تازہ ترینخبریںصحت

صرف 10 منٹ کی دوڑ کے ذہنی صحت پر مثبت اثرات

اس حقیقت کے باوجود، محققین نے اب تک دماغ کے مختلف حصّوں پر دوڑنے کے اثرات کو قریب سے نہیں دیکھا تھا جو کہ انسان کے موڈ اور انتظامی افعال کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف سوکوبا کے محققین کی ایک ٹیم کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف 10 منٹ کی دوڑ سے انسانی دماغ پر مؤثر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کی اس تحقیق کے مطابق، 10 منٹ کی دوڑ سےانسان کے موڈ اور انتظامی افعال کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے دماغی حصّے کو کام کرنےمیں کافی مدد ملتی ہے۔

یہ تحقیق ‘سائنٹیفک رپورٹس جرنل’ میں شائع ہوئی ہے۔

اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ دوڑ کے بہت سے فوائد ہیں، جیسے کہ موڈ کو بہتر بنانے کی صلاحیت، لیکن اس سے پہلے مطالعات میں اکثر سائیکل چلانے کو ہی ورزش کی ایک شکل سمجھا جاتا تھا تاہم دوڑ لگانا ہمیشہ سے ہی انسانی صحت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

انسانی دوڑ کی منفرد شکل اور کارکردگی اور انسانوں کی ارتقائی کامیابی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

اس حقیقت کے باوجود، محققین نے اب تک دماغ کے مختلف حصّوں پر دوڑنے کے اثرات کو قریب سے نہیں دیکھا تھا جو کہ انسان کے موڈ اور انتظامی افعال کو کنٹرول کرتے ہیں۔

پروفیسر ہیداکی سویا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’دوڑ کے دوران توازن، نقل و حرکت اور پروپلشن کو مربوط کرنے کے لیے درکار ایگزیکٹو کنٹرول کی حد کو دیکھتے ہوئے، یہ لازمی ہے کہ پریفرنٹل کورٹیکس(دماغ کا ایک حصہ ہے جو فرنٹل لوب کے سامنے واقع ہے) میں نیورونل ایکٹیویشن میں اضافہ ہوگا اور اس حصے میں دیگر افعال دماغی وسائل بھی اس اضافے سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔

محققین کی ٹیم نے اس تحقیق کے لیے اسٹروپ کلر ورڈ ٹیسٹ کا استعمال کیا اور دماغی سرگرمی سے وابستہ (ہیموڈاینامک )تبدیلیوں پر ڈیٹا حاصل کیا۔

مثال کے طور پر، اس ٹیسٹ میں شریک فرد کو متضاد معلومات دکھائی جاتی ہیں، یعنی سرخ لفظ کو سبزرنگ میں لکھا جاتا ہے، اور شریک کو لفظ پڑھنے کے بجائے رنگ کا نام بتانا چاہیئے۔

اس ٹیسٹ کااندازہ شریک فرد کے جواب دینے کے وقت سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے متضاد معلومات کو دیکھ کر جواب دینے میں کتنا وقت لیا۔

اس تحقیق کے نتائج نے ظاہر کیا کہ، دس منٹ کی درمیانی دوڑ کے بعد، اسٹروپ کلر ورڈ ٹیسٹ کےوقت میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور اسٹروپ ٹاسک کے دوران دو طرفہ پری فرنٹل ایکٹیویشن میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

یہی نہیں بلکہ دوڑنے کے بعد، شرکاء کا موڈ بھی بہترپایا گیا۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ انسانی پریفرنٹل کورٹیکس کی بہت سی خصوصیات منفرد ہیں، یہ مطالعہ نہ صرف دوڑنے کے موجودہ فوائد پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ اس ممکنہ کردار پر بھی روشنی ڈالتا ہے جو ان فوائد نے انسان کے ارتقائی ماضی میں ادا کیا ہو گا۔

Leave a Reply

Back to top button