ادب

طنزومزاح: سرکا پہلوان اور دلدار پریمی…… میم سین بٹ

دوپہرکے وقت آنکھ کھلتے ہی ہم نے سفرنامہ مکمل کرنا شروع کردیا،کچھ دیر بعد سرکا پہلوان کی جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے پاک ٹی ہاؤس میں افطارڈنرکی دعوت موصول ہوئی تو ہم نے لکھنا موخرکرکے تیار ہونا شروع کردیا ایک گھنٹے بعد لفٹ کے ذریعے عمارت سے باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا تو موسم قدرے خوشگوارپایا، ایمپریس روڈ پر اکا دکا گاڑی آ جا رہی تھی ہم شملہ پہاڑی چوک پارکرکے پریس کلب میں داخل ہوئے تو صحن کے وسط میں بابائے مانیٹرنگ بیٹھے ہوئے مل گئے ان کی میز پر کوئی باریش بزرگ بھی موجود تھے ہم نے بابائے مانیٹرنگ سے خیریت دریافت کی:
”کیا حال چال ہے۔۔۔؟“
بیزاری سے دونوں ہاتھ اٹھاکربولے
”بس یاراب توچل چلاؤ ہے۔۔۔!“
ہم نے ان کا کندھا تھپتھپا کرکہا
”آپ توبڑے حوصلے والے تھے پھریوں د ل کیوں چھوڑبیٹھے ہیں؟“
انہوں نے سرد آہ بھری اورپھرنثاراکبرآبادی کے دواشعارپڑھ دیئے۔۔۔
زندگی کے مزے جاتے رہے
سب زباں کے ذائقے جاتے رہے
وقت کے ہاتھوں نے کی لوٹ مار
سب حوصلے اورولولے جاتے رہے
ہم نے جواب میں غالب کا شعرذرا سی ترمیم کے ساتھ پڑھ دیا۔۔۔
مارا زمانے نے راؤطارق کامران تجھے
وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی ؟
بابائے مانیٹرنگ نے زوردار قہقہہ لگایا اوربزرگ شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے
”اسے نہیں پہچانا؟ یہ صحافی وشاعر معروف خاں گمنام پوری ہے دس گیارہ برس پہلے ہماری ادبی محفل میں شریک ہوا کرتا تھا پھر اس کی شادی ہوگئی تھی اس نے کلب آنا چھوڑ دیا تھا!“
ہم نے حیران ہو کر ان سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا
”ارے یہ تو باباجی ہی بن چکے ہیں۔۔۔!“
بابائے مانیٹرنگ ہنس کر بولے
”یار اگر ہم دونوں بھی ہیر کلر استعمال نہ کریں تو بابے ہی لگیں۔۔۔!“
معروف خاں پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے۔
”مجھے توصحافی کالونی ایف بلاک کے طویل انتظار نے بوڑھا کردیا ہے اب الاٹمنٹ تو ہو گئی ہے مگر ڈویلپمنٹ نجانے کب ہوگی،کرایہ کے مکان میں رہنے کی وجہ سے بال بچے پالنے کیلئے دونوکریاں کرتا رہا ہوں اسی لئے کلب نہیں آسکتا تھا۔۔۔!“
بابائے مانیٹرنگ ہماری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہنے لگے
”بٹ صاحب نے ایف بلاک کا مسئلہ حل ہونے تک اس بکھیڑے میں نہ پڑنے کا فیصلہ کرکے عقلمندی کا مظاہرہ کیا!“
معروف خاں اٹھتے ہوئے بولے
”بس مجھ بیوقوف سے غلطی ہوگئی اب بھگت رہا ہوں۔۔۔ اچھا مجھے اب اجازت دیں دفتر سے دیرہو رہی ہے اخبارکی نوکری سے تونکال دیاگیا ہوں کہیں دوسری ملازمت سے بھی نہ فارغ ہو جاؤں۔۔۔!“
معروف خاں گیٹ کی طرف اورہم استقبالیہ کی جانب بڑھ گئے،دروازے کے برابر والے بینچ پرنیم بزرگ صحافی بیٹھے گا رہے تھے۔۔۔۔۔
صحافتی دنیا میں دل لگتا نہیں واپس بلالے
میں صحن میں پڑا ہوں اے مالک اٹھا لے
ہم نے ان کا شانہ ہلا کرپوچھا
”آپ صحافت سے اتنے دلبرداشتہ کیوں ہوگئے ہیں؟
نگاہیں جھکا کرگلوگیر آواز میں بولے
”تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔۔۔!“
ہمیں دھچکا سا لگااور بے بسی سے آگے بڑھ گئے لائبریری میں پہنچے تو وہاں حسب معمول سیاسی بحث ومباحثہ جاری تھا بیشترسینئرصحافی ”تبدیلی“ پرکڑی تنقید کررہے تھے البتہ چند جواں سالہ صحافی اب بھی پرامید تھے اس ماحول میں اخبارات بالخصوص کالموں کا مطالعہ بیحد مشکل کام تھا لہٰذا ہم دو تین اخبارات کی شہ سرخیوں پر سرسری نگاہ ڈال کراٹھ گئے اورپارکنگ سے موٹربائیک نکال کر پریس کلب سے نکل کھڑے ہوئے،پاک ٹی ہاؤس پہنچے تو سرکا پہلوان کی میزآباد ہو چکی تھی ڈاکٹر خبیث شیطانی، علامہ توحیدی، کامریڈ جمشید،وحید اختراورچراغ اندھیروی کے علاوہ چھیدا بونگا بھی موجود تھا ہم بھی علیک سلیک کرکے بیٹھ گئے سرکا پہلوان نے چراغ اندھیروی سے فرمائش کی
”یارکوئی نظم ای سناؤ۔۔۔!“
وہ انکساری سے کہنے لگے
”میں بھلا کہاں کا شاعر ہوں،بس اپنے ارد گرد کے ماحول میں جو کچھ دیکھتا ہوں اسے ٹوٹے پھٹے شعروں میں ڈھال دیتا ہوں۔۔۔!“
چھیدا بونگا فوراََ بول اٹھا
”گویا بقول جگن ناتھ آزاد۔۔۔۔
شعر کے فن سے تو ہوں آزاد بیگانہ مگر
صفحہ کاغذ پہ لکھ دیتا ہوں جو سنتا ہوں میں
ہم منہ پھیرکر مسکرانے لگے چراغ اندھیروی چھیدے بونگے کو گھورتے ہوئے اٹھ کردوسری میزکی طرف بڑھے تاہم سرکا پہلوان نے انہیں واپس بلا لیا،ہم نے کہا
”جگن ناتھ آزاد نے دریائے راوی پر بھی نظم کہی تھی۔۔۔!“
ڈاکٹرخبیث شیطانی کہنے لگے
”جگن ناتھ آزادکے والد بھی غالباََ ادیب یا شاعر تھے۔۔۔!“
”ماسٹر تلک چند محروم۔۔۔!“ ہم نے اثبات میں سر ہلاکر تائیدوتصدیق کی،علامہ توحیدی نے حیرت سے کہا
”تلک چند توہندوؤں کا نام ہے یہ مرحوم کیسے ہوگئے انہیں آنجہانی کہنا چاہیے!“
ہم نے بھناکرکہا
”مرحوم نہیں محروم۔۔۔ یہ ان کا تخلص تھا!“
اسی وقت این جی او کا کارکن پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوا اورہماری میزکے قریب رک کر وحید اختر سے پوچھنے لگا
”آپ سوشل میڈیا پرکون سی زبان استعمال کرتے ہیں؟“
وحید اختر بولے
”میں نے سوشل میڈیا کا تازہ تازہ استعمال شروع کیا ہے اوراس پر ٹیکنالوجی کی زبان یعنی انگریزی کوذریعہ اظہار بناتا ہوں!“
این جی اوکے نوجوان نے ہماری طرف دیکھا تو ہم نے بتایا
”میں تو زیادہ ترقومی زبان یعنی اردواستعمال کرتا ہوں کبھی کبھارمادری زبان بھی استعمال کرلیتاہوں!“
نوجوان نے سرکا پہلوان سے سوال کیا تو انہوں نے مختصر جواب دیا
”ماتری بولی۔۔۔ پنجابی!“
ڈاکٹر خبیث شیطانی کہنے لگے
”سوشل میڈیا پر ہمیں آپس میں قومی اورمقامی یعنی مادری زبانیں ہی استعمال کرنی چاہئیں لیکن زیادہ تر لوگ حتی کہ اردو کے معروف ادیب، شاعراورصحافی کالم نگار دانشور بھی آپس میں قومی یا مادری زبان کے بجائے پدری زبان استعمال کرتے ہیں۔۔۔!“
”پدری زبان۔۔۔؟“ سب نے حیرت سے پوچھا
سرکا پہلوان براسا منہ بنا کربولے
”کاٹھے انگریز اج وی انگریزی نوں ”مائی باپ“ دی بولی سمجھدے نیں!“
اس پر محفل میں قہقہے بلند ہوئے اوراردگردکی میزوں پر بیٹھے ہوئے دانشورناگواری سے ہمیں گھورنے لگے وحید اخترکا موڈ آف ہوگیا،این جی اوکا کارکن دوسری میزوں کی طرف بڑھ گیا اورباہر سے آنے والا جواں سالہ شاعر شیراز دخانی ہماری میزکے قریب رک کرکہنے لگا
”یارو مجھے سگریٹ ہی پلادو۔۔۔!”
سرکا پہلوان دھاڑکر بولے
”اوئے روزے رکھیاکربے شرما۔۔۔!“
وہ سرجھٹک کرکہنے لگا
”میں دنیاکو مسافرخانہ اورزندگی کو طویل سفرسمجھتا
ہوں اورآپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ سفرمیں روزہ معاف ہوتا ہے!“
”لاحول ولا قوۃ الاباللہ!“ علامہ توحیدی نے زور سے لاحول پڑھی توشیرازدخانی جلدی سے آگے بڑھ گیا، ویٹر نے میز پر افطاری کا سامان لگانا شروع کردیا،گیلری کی سیڑھیاں اترکر آنے والے شاعردلدار پریمی ہمارے پاس رک گئے ان کی خمار آلود آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے لگتا تھا چند روز سے مسلسل جاگ رہے ہیں ہم نے انہیں کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا مگر وہ دسترخوان کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے سرکا پہلوان سے کہنے لگے
”کیاآپ صرف کھانے پینے کیلئے دنیا میں آئے ہوئے ہیں؟“
سرکا پہلوان دھاڑکر بولے
”اوئے جا تے جا کے اپنی نیندر پوری کر۔۔!“
دلدار پریمی فلمی گیت گنگناتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
میری آنکھوں میں بس گیا کوئی رے
موہے نیند نہ آئے میں کیا کروں ؟
میری آنکھوں میں۔۔۔
وحید اختر ہم سے پوچھنے لگے
”لاہورمیں لوہاری اور دلی دروازہ پایا جاتا ہے کیا دہلی میں بھی لاہوری اوردلی دروازہ موجود ہے؟“
ہم نے کامریڈجمشیدکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
”میں بھی آپ کی طرح پنجابی ہوں اورآج تک دلی شہر نہیں دیکھا البتہ یہ آپ کو بتا سکیں گے کیونکہ اہل زباں خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو تقسیم ہندکے وقت دلی سے ہی ہجرت کرکے لاہور آیا تھا!“
وحید اختر نے اپنا سوال کامریڈجمشید کے سامنے دہرایا تو وہ ان سے کہنے لگے
”’یہ تومیں تمہیں نہیں بتا سکتا۔۔۔!“
وحید اختر جلدی سے ہماری طرف مڑکربولے
”یار آپ توکہتے تھے اہل زباں ہیں مگر مجھے تو یہ بدزباں لگتے ہیں!“
سب کھلکھلا کر ہنس پڑے،ہم نے ہنسی پرقابو پاتے ہوئے وضاحت کی
”یہ اہل زباں ہی ہیں بس کچھ عرصہ سے کنٹینر پارٹی کے حامی ہو چکے ہیں!“
کامریڈ جمشیدجھلاکرکہنے لگے
”’یار یہ بات میں تمہیں بتاہی نہیں سکتا کیونکہ دلی سے میرے والدین آئے تھے میں تو پیدا ہی لاہورمیں ہوا تھا اور۔۔۔۔!“
سرکا پہلوان ہاتھ اٹھا کر پوچھنے لگے
”تینوں پنجابی تے آندی ہونی اے؟“
لاپرواہی سے کندھے جھٹک کر بولے
”سمجھ تو لیتا ہوں مگر بول نہیں سکتا!“
چھیدے بونگے نے کہا
”یہ کیوں نہیں کہتے کہ پنجابی بولنا ہی نہیں چاہتے!“
کامریڈ جمشیدخاموشی سے چھیدے بونگے کوگھورنے لگے
اچانک سرکا پہلوان کے محلے دارخواجہ دلاورامرتسری پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوئے اورہیلمٹ کو زور سے میزپر پٹختے ہوئے کہنے لگے
”یاراس ہیلمٹ نے تو میری زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے ،بلڈپریشر اوردمے کا مریض ہوں شدیدگرمی میں چالان سے بچنے کیلئے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہنتا ہوں تو میری جان پر بن جاتی ہے۔۔۔!“
”موٹرسائیکل بیچ کر سائیکل ہی خرید لیں!“ڈاکٹرخبیث شیطانی نے انہیں مشورہ دیا
”پٹرول بھی بہت مہنگاکردیاگیا ہے!“ہم نے لقمہ دیا
وحید اخترکہنے لگے
”ڈالر بھی اوپر سے اوپرجارہا ہے!“
دلاورامرتسری بڑبڑائے
”ایسی تبدیلی کا توکبھی سوچا بھی نہ تھا!“
سرکا پہلوان کہنے لگے
”یارحکومتی سیاست دے اناڑی کھلاڑی کولوں ہورکیہ امید رکھی جا سکدی سی!“
اسی وقت روزہ افطار ہونے کا اعلان ہوگیا اور پاک ٹی ہاؤس کے ہال میں تمام میزوں پرسناٹاچھاگیا صرف برتن کھنکنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

Leave a Reply

Back to top button