ادبپاکستان

علامہ اقبال کا 9 نومبر 1977 سے 21 اپریل 1938 تک کا سفر

علامہ محمد اقبال 9؍نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ 1899ءمیں فلسفہ سے ایم اے کیا اور اورینٹل کالج لاہور میں عربی کے استاد مقرر ہوئے۔ 1905ءمیں انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان کا سفر کیا۔ 1907ء؁ میں انہوں نے جرمنی کی میونک یونیورسٹی سے Ph.D.کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ 1908ء؁ میں وہ واپس لاہور آئے اور وکالت کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ علامہ اقبال کو1923ء؁ میں بر طانوی حکومت کی جانب سے سر کا خطاب دیا گیا۔ 21؍اپریل1938ء؁ کو علامہ اقبال اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
اردو میں علامہ اقبال کی شاعری کے چار مجموعے بانگ درا، بال جبرئیل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز شائع ہوئے۔ علامہ اقبال اردو کے پہلے شاعر ہیں جن کا اپنا ایک مستقل پیام ہے اور فلسفہ حیات بھی ہے اسی بنیاد پر ان کو شاعر انقلاب اور پیامبر شاعر بھی کہاجاتاہے۔ علامہ کوشاعر مشرق اور فلسفی شاعر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ابتداء میں انہوں نے غزل گوئی کی اور داغؔ کے رنگ میں غزلیں بھی کہیں لیکن انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم گوئی شروع کی اور نظم کی طرف مائل ہوگئے۔ اقبال نے اپنی شاعری کا آغاز بطور غزل گو شاعر کے کیا لیکن اقبال کو نظم کا شاعر کہا جاتاہے ان کی نظموں میں حب الوطنی کی نمایاں تصویر نظر آتی ہے علامہ اقبال کی وہ نظمیں جن میں ہمیں حب الوطنی اور امت مسلمہ کو دعوت عمل کا درس ملتا ہے۔ ان میں ہندوستانی بچوں کا قومی گیت،ترانہ ملی، نیا شوالہ، وطنیت، خطاب بہ نوجوا نان ِ اسلام، ہلال عید، آفتاب، تصویرِ درد، ترانہ ہندی شامل ہیں۔
علامہ اقبال نے شاہین کی علامت کو اپنے کلام میں جگہ جگہ بہ کثرت استعمال کیا ہے شاہین دراصل طاقتور پرندہ ہے جس کی خصوصیت فقر و غناء اور وسیع النظری ہے شاہین کی صفت سے مراد نوجوانوں کی سیرت و کردار ہیں۔ اس متعلق چند اشعار ملاحظہ ہوں؎
جوانوں کو مری آہ سحردے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نوربصیرت عام کردے

Leave a Reply

Back to top button