ادبمکالمہ

صحافتی تحریریں ادب کا درجہ حاصل نہیں کرسکتیں:رئیس فاطمہ‘ قاضی محمد اخترجوناگڑھی

کراچی کے صحافتی اور ادبی حلقوں میں قاضی محمد اختر جونا گڑھی اور رئیس فاطمہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ قاضی محمد اختر جونا گڑھی کی وجہ شہرت ان کا صحافتی سفر‘ سفرنامہ نگاری اور ادبی مضامین ہیں جبکہ رئیس فاطمہ اپنی افسانہ نگاری‘ تنقیدی مضامین اور کالم نگاری کے سبب ادبی اور صحافتی حلقوں میں پہچانی جاتی ہیں۔
قاضی محمد اختر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 8جون 1943ء کو جوناگڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسر قاضی احمد میاں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد دسمبر 48ء میں ہم کراچی آگئے۔ 54ء میں والدہ کا اور 55ء میں والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ہم سات بہن بھائی تھے۔ بھائیوں میں سب سے بڑا میں تھا لہذا ذمہ داری کا مظاہرہ بھی مجھے کرنا پڑا۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی پھر شعبہ صحافت سے وابستہ ہوگیا۔ صحافت سے وابستگی کے دوران ہی ادبی حوالے سے تنقیدی مضامین لکھتا رہا۔ پھر بھارت جانے کا اتفاق ہوا تو اس سفر کا احوال سفرنامے کی صورت میں قلم بند کردیا۔ اب تک میری دو کتابیں آج کا بھارت اور تنقیدی مضامین’’درامکان‘‘ شائع ہوچکی ہیں۔
رئیس فاطمہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پیدائش 1946ء الٰہ آباد کی ہے۔ پھر کراچی منتقل ہوگئے۔ ابتدائی تعلیم سینٹ زیویئر سے حاصل کی۔ 1970ء میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر کیا۔ میرے والد صاحب میرا پڑھنے لکھنے کا شوق دیکھتے ہوئے مختلف جرائد لاکر دیا کرتے تھے جن میں بچوں کے حوالے سے مختلف جرائد ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ مختلف اخبارات کا مطالعہ بھی کرتی تھی۔ پھر مضمون نگاری کے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا۔ کالم نگاری میں نے کراچی کے معروف اخبار سے شروع کی۔ انٹر میں تھی کہ افسانے بھی لکھنے شروع کردیئے۔ پھر کالج میگزین کی ایڈیٹر منتخب ہوئی۔ کالج کی دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ 66ء میں میرا پہلا افسانہ اخبار خواتین میں شائع ہوا۔ پہلی ملازمت جامعہ ملیہ کالج میں کی۔ ریڈیوکیلئے پروگرام کئے۔ ریڈیو اور ٹی وی کیلئے لکھا بھی۔ ٹی وی پر قاسم جلالی‘ تاجدار عادل‘ اقبال لطیف اور کاظم پاشا کے ساتھ کام کیا۔ اب تک میری 12کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں گلاب زخموں کے‘ موسم اداسیوں کے‘ آنسوؤں کے درمیان دریچے‘ آدھا آسمان‘ زرد چنبیلی کی خوشبو‘ میرے خوابوں کی سرزمین‘ خواب نگر کی گلیاں‘ درد کی پازیب‘ قرۃ العین کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ اور دیگر کتابیں شامل ہیں۔ بچوں کیلئے بے شمار کہانیاں لکھیں۔ میری شاعری دو تین نظموں سے آگے نہ جاسکی۔
رئیس فاطمہ کا کہنا ہے کہ ان دنوں کالم نگاری کے حوالے سے خاصی مصروفیت ہے۔ اس حوالے سے ردعمل ساتھ ساتھ ملتا رہتا ہے۔ میرے کالم خبروں کے ردعمل کے علاوہ سماجی زندگی کے مشاہدے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کالم لکھنا بھی محنت طلب کام ہے۔ کالم کبھی افسانے‘ ناول کی طرح ادب کا حصہ نہیں بن سکتے بلکہ یہ کہوں گی کہ گو کہ صحافت بھی لکھنے پڑھنے کا عمل ہے مگر صحافتی تحریریں ادب کا درجہ حاصل نہیں کرسکتیں۔ صحافت میں ادب والی سوفٹنس نہیں آسکتی۔ مجھے موسیقی سننے کی حد تک اچھی لگتی ہے۔
جب ہم نے شادی کے حوالے سے سوال کیا تو قاضی صاحب نے کہا کہ میرا انجمن ترقی ادب کے دفتر آنا جانا تھا۔ وہیں رئیس فاطمہ بھی آتی تھیں۔ میں ان کی شخصیت سے متاثر تھا مگر اظہار کرنے سے ڈرتا تھا کیونکہ یہ ذرا سخت مزاج تھیں۔ اسی طرح دو سال گزر گئے آخر ایک دن جی کڑا کرکے میں نے اظہار کردیا۔ پہلے تو حسب توقع سخت ردعمل آیا مگر بعد میں قبولیت ہوگئی۔ اس طرح گھر والوں کی رضامندی سے شادی ہوگئی۔
رئیس فاطمہ کا کہنا ہے کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے شوہر کی سپورٹ کی وجہ سے ہوں۔

Leave a Reply

Back to top button