تازہ ترینخبریںصحت

عالمی ادارہ صحت نے اومیکرون کے پھیلاؤ پر خبردار کردیا

چین نے بھی نسبتاً کم کیسز کے باوجود اپنی ’زیرو کووڈ‘ پالیسی میں نرمی نہیں کی ہے اور یانان شہر کے کئی علاقوں میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز خبردار کیا ہے کہ اگرچہ کورونا کی اومیکرون قسم میں بیماری کی شدت نسبتاً کم ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس سے نظام صحت پر دباؤ پڑسکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب چین اور جرمنی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت پابندیاں نافذ کررہے ہیں۔

چین میں مزید ہزاروں افراد کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے جبکہ یورپ اور امریکی ریاستوں میں کورونا کے ریکارڈ کیسز سامنے آرہے ہیں۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے جس کی وجہ سے بہت سے ممالک معاشی طور پر سخت پابندیوں اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے درمیان مشکل انتخاب پر مجبور ہیں۔

امریکا نے اس دباؤ سے نمٹنے کے لیے ایسے مریض جن میں کورونا کی علامات ظاہر نہ ہو ان کے لیے قرنطینہ کی مدت نصف کردی ہے، اسی طرح فرانس نے کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ملازمین سے ہفتے میں کم از کم 3 دن گھر سے کام کروائیں۔

نئے سال کے آغاز پر جرمنی میں مسلسل دوسرے سال بھی پابندیاں نافذ ہیں، ملک میں نائٹ کلبز کو بند کردیا گیا ہے اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔

چین نے بھی نسبتاً کم کیسز کے باوجود اپنی ’زیرو کووڈ‘ پالیسی میں نرمی نہیں کی ہے اور یانان شہر کے کئی علاقوں میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

اس کے علاوہ شیان شہر میں گزشتہ 6 روز سے لاک ڈؤن نافذ ہے، چین کو اس وقت گزشتہ 21 ماہ کے دوران سب سے زیادہ یومیہ کیسز کا سامنا ہے۔

شیان کے ایک شہری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ویبو پر لکھا کہ ’میں بھوک سے مرنے والا ہوں۔۔۔ میرے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، میری رہائشی عمارت والے مجھے باہر نہیں جانے دے رہے، میرے پاس موجود انسٹنٹ نوڈلز بھی ختم ہونے والے ہیں۔۔۔ میری مدد کریں‘۔

شیان کے شہریوں نے ان پابندیوں پر تنقید کی ہے جن کے تحت گاڑی چلانے پر مکمل پابندی ہے جبکہ گھر کے صرف ایک فرد کو ہر 3 روز بعد سودا سلف لینے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت ہے۔

کئی ممالک میں کورونا کیسز میں ہونے والا اضافہ کورونا کی تیزی سے پھیلنے والی قسم اومیکرون کے باعث دیکھنے میں آرہا ہے، نیدر لینڈز اور سوئٹزر لینڈ کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں اب اومیکرون قسم ہی غالب آچکی ہے۔

اس دوران یونان میں ایک دن میں کورونا کے ریکارڈ 21 ہزار 657 کیسز سامنے آئے ہیں، ماہرین صحت کے مطابق اس کی وجہ کورونا کی اومیکرون قسم ہے۔

اگرچہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کورونا کی اومیکرون قسم شدید بیماری کا باعث نہیں بنتی تاہم ڈبلیو ایچ او نے پھر بھی اس حوالے سے خبردار کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی یورپ کے لیے کووڈ انسیڈنٹ منیجر کیتھرین اسمال ووڈ کا کہنا ہے کہ ’اگر نسبتاً کم شدت کی بیماری کے ساتھ بھی اومیکرون قسم کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا تو اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا خاص طور پر ان لوگوں کا اضافہ جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہے، یوں نظام صحت اور دیگر اہم خدمات پر دباؤ آسکتا ہے‘۔

Leave a Reply

Back to top button