اقبال ورومی

شہرِمحبوب اورعاشق

ایک معشوق نے اپنے عاشق سے پوچھا کہ تم نے تلاش محبوب میں سینکڑوں شہروں کی خاک چھانی ہے بتاؤ کہ تمہیں کون سا شہر پسند ہے؟
عاشق نے جواب دیا ”جس شہر میں تم رہتے ہو“
ہر کجا یوسف رخے باشد چو ماہ!
جنت است آں گرچہ باشد قعرچاہ
جہاں چاند جیسا خوبصورت یوسف ہو وہ جگہ چاہے کنواں ہی کیوں نہ ہو وہ جنت ہے۔
یا تو دوزخ جنت است اے جانفزا
یا تو زنداں گلشن است اے دل ریا
اے جاں فزا تمہارے ساتھ دوزخ بھی جنت ہے تمہارے ساتھ قید خانہ گلشن ہے۔
ہر کجا تو مامنی من خوش و لم
در بود در قعر گورے منزلم
میری منزل اگرچہ قبر کی گہرائی ہی کیوں نہ ہو، اگر تو میرے ساتھ ہو تو میں مسرور ہوں۔
خوشتر از ہر دو جہاں آں جا بود
کہ مرا با تو سرو سودا بود
دونوں جہاں میں وہ جگہ سب سے بہتر ہے جہاں مجھے تیرے ساتھ محبت کا قیام ہو۔
مقصد بیان
1- جہاں قرآن جیسی روشن کتاب کا آئین نافذ ہو وہاں چاہے دنیوی سامان ہائے راحت نہ بھی ہوں جنت ہے۔
2- خدا کے ساتھ تعلق ہو تو مصائب و آلام بھی اسے انعام نظر آتے ہیں۔
3- مسلمان اگر غریب و افلاس کی گہری قبر میں بھی کیوں نہ ہو۔ حضور ؐکی محبت ساتھ ہے تو وہ خوش نصیب ہے۔
4- سارے شہروں میں وہ شہر سب سے بہتر ہے جہاں محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ہے یعنی مدینہ شریف:
نہ جنت نہ جنت کی کلیوں میں دیکھا
مزہ جو مدینے کی گلیوں میں دیکھا
ماخذ: مثنوی کی حکایات، مترجم: مولانا ابوالنور محمد بشیر

Leave a Reply

Back to top button