڈاٹ گیندیں میرٹ پر کھیلی تھیں۔

دوسری جانب پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ محمد یوسف صرف ڈاٹ بالز کی بات کر رہے ہیں، انہیں دیگر معاملات کا علم ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میچ فکسنگ کے معالے اتنے سیدھے نہیں ہوتے اور ہمارے پاس پاکستان سپر لیگ کے علاوہ اس سے پہلے کے بہت سے معاملات ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائے گئے لیکن ٹریبونل کو ان سب چیزوں کا علم ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرجیل خان کے بارے میں ی بات واضح نہیں ہو رہی کہ وہ ٹریبونل کے سامنے پیش ہوں گے یا نہیں لیکن آج انہوں نے ٹریبونل کے چیئرمین کو ای میل کر کے آگاہ کیا ہے کہ ان کے وکیل بیرون ملک ہونے کے سب پیش نہیں ہو سکتے اور وہ 14 جون کو پیش ہو کر مزید جرح کریں گے۔

تفضل رضوی کے مطابق کرکٹر شاہ زیب حسن نے ای سی ایل سے نام نکلوانے کی لیکن ہم نے انہیں بتا دیا کہ ٹریبونل میں ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈلوایا لہٰذا وہ اس سلسلے میں متعلقہ ادارے سے رابطہ کرنے کا کہا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button