HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » Uncategorized » شوبز میں ہمیشہ گھر جیسا ماحول ملا: نوشین احمد

شوبز میں ہمیشہ گھر جیسا ماحول ملا: نوشین احمد

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

نامور ٹی وی آرٹسٹ کی ثاقب اسلم دہلوی سے گپ شپ

نوشین احمد پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی وہ خوش قسمت فنکارہ ہیں جنہوں نے آتے ہی ناظرین کو اپنی اداکاری کے سحر میں لے لیا۔ یہ سب ان میں موجود خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے ہے۔ اگر ڈرامہ انڈسٹری کی خوبصورت جوڑی کا ذکر کیا جائے تو بھی نوشین احمد اور ان کے شوہر اداکار احمد حسن کا نام سرفہرست نظر آئے گا۔ گزشتہ دنوں نوشین سے خصوصی ملاقات کا اہتمام ’’بساطِ دل‘‘ کے سیٹ پر کیا گیا۔ اس ملاقات میں اداکارہ سے ہونے والی گفتگو اپنے قارئین کی نذرکر رہے ہیں۔

سوال: آپ سب سے پہلے ہمیں اپنی شروعات کے حوالے سے کچھ بتائیں؟
نوشین احمد: میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے محسن مرزا جیسے باصلاحیت انسان کی ہدایت کاری میں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا جو انتہائی کامیاب رہا۔ اس وقت انہوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا جو آج بھی میرے کام آرہا ہے۔

سوال: آپ کا ابتدائی پروجیکٹ کون سا تھا؟
نوشین احمد: میرا پہلا پروجیکٹ ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ تھا جس کی کہانی تین بہنوں کے گرد گھومتی تھی۔ اس پروجیکٹ کے لئے آڈیشن کے بغیر ہی محسن مرزا نے میرا انتخاب کیا۔ انہوں نے میری صلاحیتیوں کو مجھ سے پہلے پرکھ لیا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مجھ سے جو کام لیا، اس میں میری صلاحیتوں کا جو اظہار ہو اس سے شاید میں خود بھی واقف نہیں تھی۔ دوسروں کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پرکھ لینے کا ہنر اللہ تعالیٰ کی ذات ہر کسی کو عطا نہیں کرتی لیکن محسن مزرا میں یہ سب موجود ہے۔

سوال: آپ کو شوبز میں آئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟
نوشین احمد: مجھے شوبز انڈسٹری سے منسلک ہوئے پانچ سال سے زائد کا عرصہ بیت چْکا ہے۔ میری خوش نصیبی یہ رہی کہ میرے پہلے پروجیکٹ سے لے کر اب تک کے تمام پروجیکٹس بہت زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ ان میں ’’رنگِ آشنائی‘‘، ’’ پیا کا گھر پیارا لگے‘‘،’’ کمبخت تنو‘‘، ’’بیگانگی‘‘ وغیرہ سرفہرست ہیں۔

سوال: آپ کی موجودہ مصروفیات کیا ہیں؟
نوشین احمد: میری حالیہ مصروفیات میں ’’بساطِ دل‘‘ کا پروجیکٹ شامل ہے۔ جسے ہمارے ملک کے لیجنڈ فنکار منورسعید کے صاحبزادے نامور ہدایت کار علی مسعود ڈائریکٹ کر رہے ہیں۔ ’’بساط دل‘‘ ایک نجی چینل کی زینت بن گیا ہے۔ یہ ایک مختلف اسکرپٹ پر مبنی اچھا پروجیکٹ ہے جس کی کہانی ایک غریب گھرانے کی ہے۔ اس میں میرے والد ایک شرابی انسان ہیں جنہیں اپنے گھر کی کوئی فکر یا پریشانی نہیں ہوتی۔ میرا ایک چھوٹا بھائی دل کا مریض ہے جس کے علاج تک کے لئے پیسے نہیں ہیں ہمارے پاس۔ ان تمام پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنے گھر کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھانے کا فیصلہ کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ اس پلے میں بہت کچھ ہے جس کا اندازہ آپ کو ڈرامہ دیکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔

سوال: شوبز میں یہ مقام حاصل کرنے کے لئے آپ کوکن مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟
نوشین احمد: (مْسکراتے ہوئے) اللہ پاک کا بہت شکر ہے کہ شروع سے لے کر اب تک اتنے اچھے لوگ ملے کہ کوئی پیش آیا ہی نہیں۔

سوال: جب آپ نے شوبز انڈسٹری میں آنے کا پروگرام بنایا تو گھر والوں کا کیا رد عمل تھا؟
نوشین احمد: جب میں نے گھر والوں سے ایکٹنگ کرنے کی اجازت مانگی تو وہ تھوڑا پریشان ہوئے کہ لوگ کیا کہیں گے، کیوں کہ ہماری فیملی میں دور دور تک کوئی اس شعبے سے وابستہ نہیں تھا۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں اس فیلڈ کے لئے زیادہ منفی خیالات کا ہی اظہار کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، یہ فیلڈ بہت اچھی ہے۔ مجھے یہاں بالکل فیملی جیسا ماحول ملا۔ جس ڈرامے میں بھی کام کیا اس کے ٹیم ممبرز نے میرے ساتھ انتہائی اچھا اور اپنے اہل خانہ والا رویہ اختیار کیا۔

سوال: شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی زندگی میں کیا فرق محسوس ہوا آپ کو؟
نوشین احمد: شادی سے پہلے ماں باپ کی سپورٹ تھی اور شادی کے بعد شوہر احمد کی سپورٹ حاصل ہے۔ احمد خود ایک بہترین اداکار ہیں۔ میں بتاتی چلوں کہ احمد کی اور میری امی کی ایک عادت ایک جیسی ہے۔ پہلے امی سے اسکرپٹ پر مشورہ لیتی تھی اور اب اس حوالے سے احمد مجھے مشورہ دیتے ہیں۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے احمد جیسا محبت کرنے والا جیون ساتھی ملا ہے۔

سوال: آپ بڑا مختصر کام کرتی ہیں۔ کیا اس حوالے سے احمد نے کوئی پابندی لگا رکھی ہے؟
نوشین احمد: میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرنے کو ترجیح دیتی ہوں تاکہ کام کو بہترین طریقے سے کر کے اس سے محظوظ ہو سکوں اور معیار بھی برقرار رکھ سکوں۔

سوال: فلم میں کام کرنے کی کوئی پلاننگ یا ارادہ ہے آپ کا؟
نوشین احمد: مجھے شان کے ساتھ ایک فلم کی آفر ہوئی تھی۔ میرے سکرپٹ میں صرف ایک سین ایسا تھا جو میرے مزاج پر پورا نہیں اترتا تھا۔ اس وجہ سے میں نے اس فلم میں کام کرنے سے معذرت کر لی تھی کیونکہ میں معیار پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کر سکتی۔

سوال: ڈرامے کے حوالے سے پہلے دور اور آج کے دور میں آپ کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟
نوشین احمد: جب میں نے ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تب کام لوگوں کو قسمت سے ملاکرتا تھا مگر آج لاتعداد پروڈکشن ہائوسز ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار چینلز بھی ہیں، جس کی وجہ سے کام آسانی سے مل جاتا ہے۔

سوال: کیا آپ کو ناکامی سے ڈر لگتا ہے؟
نوشین احمد: ہنستے ہوئے ناکامیاں تو ان کے لئے ہوتی ہیں جن کے حوصلے مضبوط نہ ہوں، ہر آنے والا لمحہ کچھ نہ کچھ نیا لے کر آتا ہے۔ حقیقت میں سب کا اصل استاد وقت ہے جو کچھ یہ سکھا جاتا ہے وہ ہمیں کوئی نہیں سکھا پاتا۔ میں ہر پل نئی نئی چیزیں تلاش کرنا پسند کرتی ہوں۔ جہاں تک ناکامی سے ڈرنے کی بات ہے تو ایسی کوئی بات نہیں، بس انسان کو محتاط رہ کر منصوبہ بندی سے کام کرنا چاہئے۔

سوال : کیا آپ ہدایت کار کے کام میں نقص نکالتی ہیں؟
نوشین احمد: میں اپنے ہدایت کار کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرتی ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے جس کا جو کام ہوتا ہے وہی اسے بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔

سوال: لوگ سمجھتے ہیں ایکٹر ایکٹینگ کرکے نام اور پیسہ کماتا ہے جو بہت آسان ہیں، آپ اس بارے میں کیا کہیں گی؟
نوشین احمد: اگر یہ فیلڈ اتنی آسان ہوتی تو آج ہر کوئی ایکٹر ہوتا، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، یہ تو آپ بھی جانتے ہیں۔

سوال: کیا آپ کا پروڈکشن ہائوس کھولنے کا بھی ارادہ ہے؟
نوشین احمد: میں پروڈکشن ہائوس کھولنے کا قطعی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ ایک مشکل کام ہے، میری گھریلو مصروفیات بھی ہیں، اس لئے مجھے لگتا ہے کہ شاید میں یہ نہ کر سکوں۔

سوال: آپ اپنے چاہنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
نوشین احمد : آج ہمیں خود سے زیادہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے اہم کردار اداکرنے کی ضرورت ہے۔ میں اپنے ان تمام فینزکی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے محبتوں سے نوازا اور میرے کام کو سراہا۔

جواب دیجئے