مختصر تحریریں

عاشق کی آنکھوں میں نیند کا کیا کام؟

ایک عاشق عشق کے جوش سے بہت ہی پریشان ہو چکا تھا، ایک دن روتے روتے مٹی پر سو گیا۔ اس کا معشوق اس کے سرہانے آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا محبوب سویا ہوا ہے اور وہ بالکل بے خود ہو چکا ہے۔ معشوق نے موقع و محل کے مطابق ایک رقعہ لکھا اور اپنے عاشق کے بازو پر باندھ دیا۔ عاشق جب نیند سے بیدار ہوا تو اس نے وہ رقعہ پڑا اور خون کے آنسو بہانے لگا۔
اس رقعہ میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اے چُپ چاپ پڑے ہوئے عاشق! اگر تم سوداگر ہو تو اٹھو اور دن چڑھے تک اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے فرمانبردار، شب زندہ دار بندے بن جاؤ۔ اور اگر تم عاشق ہو تو پھر شرم کرو، عاشق کی آنکھوں میں نیند کا کیا کام ہوتا ہے؟ عاشق تو ہمیشہ دن کو ہوا خوری کرتا ہے اور رات کو چاند کی طرح اپنے سوز کی وجہ سے لوگوں کا دل موہ لیتا ہے مگر تم کچھ بھی نہیں ہو۔ تجھے عاشق سمجھنا سراسر غلط ہے اور سفید جھوٹ ہے۔ چونکہ تم اپنی جہالت کی وجہ سے عشق میں در آئے ہو اس لئے مزے سے سوتے رہو کیونکہ تم نااہل ہو۔
ماخذ: حکایاتِ فریدالدین عطارؒ، ترجمہ: حکیم مطیعُ الرحمٰن نقشبندی

Leave a Reply

Back to top button