کالم

علامہ اقبال اورعتیق احمد جاذب…… میم سین بٹ

علامہ اقبال کے کلام سے ہمارا ابتدائی تعارف اپنے بچپن میں ان کی نظم ”بچے کی دُعا“ کے ذریعے ہوا تھا۔ ہم پرائمری سکول میں داخل ہونے کے بعد روزانہ صبح کلاسز شروع ہونے سے پہلے دیگر طلباء کے ساتھ میدان میں جمع ہو کر دعائیہ نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ کورس کی شکل میں گایا کرتے تھے۔ اسمبلی کے دوران دو تین خوش الحان طلباء الگ کھڑے ہو کرعلامہ اقبال کی اس نظم کا ایک مصرعہ مخصوص لےَ میں ادا کرتے تو باقی تمام طلباء بھی باجماعت اسے دہرادیتے تھے اس طرح روزانہ پوری نظم پڑھی جاتی تھی اور ہم بچوں کو ازبرہو چکی تھی۔ ذرا بڑے ہوئے تو علامہ اقبال کی دوسری نظموں پہاڑ اورگلہری، ترانہ ہندی، ہمالہ، نیا شوالہ، خضر راہ اور پھر شکوہ و جواب شکوہ وغیرہ کا مطالعہ کرنے سے ہمیں کلام اقبال میں گہری دلچسپی پیدا ہوتی چلی گئی۔ علامہ اقبال کو سب سے زیادہ نوجوانوں سے محبت تھی وہ اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف انہیں ستاروں پرکمند ڈالنے کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ نوجوانوں کے لئے دعا ئیہ شعربھی کہتے ہیں۔۔۔
جوانوں کومیری آہ سحر دے
پھر شاہیں بچوں کو بال وپردے
خدایا آرزو میری یہی ہے
میرا نور بصیرت عام کردے
شاعرمشرق کی نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ ہمیں بہت اچھی لگتی ہیں، جب بھی یہ دونوں نظمیں پڑھتے یا زیڈ اے بخاری کی آواز میں سنتے ہیں تو عجب سماں بندھ جاتا ہے۔ زیڈ اے بخاری مرحوم نے اپنی گھن گرج والی آواز میں یہ نظمیں تحت اللفظ پڑھی ہیں۔ کلام اقبال کو مختلف قوالوں اورگلوکاروں نے بھی گایا ہے ان میں سے شوکت علی کی آوازمیں علامہ اقبال کی نظمیں اورملکہ پکھراج کی آوازمیں گائی ہوئی ان کی غزلیں ہمیں بہت پسند ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کلام اقبال گانے کیلئے گلوکار شوکت علی کا پُرجوش اور بلند آہنگ لہجہ سب قوالوں اورگائیکوں سے بہتر ہے۔ اب تو بعض پاپ سنگرز نے بھی اقبال کی شاعری کا استعمال شرع کر دیا ہے لیکن ہمارے خیال میں کلام اقبال کے ساتھ مغربی سازوں کا استعمال نامناسب ہے۔ ویسے بھی خود علامہ اقبال اپنی زندگی میں مغربی تہذیب کے خلاف تھے جس کا ثبوت ضرب کلیم کے ان اشعار سے بھی ملتا ہے۔۔۔
فساد قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ خفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق لطیف
علامہ اقبال ہمارے آئیڈیل ہیں۔ ان کے بارے میں لکھی جانے والی مختلف کتب کا مطالعہ کرنے سے ہمیں پتا چلا کہ ہماری اور ان کی شخصیت میں تو بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ ان کی طرح ہم بھی سیالکوٹ شہر کے کشمیری نژاد متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے اور ہمارا برج بھی عقرب ہے، ہم عمر میں علامہ اقبال سے ایک دن بڑے اور نوے سال چھوٹے ہیں۔ ہم بھی قدرے سست الوجود ہیں، زندگی کا بیشتر حصہ چارپائی اور فرش پر نیم دراز رہ کر لکھتے پڑھتے یا دوست احباب کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے گزارا ہے، ہم بھی مغربی بودوباش پسند نہیں کرتے البتہ ان کی طرح گھر میں لاچا بنیان اور باہر شلوار، فراک پہننے کے بجائے گرمیوں میں کاٹن اور سردیوں میں کھدر کی شلوار قمیض پہنتے ہیں، ہمیں بھی پھلوں میں سب سے زیادہ آم پسند ہیں اوراسے پھلوں کا بادشاہ جبکہ امرودکو وزیر اعظم سمجھتے ہیں،سبزیوں میں بھی علامہ اقبال کی طرح ٹینڈے ہمیں سخت ناپسند ہیں، ایلوپیتھی ادویات کا استعمال بھی پسند نہیں کرتے اوران کی طرح طب یونانی طریقہ علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ علامہ اقبال کی طرح ہمیں بھی معمولی دمہ کی شکایت ہے، ہم بھی ان کی طرح دل کے بڑے کمزور ہیں اور خون بہتا ہوا دیکھ لیں تو بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ عید الا ضحیٰ پر جانورکی قربانی کے وقت اندرونی کمرے میں جاکر چھپ جاتے ہیں یا گھر سے باہر نکل جاتے ہیں۔
شاعر مشرق کے اردوکلام کا ہم مطالعہ کرچکے ہیں لیکن ان کی فارسی شاعری سے استفادہ نہیں کر سکے کیونکہ فارسی زبان سے نابلد ہیں۔ مڈل تک ہم نے عربی پڑھی تھی کیونکہ اس زمانے میں ایرانی انقلاب برپا اور افغان جہاد شروع ہو چکا تھا، عرب ممالک کے ساتھ خصوصی تعلقات کے باعث پاکستان میں فارسی کے مقابلے پرعربی کو عروج حاصل ہو رہا تھا بلکہ عربی زبان سے معمولی شناسائی رکھنے کے باعث اسی دور میں ہمیں ذاتی طور پر فائدہ بھی پہنچا تھا۔ میٹرک کے دوران 1980ء کی دہائی کے آغاز میں جب ہم والدین کے ساتھ کچھ عرصہ سعودی عرب میں مقیم رہے تھے تو عربی زبان کے ساتھ ششم سے ہشتم جماعت تک تین سالہ تعلق ہمارے خاصاکام آیا تھا۔ بعد ازاں عربی کے ساتھ دوستی کے باعث ہم فارسی کو اپنا دشمن سمجھتے رہے اور ایران عراق جنگ مزید جلتی پر تیل کا کام کرتی رہی تھی، عربی اور فارسی کی اس جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑتے رہے تھے فرقہ وارانہ لڑائی جھگڑوں کے باعث ہمارے معاشرے سے مذہبی رواداری کا خاتمہ ہوتا چلا گیا اس کی جگہ قتل و غارتگری اور دہشت گردی نے لے لی۔ بعد ازاں ملی یکجہتی کونسل کے قیام سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی تو خاصی حد تک بحال ہوگئی مگر اس عرصہ کے دوران پاکستان کی نئی نسل فارسی زبان سے بیگانہ ہو چکی تھی اس کے نزدیک علامہ اقبال کا فارسی کلام ”غیر ملکی ادب“ کا حصہ بن کر رہ گیا تھا۔
فیصل آباد سے ساڑھے سترہ برس پہلے لاہور منتقل ہونے کے بعد ہم نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ علامہ اقبال کے فارسی کلام سے استفادہ کیلئے ایوان اقبال سے فارسی زبان کا سہ ماہی کورس کر لیں مگر صحافتی ذمہ داریوں،ادبی مصروفیات اورسب سے بڑھ کر اپنی روائتی سستی وکاہلی کے باعث اس منصوبے پر آج تک عمل نہیں کرسکے جب ہم دفترآنے جانے کیلئے روزانہ ایوان اقبال کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ہمیں فارسی زبان کا کورس یاد آ جاتا ہے مگرپریس کلب یا فلیٹ پرپہنچ کر بھول جاتے ہیں بقول جعفر شیرازی۔۔۔
میرے سامنے فلک ہے، یہ زمیں ہے، یہ زمانہ
تجھے ڈھونڈنے کی خاطر میں نہیں ہوا روانہ
ابھی رکھ رہا ہوں جعفر میں بھرم محبتوں کا
کہ نہ وہ ہوا ہے حکایت، نہ ہوا ہوں میں فسانہ
چند روزپہلے واٹس ایپ گروپ فیلوشپ آف جرنلسٹس میں دانشور طارق مغل نے ایک آڈیو فائل رکھ کردعویٰ کیا کہ اس میں علامہ اقبال اپنا کلام سنا رہے ہیں۔انہیں یہ کلپ آل انڈیا ریڈیوکے ریکارڈ سے ملا ہے، اسے دیکھ کر ہم چونک پڑے، باریک سی آواز میں جو کلام سنایا جا رہا تھا وہ علامہ اقبال کا نہیں تھا تاہم انہی کے رنگ میں شاعری کی گئی تھی ہم نے فوری جواب لکھا کہ یہ علامہ اقبال کی آوازنہیں ہو سکتی ان کی آواز بھاری تھی، عفت علوی نے بھی ہماری تائیدکی، نعیم شیخ نے بھی اس آڈیو فائل کے حوالے سے ریکارڈ فراہم کر دیا جس میں بتایا گیا کہ علامہ اقبال کی آواز جنوری 1934 میں گلا بیٹھ جانے کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی آل انڈیا ریڈیو سٹیشن لاہور نے دسمبر 1937ء میں کام شروع کیا تھا اور یکم جنوری 1938ء کو علامہ اقبال کی آواز میں نئے سال کا پیغام ریڈیو سے نشر نہ ہوسکا تھا۔ بہرحال اب ہمیں مزید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ آڈیو فائل والی یہ آواز ہی نہیں کلام بھی بھارتی مسلمان شاعرعتیق احمد جاذب کا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button