تجزیہسیاسیات

طاہرالقادری کا حکومت کے خاتمے کیلئے ’احتجاجی تحریک‘ کا اعلان

لاہور: پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے لیے 17 جنوری سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

لاہور میں اے پی سی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ ’آل پارٹیز کانفرنس میں اتفاق رائے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ کو استعفوں کے لیے 7 روز کی مہلت دی گئی تھی، لیکن استعفے نہیں آئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب ہم استعفے مانگیں گے نہیں بلکہ زبردستی لیں گے اور اب بات صرف استعفوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی جہاں، جہاں حکومت ہے اس کا خاتمہ ہوگا۔‘

ڈاکٹر طاہرالقادری کا حکومت کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اب (ن) لیگ کے برسر اقتدار رہنے کا جواز ختم ہوگیا ہے، 17 جنوری سے حکومت کے خاتمے کے لیے احتجاجی تحریک شروع کریں گے، ہمارے آگے سارے آپشنز کھلے ہیں اور ہمیں ان کی ظلم اور کرپشن کی سلطنت کا خاتمہ کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاجی تحریک حکومت کے خاتمے تک نہیں رُکے گی، یہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے خون کا حساب بھی دیں گے، یہ لوٹ مار کا حساب بھی دیں گے، جبکہ (ن) لیگ نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کی اسے اس کا حساب بھی چکانا ہوگا۔‘

انہوں نے احتجاجی تحریک کے انتظامی امور کے لیے 7 رکنی ایکشن کمیٹی کے قیام کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس 11 جنوری کو ہوگا۔

واضح رہے کہ 30 دسمبر کو عوامی تحریک کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو استعفے کے لیے مزید 7 روز کی مہلت دی تھی۔

کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ 13 رکنی کمیٹی نے تیار کیا، جسے دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں پڑھ کر سناتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ ’ سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے جس میں مسلم لیگ (ن) براہ راست ملوث ہے۔‘

اعلامیہ کے مطابق ’سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ ملوث ہیں، باقر نجفی کمیشن نے شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جس کے بعد (ن) لیگ اقتدار پر رہنے کا جواب کھو چکی ہے۔‘

Leave a Reply

Back to top button