ادب

طنزومزاح: بال نہ بچے…… فرخ محمود

جس طرح زمین کی کئی تہیں ہوتی ہیں اور ہر تہہ کی اپنی اپنی خصوصیات۔ اسی طرح انسانی شخصیت بھی بڑی تہہ دار ہے۔ ذہنی، جسمانی، سماجی، معاشرتی اور روحانی شاخوں سے انسانی شخصیت کا شجر سایہ دار وجود میں آتا ہے۔ Huxley نے اپنے مضمون Education of an Amphibian میں انسان کو Amphibian کہا ہے کیونکہ وہ ایک وقت میں مختلف سطحوں پر رہتا ہے۔ انسان کی آسمانی شخصیت اگر خیالوں سے بنتی ہے تو اس کی مادّی شخصیت بالوں سے سجتی ہے۔ بالوں کے بانجھ پن سے خیالوں کی زمین میں انگلش کے نئے نئے پن (Pun) کے گُل کھلائے جاسکتے ہیں۔ جب شخصیت کی ابتدا ہی لق ودق صحرا سے ہو تو پھر مرد نہ کسی سبز پری کا دل باغ باغ کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے سبز باغ دکھا سکتا ہے۔
بالوں کے بنجر پن سے نادیدہ پن پیدا ہوتا ہے یعنی مرد صنفِ نازک کے دیدہ و دل سے محروم ہو جاتا ہے۔ بالوں کی کمی کے باعث بہت سی سماجی، سیاسی اور نسوانی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالوں کی کمی جہاں مرد کے سالوں (ماہ وسال) میں اضافہ کرتی ہے وہاں غیرشادی شدہ لڑکوں یا مردوں کو سالہا سال سالوں کی تلاش میں صحرا نوردی بھی کراتی ہے کیونکہ کوئی نازک بدن، نازک اندام اور سخت مزاج صنف نازک کسی فارغ الخیال وفارغ المال سے شادی کے وبال کا خیال تو دل میں لاسکتی ہے لیکن کسی فارغ البال کے بال بچوں کی ماں بننے کے تصور سے ہی اس کی روح کانپ اُٹھتی ہے۔ سر پر چاند ہونے کی وجہ سے محبوب کے چاند کو سر پر سوار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ جس طرح لوہا لوہے کو کاٹتا ہے اسی طرح زُلف زُلف کو کھینچتی ہے۔ شادی سے پہلے کا گنجاپن زُلفوں سے عاری ہونا شخصیت پر کاری ضرب لگتا ہے۔ سرپر چاند ہونے کی وجہ سے شخصیت کو چار چاند نہیں لگ سکتے۔ یہ چاند وہ ہے جو مرد کو رومانوی اندھیروں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے جبکہ زُلف کی گھنی تیرگی شخصیت کی گھن گرج کو چار چاند لگا دیتی ہے۔
ایک مرتبہ ہم کینال ویو میں انتہائی حبس کے موسم میں شام کے وقت سیر کررہے تھے۔ سرتا پا پسینہ میں شرابور تھے اور گزرنے والے لوگوں کو لگ رہا تھا کہ شاید ہم شرم سے پانی پانی ہیں۔ سڑک پر اپنے خیالوں کی دُنیا میں گم اور اپنے اعمالوں سے بے نیاز چل رہے تھے کہ اچانک ایک چمکتی دمکتی کار ہمارے قریب آکر رُکی۔ گاڑی کا شیشہ خودبخود کھلتا چلا گیا اور ہم اس شیشے میں خودبخود اُترے چلے گئے۔ اس پسینے کے گُل وعالم میں ایک حسینہ شیشہ کھول کر ہم سے مخاطب ہوئی اور ہم سے کسی کے گھر کا پتہ پوچھا۔ یقین جانئے اس وقت ہمارے اپنے گھر کا پتہ دشتِ فراموشی میں کہیں گم ہوچکا تھا کیونکہ ہمیں اس کو دیکھ کر ایسے لگا جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے یا کوئی مفرور مقروض کئی سالوں بعد اچانک قرض کی رقم واپس کرنے کے لیے آپ کے گھر آجائے۔ خیر ہم سینہ تان کر اس حسینہ سے مخاطب ہوئے۔ بڑے اشاروں، کنایوں یعنی بڑے غزلیہ طربیہ انداز سے اسے اس گھر کا پتہ سمجھانے لگے جس کا ہمیں خود بھی پتہ نہیں تھا۔ ہم دل ہی دل میں سرکش لہروں میں غزل کے سفینے چلانے کے لیے پَر تولنے لگے لیکن جب ہم نے اپنی گفتگو بادلِ ناخواستہ ختم کی تو اس حسینہ کے اختتامی فقرے نے ہماری تمام اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔ (Thank you Uncle) جو ہمیں ایسے لگا (I Kill)۔
اس نشتربازی نے ہم جیسے فقرے باز کو شیشے میں اُتارنے کی بجائے شیشہ دکھا دیا۔ یہ شیشہ اس نے ہمارے بالوں کو دکھایا جو کہ اپنی کم مائیگی اور بے چارگی کی وجہ سے ہواؤں میں جھولے جھول رہے تھے۔ اس کے آخری کلمے (اور ہم دل ہی دل میں کلمہ پڑھنے لگے) سے ہمارے پسینے چھوٹ گئے۔ ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے، راتوں کی نیندیں برباد ہو گئیں، خیالوں میں بے ربطی در آئی، اعمالوں میں بے ترتیبی نے ڈیرے ڈال لیے۔ ہم نے اس بات کو اپنے دل سے لگایا اور دل سے بال لگوانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ ہم نے سوچا کہ اس طرح تو ہمیں ہر کوئی اشتہار کی طرح دیوار سے لگاتا پھرے گا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button