Uncategorized

شلجم: دل کا محافط، ہڈیوں کا ڈاکٹر

شلجم ایک عام سبزی ہے جس کے ادویاتی استعمالات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ اطبا کا کہنا ہے کہ جو لوگ شلجم زیادہ کھاتے ہیں ان کی بصارت کو تقویت ملتی ہے۔شلجم کو پکا کر بھی کھایا جاتا ہے اور کچی بھی استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ اس کا اچار بھی ڈالا جاتاہے۔ اسے سادہ حالت یعنی اکیلے شلجم یاپھر گوشت کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ اس کا اچار بہت لذیذ ہوتا ہے۔ شلجم میں قدرت نے بہت سے فوائد رکھے ہیں۔اس کی تین اقسام ہیں۔ گلابی،زرد اور سفید۔

اگر ان کا کیمیائی تجزیہ کیا جائے تو شلجم میں پروٹین، فاسفورس، کیلشیم اور وٹامن ایچ، سی اور فولاد پایا جاتا ہے۔ شلجم میں وٹامن سی اتنی ہوتی ہے کہ اگر شلجم کو وٹامن سی کا خزانہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔شلجم کے پتوں میں بھی غذائیت پائی جاتی ہے اور ان میں وٹامن اے پایا جاتا ہے۔یہ سبزی ہر عمر کے ہر فرد کے لیے مفید ہوتی ہے۔ شلجم کو سلاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ شلجم کا استعمال (خصوصاً بغیر گوشت کے) پیٹ کے متعدد امراض کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ قبض کشا ہے اور معدے سے غلاظتوں کو نکال دیتا ہے۔یہ جسم کو طاقتور بناتا ہے اور بدن کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ جگر کو بھی طاقت دیتا ہے بلکہ یونانی طب کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ قدرت نے شلجم میں جگر کی پتھری کو توڑنے کی صلاحیت رکھی ہے۔شلجم خشک کھانسی میں بے حد مفید ہے۔نہ صرف نیاخون پیدا کرتا ہے بلکہ مصفی خون بھی ہے۔شلجم کا استعمال بصارت کومضبوط کرتا ہے۔بھوک بڑھاتا ہے۔ جلدی امراض میں اس کا کھانا مفید ہے۔ یہ دوا اور غذادونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شلجم کے بیج شلجم سے اپنے افعال میں زیادہ فائدے مند ہوتے ہیں۔شلجم کھانے والوں کو کمر درد، درد گردہ اور کمر میں درد کبھی نہیں ہوتا۔

ایک دیگر تحقیق کے مطابق شلجم کے پتوں میں قوت زیادہ ہوتی ہے۔ قبض،کھانسی،ضعف بدن،ضعف بصارت سنگ گردہ ومثانہ میں ایک مناسب غذاہے۔ شلجم پر ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں اس کا ادویاتی مزاج بھی سامنے آگیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شلجم کھانے والے کینسر سے محفوظ رہتے ہیں.اس میں ہائی آکسیڈنٹس اورفیٹوکیمیکل ہوتے ہیں جو کینسر کے خطرات کم کرتے ہیں. شلجم میں وٹامن کے کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو دل کے مسلز کو مضبوط بنانے میں بڑا کام کرتے ہیں،اس سے ہارٹ اٹیک کے مواقع گھٹ جاتے ہیں اور کولیسٹرول کی مقدار نہیں بڑھتی۔گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ شلجم کارڈیوویسلز سسٹم کا محافظ ہے۔ اس میں چونکہ کیلشیم اور پوٹاشیم کی مقدار کافی ہوتی ہے، جس سے ہڈیوں کی مضبوطی اور افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کو ہڈیوں کی غذا بھی کہتے ہیں۔ شلجم کھانے والوں کو آسٹیوپروسس بھی نہیں ہوتا۔اگر ہوجائے تو اسکے اثرات کم ہوتے ہیں۔ شلجم وٹامنز کا خزانہ ہے۔اس میں وٹامن اے، سی اور ای کی بھی مقدار کافی ہوتی ہے، سگریٹ نوشوں کے لئے بھی شلجم انتہائی مفید ہے۔ سگریٹ نوشی سے جسم میں وٹامن اے کم ہو جاتا ہے جس سے سانس کی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ شلجم بطور سلاد کھانے والے سگریٹ نوشوں کے جسم میں وٹامن اے کی مقدار قائم رہتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والے امراض کی یکایک یلغار نہیں ہوتی۔لیکن یاد رکھیں!شلجم بلغم پیدا کرتاہے۔ مگر نمک لگا کر کھانے سے یہ عارضہ نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Back to top button