سپیشل

شہر قائد کے دو تاریخی ریلوے اسٹیشنز…… مقبول خان

سٹی اسٹیشن اور کینٹ اسٹیشن کراچی کے دو بڑے قدیم اور تاریخی اہمیت کے حامل ریلوے اسٹیشن ہیں۔ یہ دونوں ریلوے اسٹیشنز زمانہ قدیم سے کراچی میں مواصلاتی شعبے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ دونوں ریلوے اسٹیشنز قدیم کراچی سے آج کے کراچی کی ترقی، اس کی سیاسی و سماجی، تجارتی اور مذہبی سرگرمیوں کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔ یہ دونوں ریلوے اسٹیشنز اسٹیم ریلوے انجنوں سے لے کر جدید ریلوے انجنوں اور پاکستان میں ریلوے کے ارتقاء کی داستان کے امین بھی ہیں۔ ان دونوں ریلوے اسٹیشنوں کی وسیع مگر قدیم عمارتیں بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، اور شہر کے ثقافتی ورثہ میں بھی شامل ہیں۔ ملک کے بالائی حصوں سے آنے والی ٹرینوں کیلئے کینٹ اور سٹی آخری ریلوے اسٹیشن ہیں۔ دنیا بھر کے دیگر ریلوے اسٹیشنوں کی طرح کراچی کے کینٹ اور سٹی ریلوے اسٹیشن بھی کئی لوگوں کو ملاتے ہیں، تو کئی لوگوں کے بچھڑنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد مزید ریلوے اسٹیشنز قائم کئے گئے، جن میں کینٹ اسٹیشن کے فوری بعد، چنیسر ہالٹ، ڈرگ روڈ، ملیر ہالٹ، ملیر سٹی اور لانڈھی وغیرہ شامل ہیں، لیکن یہ اسٹیشن لوکل ٹرینوں کے لئے قائم کئے گئے تھے۔ جبکہ ڈرگ روڈ اور لانڈھی کے ریلوے اسٹیشنوں پر کچھ ایکسپریس ٹرینیں بھی اسٹاپ کرتی ہیں۔ یہ دونوں ریلوے اسٹیشنز قدیم ہونے کے ساتھ سفر اور سامان کی تمام جدید سہولتوں سے آراستہ ہیں۔
دنیا کے دیگر ریلوے اسٹیشنوں کی طرح یہ دونوں ریلوے اسٹیشن منفرد سماجی، ثقافتی اور معاشی سرگرمیوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں۔ یہاں کی سرگرمیوں کو نہ صرف فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں عکسبند کیا جاتا رہا ہے، بلکہ ریلوے اسٹیشنز متعدد کہانیوں اور ناولوں کے موضوع بھی بنے ہیں، سابق مشرقی پاکستان کی فلم ”آخری اسٹیشن“ کی کہانی جسے ہاجرہ مسرور نے تحریر کیا تھا، ایک ریلوے اسٹیشن اور اس کے مختلف کرداروں کے گرد گھومتی ہے، اسی طرح پاکستان اور بھارت میں ریلوے اسٹیشن کے ایک مستقل اور اہم کردار قلی کے نام سے بھی فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں، جن میں ریلوے اسٹیشنوں پر ہونے والی منفی اور مثبت سرگرمیوں کو پیش کیا گیا ہے۔
کینٹ اسٹیشن
کینٹ اسٹیشن کینٹ اسٹیشن کراچی کا ایک اہم ریلوے اسٹیشن ہے، اسے کراچی کینٹ اور کراچی چھاؤنی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صدر کے علاقے میں داؤد پوتا روڈ پر واقع ہے جب کہ اس کے ایک طرف کلفٹن اور مشرق کی جانب ڈیفنس کے پوش علاقے واقع ہیں۔ یہ پہلے فریئر اسٹریٹ ریلوے اسٹیشن کہلاتا تھا۔ اس اسٹیشن کی تعمیر کا آغاز 1896ء میں ہوا تھا جبکہ یہ 1898ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کی مجموعی لاگت 80 ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔ کینٹ اسٹیشن کی موجودہ عمارت کو سندھ حکومت کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ تعمیراتی ماہرین کے مطابق کینٹ اسٹیشن کی عمارت رومن اور اطالوی طرز تعمیر کا ایک تاریخی نمونہ ہے۔ اس کا مرکزی دروازہ رومن گوئتھک طرز تعمیر کا شاہکار ہے، اس کے ستون اطالوی طرز پر تعمیر کئے گئے ہیں۔ کینٹ اسٹیشن کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی سے تجارت کے فروغ کے لئے 1859ء میں کینٹ اسٹیشن تا کیماڑی کی بندرگاہ تک ریلوے لائن نصب کرائی گئی تھی۔ جس کے ذریعے بیرون ملک سے درآمد کیا جانے والا سامان کینٹ اسٹیشن تک لایا جاتا تھا، اور درآمد کیا جانے والا سامان یہاں سے بندرگاہ تک لے جایا جاتا تھا۔ اس کے پلیٹ فارموں کی تعداد 5 ہے، جب کہ ٹریک کی تعداد 8ہے، کینٹ ریلوے اسٹیشن سے پشاور تک جبکہ ایک لائن سرکلر ریلوے کی بھی نصب ہے۔ کراچی کینٹ کا ریلوے اسٹیشن مسافر ٹرینوں کی آمد ورفت کے حوالے سے سٹی اسٹیشن سے زیادہ مصروف اسٹیشن ہے۔ یہ اسٹیشن وزارت ریلوے کی ملکیت ہے۔ کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہونے والی مسافر ٹرینوں میں علامہ اقبال ایکسپریس، عوام ایکسپریس، گرین لاین ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس، خیبر میل، ملت ایکسپریس، نائٹ کوچ، پاک بزنس ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس، تیزگام اور تھر ایکسپریس شامل ہے، اس کے علاوہ دو لوکل ٹرینیں بھی کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوتی ہیں۔
سٹی اسٹیشن
سٹی اسٹیشن کراچی کا دوسرا بڑا اسٹیشن ہے، یہ حبیب بینک پلازا سے ملحق آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے۔ یہ پاکستان ریلویز کراچی ڈویژن کا ہیڈ آفس بھی ہے، قیام پاکستان کے بعد کراچی کی آبادی میں بڑھتے ہوئے اضافہ کے ساتھ مسافر ٹرینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے سٹی اسٹیشن کے پلیٹ فارموں پر ٹرینیں کھڑی کرنے کی گنجائش میں کمی کی وجہ سے بیشتر ٹرینوں کو کینٹ اسٹیشن پر منتقل کر دیا گیا۔ سٹی اسٹیشن کو پاکستان کا قدیم ترین اسٹیشن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، اسے ماضی میں میکلوڈ ریلوے اسٹیشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ یہ ریلوے اسٹیشن اب سے164سال قبل1855ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اور یہاں سے کوٹری تک 174کلومیٹر طویل ریلوے پٹری کو نصب کیا گیا تھا۔ یہ کام 1858 ء میں پایہ تکمیل تل پہنچا تھا۔ یہ ریلوے لائن ایسٹ انڈیا کمپنی اور سندھ ریلوے کمپنی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت نصب کی گئی تھی۔ سٹی اسٹیشن کو عوام کے لئے 13مئی 1861ء کو کھولا گیا تھا۔اس وقت یہ اسٹیشن اسکنڈے ریلویز کا آخری ریلوے اسٹیشن تھا۔ اس وقت سٹی اسٹیشن پاکستان ریلویز کی ملکیت ہے۔ چار پلیٹ فارموں پر مشتمل آج کا سٹی اسٹیشن جدید سہولتوں سے آراستہ ہے، یہاں روانہ ہونے والی ٹرینوں کے ٹکٹ کی دستیابی کے ساتھ سفر کے لئے پیشگی ٹکٹوں کی بکنگ بھی کرائی جاتی ہے۔ یہاں سے اس وقت 6 مسافر ٹرینیں بہاؤالدین زکریا ایکسپریس، بولان میل، فرید ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، خوشحال خٹک ایکسپریس، اور سکھر ایکسپریس کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ یہاں سے ایک لوکل ٹرین بھی دھابیجی تک کے لئے روانہ ہوتی ہے۔ سٹی اسٹیشن پر یہاں سے پشاور تک اور سرکلر ریلوے کی لائنیں نصب ہیں علاوہ ازیں یہاں کارگو اور پارسل کی سہولیات بھی دستیاب ہیں جب کہ اس کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر اشیاء خورونوش کے اسٹال بھی ہیں۔ یہاں سے دو مال گاڑیاں بھی روانہ ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button