سیاحت

شیخ حماد جمالیؒ کا مدرسہ اور اس کے مٹتے ہوئے آثار…… محمد صفدر ٹھٹوی

شیخ حماد جمالی سمہ دور کے معروف بزرگ تھے۔ ان کے مدرسے میں ایک ہی وقت میں ایک ہزار شاگردوں کو درس دیا جاتا تھا۔ آپ کا مدرسہ اُس دور میں سلوک و معرفت اور علوم ظاہری کی تعلیم کا مرکز تھا۔ آپؒ کی عادت تھی کہ آپ حجرے میں تشریف رکھتے اور طالب علم وسالکان راہ ہدایت و طریقت، تدریس اور باطنی فیوض کے حصول کے لئے حجرے کے گرد جمع ہو جاتے، آپؒ وہیں سے حقائق ومعارف کے دریا بہاتے ۔ روزانہ آپؒ سے اکتساب علم کرنے والوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر کے لاکھوں تک جا پہنچی۔ کتاب حدیقتہ الاولیاء میں ہے کہ آپؒ سے علم پانے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی جو آپؒ کی مجلسِ شمع دل افروز سے مسائل علوم کا اقتباس کرتے تھے۔
مولانا شیخ حماد جمالی بن شیخ رشید الدینؒ کا اصل تعلق اُچ شریف سے تھا۔ آپؒ ملتان کے مشہور بزرگ قدوۃ الواصلین شیخ جمال کے پوتے تھے۔ یہ شاگردوں کو اپنی گفتگو اور قلبی کشف کے ذریعے ظاہری و باطنی تعلیم دیتے تھے۔
شیخ حماد جمالی کا مدرسہ سندھ کی قدیم علمی درسگاہوں میں سے ایک ہے۔ مکلی کے قدیم تاریخی آثار آج معدوم ہونے کی راہ پر ہیں۔ اس عظیم درسگاہ کی عمارت اب خستہ حالی کا شکار ہے جو کبھی فن تعمیر کا شاہکار سمجھی جاتی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ شاندار عمارت اب زمین بوس ہو چکی ہے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ نہ صرف شیخ حماد جمالی ؒ کے مدرسے بلکہ مکلی کے آثارِقدیمہ کے تمام اثاثے کو محفوظ کیا جائے تاکہ تاریخ کا یہ اہم حوالہ آنے والی نسلوں کے کام آ سکے۔

Leave a Reply

Back to top button