شخصیات

شہیدِ جمہوریت، محترمہ بینظیر بھٹو

زکریا رائے

زکریا رائے
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی کی ابھی 25 بہاریں ہی دیکھی تھی کہ ان کے گھر ایک ایسی شخصیت کا جنم ہوا جسے تاریخ میں سہنری الفاظ کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جاتا رہے گا۔ ایسی شخصیت جس سے بابا کو سب سے زیادہ پیار تھا، جس کی تعلیم و تربیت میں بابا نے کوئی کسر نا چھوڑی۔ بھٹو ایک انسان شناس شخصیت تھے اس لئے انہوں نے شروع دن سے ہی پہچان لیا تھا کہ ان کی بیٹی ان کا نام خوب روشن کرے گی۔

بے نظیر 21 جون 1953ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئیں، 1969ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، 1973ء میں سیاسیات میں گریجوایش مکمل کی اور بعد میں فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات میں ایم اے کیا۔ 24 سال کی عمر میں سیاست کے خار زار میں قدم رکھا، وہ اپنے آپ کو ملکی خارجہ امور میں زیادہ ماہر سمجھتی تھی۔

1977ء میں جب ملک واپس لوٹیں تو ضیاء الحق کی ڈکٹیٹر شپ اپنے عروج پر تھی، ضیاء الحق کی طرف سے محترمہ کو نظر بندی کا تحفہ دیا۔ اپریل 1979ء میں پاکستان اور اسلامی دنیا کے عظیم رہنماء ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کروا دیا گیا۔1981ء میں حکومت کی طرف سے مارشل لاء کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تو جہوریت کی بحالی کے لئے ایم آر ڈی کے نام سے ایک اتحاد بنایا گیا۔ 14اگست 1983سے ملک بھر میں جمہوری عمل کی بحالی کے لیے زبردست تحریک چلائی گئی، محترمہ چونکہ نظر بند تھیں، اس لئے اس تحریک کی قیادت مصطفیٰ کھر نے کی۔ حالات سے تنگ آ کر 1984ء میں حکومت نے بے نظیر کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا، مختلف حربے استعمال کر کے محترمہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

انہوں نے دو سال برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اپریل 1986ء میں وطن واپسی کا اعلان کیا، زندہ دلانِِ لاہور نے آمریت کی تمام تر سختیوں کے باوجود اپنی قائد کا فقید المثال استقبال کیا۔ محترمہ کی مخلص قیادت میں ہر آنے والا دن جمہوریت کی نوید سناتا۔

17اگست 1988ء کو ضیاء الحق کے جہاز کو حادثہ پیش آیا، بہاولپور کی فضاؤں میں ضیاء الحق جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ 16نومبر 1988ء کو ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور پی پی نے اکثریت حاصل کی۔ 35 سال کی عمر میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ محترمہ کی انتخابات میں فتح نے اس بات کی نشاندہی کر دی کہ عوام نے جمہوریت کے حق میں ووٹ دے دیا ہے اور وہ بینظیر کی قائدانہ صلاحیتوں پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔

آمریت کا تو خاتمہ ہو چکا تھا مگر باقیات ابھی بھی اپنا اثر دکھا رہی تھیں۔ صدر غلام اسحاق خان نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اٹھارہ ماہ کی قلیل مدت کے بعد محترمہ کی حکومت برخاست کر دی۔ اکتوبر 1990ء میں دوبارہ الیکشن ہوئے تو محترمہ کے خلاف اخلاقیات سے گری ہوئی زبان استعمال کی گئی، مگر انہوں نے کبھی ذاتیات پر بات نہ کی۔ محترمہ کو قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا پڑا جو انہوں نے بخوبی سر انجام دیا۔ اکتوبر 1993ء کے انتخابات کے نتائج میں محترمہ نے دوسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا مگر مسلسل غیریقینی کیفیت کے سائے لمبے ہوتے رہے۔ اس بار محترمہ کی حکومت کو کسی اور نے نہیں بلکہ اپنے ہی منتخب کردہ صدر، فاروق لغاری نے 58(2)b کا نشانہ بنا دیا۔

محترمہ نے دونوں ادھورے ادوار حکومت میں اپنے کچھ وعدے پورے کیے اور کچھ پورے کرنے کا انہیں موقع ہی نہ دیا گیا۔ انہوں نے کئی نئے پرائمری اور مڈل سکول تعمیر کروائے، خواتین کو بطور جج تعینات کروایا، خواتین کے لیے پولیس اسٹیشن اور مخصوص بنک قائم کیے، انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے، مزدور اور طلبہ یونینز بحال کیں، ملک میں میزائل ٹیکنالوجی کی فراہمی اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی فضا ہمیشہ خوش گوار رکھی۔ ہندوستان کے ساتھ ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی، مسئلہ کشمیر کو اپنے دونوں ادوار میں بین الاقوامی اور قومی سطح پر اُجاگر کیے رکھا، بے نظیر کے دور میں ہی پاکستان دولتِ مشترکہ کا دوبارہ رکن بنا۔

محترمہ نے لندن میں نواز شریف سے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، جس کا مطلب تھا کہ آئندہ سے ایک دوسرے کی حکومت نہیں گرائی جائے گی۔ عوامی مینڈیٹ کا مکمل طور پر احترام کیا جائے گا۔ محترمہ اکتوبر2007ء میں جلا وطنی کاٹ کر وطن واپس آئیں تو کراچی میں ایک جم غفیر ان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھا۔ محترم نے ایک بیان میں خود کہا تھا کہ مجھے نہیں پتا میرا پاکستان میں کس طرح کا اسقبال کیا جائے گا، معلوم نہیں لوگ ڈکٹیٹر کے رعب و دبدبہ میں آ جائیں مگر جونہی میں نے کراچی آئیر پورٹ پر نظر دوڑائی تو لاکھوں پاکستانی میرے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔

جب محترمہ کے قدم پاکستان کی دھرتی پر پڑے، ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے، انہیں قرآن کے سائے میں لایا گیا۔ یہ واضح پیغام تھا کہ عوام اب حقیقی جمہوریت کے قائل ہو چکے ہیں۔ آئیر پورٹ سے قافلہ جب مزار قائد پر حاضری کے لیے جا رہا تھا تو اچانک دھماکے ہوئے، تقریباً 170افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ اصل میں جمہوریت دشمن قوتیں محترمہ کو واپس جانے پر مجبور کرنا چاہتی تھیں۔ ان کے غیر متزلزل عزم میں لرزش لانا چاہتی تھیں مگر یہ قوتیں بُری طرح ناکام ہوئیں۔

محترمہ کو پیغام بھیجا گیا کہ آپ کی سکیورٹی کا انحصار مشرف کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر ہو گا، انہیں مشورہ دیا گیا کہ آپ واپس چلی جائیں، ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں مگر محترمہ کا ہمیشہ یہی جواب تھا کہ کب تک حالات کے ٹھیک ہونے کا انتظار کیا جائے، آخر کسی کو تو میدان میں اُترنا ہے۔ عوام میری طرف دیکھ رہے ہیں، ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ہمیں ابھی تعلیم پر بہت کام کرنا ہے۔

ملک اور عوام دشمن عناصر ہر وقت عوامی لیڈر کے تعاقب میں تھے مگر وہ موت سے کب ڈرتی تھیں۔ پھر 27 دسمبر 2007ء کا دن آیا جب محترمہ راولپنڈی لیاقت باغ میں پہنچیں، لاکھوں عوام اپنی محبوب لیڈر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آئے تھے۔ محترمہ کا چہرہ عوامی شعور دیکھ کر چمک رہا تھا، وہ عوامی نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دے رہی تھیں۔ آخری تقریر میں انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ میری زندگی کو شدید خطرات ہیں مگر عوام کو اس وقت میری ضرورت ہے۔کامیاب جلسہ کے بعد لیاقت باغ سے رخصت ہو رہی تھیں، عوام نعرے لگا رہے تھے، محترمہ گاڑی سے باہر نکل کر جیالوں کے نعروں کا جواب دینے لگیں، اتنے میں ان پر فائرنگ ہوئی، وہ نیچے گاڑی میں بیٹھی ہی تھیں کہ خود کش حملہ آور نے گاڑی کے قریب اپنے آپ کو اُڑا دیا۔

محترمہ کو راولپنڈی ہسپتال میں لایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہیں۔ پورے ملک میں کہرام مچ گیا، ہر چہرہ اداس تھا، ہر آنکھ نم تھی، عوام گلیوں میں نکل کر دھاڑیں مار رہے تھے، چاروں صوبوں کی زنجیر اب ٹوٹ چکی تھی۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا چھوڑ چکی تھی۔ شہید محترمہ بے نظیر نے جمہوریت کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا مگر جمہوری حکومتیں اب تک ان کے قتل کا معمہ حل نہیں کر سکیں۔

Leave a Reply

Back to top button