سچی کہانیاں

صرف بالغوں کے لئے تحریر کی گئی سچی کہانی

’’دیکھ بی بی میں تیار ہوں مگر گاؤں والوں کو یہ نہیں بتا سکتا کہ تو چڑیل ہے، تو مجھے تیرا کوئی انسانوں والا نام رکھنا ہو گا۔

نبیلہ کامرانی

Related Articles

دور قدیم کی بات ہے، فتح محمد نام کا ایک گورکن مکلی کے قبرستان میں رہتا تھا۔ تب سمّا حکمرانوں کی سندھ میں سلطنت قائم تھی۔ آس پڑوس کے حکمرانوں کے دل سمّا حکمرانوں کے جلال سے کانپتے تھے۔ قبرستان میں بڑے بڑے مقابر تعمیر ہوتے اور فتح محمد (جسے سب برفی کہتے تھے) ان میں مزدوری کیا کرتا۔ مگر عام طور پر تو وہ غریب غرباء کی ہی قبریں تعمیر کیا کرتا۔

برفی کا مکان قبرستان میں ہی تھا۔ اس کی جھونپڑی میں اس کی بیوی اور دو درجن بچے بھی رہتے تھے۔ برفی اپنی حالت سے تنگ تھا۔ اسے اپنے وجود سے کافور کی مہک آتی۔ اکثر اسے لگتا کہ وہ بھی ایک لاش ہے۔ اس کے گھر کے پاس قریب کوئی گھر نہ تھا۔ آس پاس بس قبریں ہی قبریں تھیں۔ تھوڑی دور بڑے بڑے شاندار مقبرے تھے۔اس کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر ایک پرانا کنواں تھا، وہ کنواں زمانوں قبل سوکھ چکا تھا۔ ایک روز فتح برفی اس کنویں کے پاس بیٹھا تھا کہ اسے اشرفیوں کی چھنکار سنائی دی۔

اس نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا، پھر اپنے کانوں کا خلل سمجھ کر اس بات کو نظر انداز کر دیا۔ مگر جھنکار پھر سنائی دی۔ اس نے پھر حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ آواز کنویں سے آ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر کنویں میں جھانکا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی، اندر ہوا میں معلق ایک دیگ تھی۔اس دیگ کا ڈھکن کھلا تھا اور اندر چھنک چھنک کی آواز کے ساتھ اشرفیاں ہوا میں کسی فوارے کی طرح اچھل رہی تھیں اور واپس اسی دیگ میں گر رہی تھیں، برفی مبہوت ہو گیا اور غش کھا کر کنویں کی دیوار پکڑ کر ساتھ زمین پر گر پڑا۔ تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو سامنے ایک مکروہ صورت کی خوفناک عورت بیٹھی تھی۔

’’ڈر مت، ڈر مت۔۔ میں اس خزانے کی رکھوالی پہ ہوں، یہ خزانہ راجہ پورس کے زمانے سے اس کنویں میں پڑا ہے، تو چاہے تو تیرا ہو سکتا ہے۔‘‘

’’تم کون ہو۔۔ کیا تم انسان ہو؟‘‘

’’ سچ کہوں تو میں چڑیل ہوں جو صدیوں سے اسے خرابے میں رہتی ہے۔ مگر تجھے خزانے سے مطلب ہونا چاہئے‘‘

’’مجھے یہ خزانہ کیسے مل سکتا ہے؟‘‘

’’بہت آسانی سے۔۔ صرف یہ خزانہ نہیں سارے ملک کے خزانے بھی میں تجھے لا دوں گی۔‘‘

’’مجھے کیا کرنا ہو گا؟‘‘

1 2 3 4 5اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button