ادبافسانہسعادت حسن منٹو

صاحب کرامات

صاحب کرامات سادہ دل افراد کو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دھوکہ دینے اور بیوقوف بنانے کی کہانی ہے۔ ایک عیار آدمی پیر بن کر موجو کا استحصال کرتا ہے۔ شراب کے نشے میں دھت اس پیر کو کراماتی بزرگ سمجھ کر موجو کی بیٹی اور بیوی اس کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ موجو کے جہالت کی حد یہ ہے کہ اس پیر کی مصنوعی داڑھی تکیہ کے نیچے ملنے کے بعد اس کی چالبازی کو سمجھنے کے بجائے اسے کرامت سمجھتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

چودھری موجو بوڑھے برگد کی گھنی چھاؤں کے نیچے کھّری چارپائی پر بڑے اطمینان سے بیٹھا اپنا چموڑا پی رہا تھا۔ دھوئیں کے ہلکے ہلکے بقے اس کے منہ سے نکلتے تھے اور دوپہر کی ٹھہری ہوئی ہوا میں ہولے ہولے گم ہو جاتے تھے۔

وہ صبح سے اپنے چھوٹے سے کھیت میں ہل چلاتا رہا تھا اور اب تھک گیا تھا۔ دھوپ اس قدر تیز تھی کہ چیل بھی اپنا انڈا چھوڑ دے مگر اب وہ اطمینان سے بیٹھا اپنے چموڑے کا مزہ لے رہا تھا جو چٹکیوں میں اس کی تھکن دور کردیتا تھا۔اس کا پسینہ خشک ہوگیا تھا۔ اس لیے ٹھہری ہوا اسے کوئی ٹھنڈک نہیں پہنچا رہی تھی مگر چموڑے کا ٹھنڈا ٹھنڈا لذیذ دھواں اس کے دل و دماغ میں ناقابل بیان سرور کی لہریں پیدا کررہا تھا۔

اب وقت ہو چکا تھا کہ گھر سے اس کی اکلوتی لڑکی جیناں روٹی لسی لے کر آجائے۔ وہ ٹھیک وقت پر پہنچ جاتی تھی۔ حالانکہ گھر میں اس کا ہاتھ بٹانے والا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کی ماں تھی جس کو دو سال ہوئے موجو نے ایک طویل جھگڑے کے بعد انتہائی غصے میں طلاق دے دی تھی۔ اس کی جوان اکلوتی بیٹی جیناں بڑی فرماں بردار لڑکی تھی۔ وہ اپنے باپ کا بہت خیال رکھتی تھی۔ گھر کا کاج جو اتنا زیادہ نہیں تھا، بڑی مستعدی سے کرتی تھی کہ جو خالی وقت ملے اس میں چرخہ چلائے اور پونیاں کاتے۔ یا اپنی سہیلیوں کے ساتھ جو گنتی کی تھیں ادھر ادھر کی خوش گپیوں میں گزاردے۔

چوہدری موجو کی زمین واجبی تھی مگر اس کے گزارے کے لیے کافی تھی۔ گاؤں بہت چھوٹا تھا۔ ایک دور افتادہ جگہ پر جہاں سے ریل کا گزر نہیں تھا، ایک کچی سڑک تھی جو اسے دورایک بڑے گاؤں کے ساتھ ملاتی تھی۔ چوہدری موجو ہر مہینے دو مرتبہ اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر اس گاؤں میں جاتا تھا۔ جس میں دو تین دکانیں تھیں اور ضرورت کی چیزیں لے آتا تھا۔

پہلے وہ بہت خوش تھا۔ اس کو کوئی غم نہیں تھا۔ دو تین برس اس کو اس خیال نے البتہ ضرور ستایا تھا کہ اس کے کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوتی، مگر پھر وہ یہ سوچ کر شاکر ہوگیا کہ جو اللہ کو منظو ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔۔۔ مگر اب جس دن سے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر میکے رخصت کردیا تھا۔ اس کی زندگی سوکھا ہوا نیچہ سی بن کے رہ گئی تھی۔ ساری طراوت جیسے اس کی بیوی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

چوہدری موجو مذہبی آدمی تھا۔ حالانکہ اسے اپنے مذہب کے متعلق صرف دو تین چیزوں ہی کا پتہ تھا کہ خدا ایک ہے جس کی پرستش لازمی ہے۔ محمدؐ اس کے رسول ہیں، جن کے احکام ماننا فرض ہے اور قرآن پاک خدا کا کلام ہے جو محمدؐ پر نازل ہوا اور بس۔نماز روزے سے وہ بے نیاز تھا۔ گاؤں بہت چھوٹا تھا جس میں کوئی مسجد نہیں تھی۔ دس پندرہ گھر تھے۔ وہ بھی ایک دوسرے سے دور دور۔ لوگ اللہ اللہ کرتے تھے۔ ان کے دل میں اس ذات پاک کا خوف تھا مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ قریب قریب ہر گھر میں قرآن موجود تھامگر پڑھنا کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ سب نے اسے احتراماً جزدان میں لپیٹ کر کسی اونچے طاق میں رکھ چھوڑا تھا۔ اس کی ضرورت صرف اسی وقت پیش آتی تھی جب کسی سے کوئی سچی بات کہلوانی ہوتی تھی یا کسی کام کے لیے حلف اٹھانا ہوتا تھا۔

1 2 3 4 5 6 7 8 9اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button