HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » اقتباسات » علم و عشق کا ملاپ…. شمس و رومی ؒ کی پہلی ملاقات

علم و عشق کا ملاپ…. شمس و رومی ؒ کی پہلی ملاقات

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

شمس تبریزی ؒ اور مولانا جلال الدین رومی ؒ کی ملاقات کے حالات بہت دلچسپ ہیں۔ ایک دن بابا کمال جندی ؒ نے اپنے مریدوں سے مخاطب ہو کر کہا: ’’دعوت کرنا چاہتا ہوں جس سے جو کچھ ہو سکے لائے‘‘۔ حضرت شمس تبریز ؒ جوتا اُتارنے کی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے یہ سن کر رونے لگے۔ بابا کمال نے فرمایا: ’’بیٹا شمس الدین! کہو دل میں خیال آتا ہے کہ جب مال تھا تو اس کا مصرف نظر نہ آتا تھا اور آج جب ہاتھ خالی ہے تو محل صرف نظر آ رہا ہے۔ دیکھو جب تک دولت کا حجاب تھا تم کو یہ صحبت میسر نہ آئی۔ جب تک دنیا کی دولت قبضہ میں رہتی ہے نہ تو عروس معانی کی خلوت نصیب ہوتی ہے، نہ نقاب حجاب دور ہوتا ہے‘‘۔

شمس الدین ؒ اُس وقت یہی خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے توبہ کی، بابا کمال کے اور زیادہ معتقد ہو گئے اور خلوت میں بیٹھ کر ذکر و فکر میں مشغول ہو گئے۔

642 ہجری میں شمس الدین ؒ سفر کرتے ہوئے قونیہ میں آئے تو ایک گھر میں ٹھہرے۔ مولانا روم ؒ اس زمانہ میں درس دینے میں مشغول تھے۔ ایک دن فضلائے جماعت کے ساتھ اس گھر کی طرف سے گزر رہے تھے کہ شمس آئے اور گھوڑے کی لگام پکڑ کر کہنے لگے:
’’امام المسلمین: بایزید زیادہ بزرگ ہیں یا محمد ﷺ؟‘‘

مولانا روم ؒ فرماتے تھے کہ اس سوال سے ایسا معلوم ہوا کہ آسمان کے ساتوں طبقے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے اور میرے باطن میں ایک زبردست آگ لگ گئی ہے اور دماغ کی طرف بڑھ رہی ہے اور وہاں سے دھواں سا عرش تک پہنچ رہا ہے۔ اس کے بعد میں نے جواب دیا:
’’حضرت محمد ﷺ بڑے ہیں، آپ ؐ سے بایزید کو کیا نسبت؟‘‘
شمس نے کہا: ’’حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا ہے:
’’ما عرفناک حق معرفتک
اور بایزید کہتے ہیں۔
’’سبحانی ما اعظم شانی و انا سلطان السلاطین‘‘۔
ترجمہ: ’’میری پاکی، کیسا بزرگ میرا حال ہے اور میں بادشاہوں کا بادشاہ ہوں‘‘۔
مولانا روم ؒ نے جواب دیا: ’’ بایزید کی پیاس ایک گھونٹ سے بجھ گئی وہ سیراب ہو گئے، اُن کا کوزۂ ادراک بھر گیا اور وہ نور اُن کے گھر کے روشن دان کے مطابق تھا۔ لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ کو شدید پیاس تھی اور آپ ﷺ کا سینۂ مبارک الم نشرح لک صدرک سے بہرہ ور تھا وہ فراخ زمین کی حیثیت رکھتا تھا اس لیے پیاس کا اظہار اور ہر دن زیادتی کی درخواست کرتے رہے‘‘۔

شمس نے جب یہ سنا تو چیخ مار کر گرے اور بیہوش ہو گئے۔ مولانا ؒ اونٹ سے اتر پڑے اور شاگردوں کو حکم دیا: ’’مدرسہ میں لے چلو‘‘۔ جب شمس ؒ ہوش میں آئے تو دیکھا کہ اُن کا سر مولانا روم ؒ کے زانو پر تھا۔ اس کے بعد دونوں خلوت میں چلے گئے اور تین ماہ تک دن رات صحبت کا لطف روحانی حاصل کرتے رہے اور کسی کی مجال نہ تھی کہ اُن کی خلوت میں آئے۔

دوسری روایت یہ ہے کہ شمس ؒ جب قونیہ میں پہنچے تو مولانا روم ؒ کی درس گاہ میں آئے، وہ ایک حوض کے کنارے بیٹھے تھے اور چند کتابیں سامنے رکھی تھیں۔ شمس ؒ نے پوچھا: ’’یہ کون سی کتابیں ہیں؟‘‘
مولانا ؒ نے کہا: ’’ان کو قیل و قال کہتے ہیں، اس سے تم کو کیا مطلب؟‘‘
حضرت شمس ؒ نے ہاتھ بڑھا کر تمام کتابیں اٹھا لیں اور ان کو حوض کے اندر پانی میں ڈال دیا۔ مولانا ؒ نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا:
’’ہائے درویش ! تم نے کیا غضب کیا، ان میں بعض میرے والد ماجد کے فوائد تھے۔ اب دوسری جگہ ان کا ملنا ناممکن ہے‘‘۔

حضرت شمس ؒ نے ہاتھ پانی میں ڈالا اور ایک ایک کر کے کتابیں نکال لیں۔ پانی نے ان پر ذرا اثر نہ کیا تھا۔ مولانا ؒ بولے: ’’یہ کون سا راز ہے؟‘‘ حضرت شمس ؒ نے جواب دیا: ’’اس کو ذوق و حال کہتے ہیں ان کی تمہیں کیا خبر؟‘‘

یہ روایت چونکہ درایت کے لحاظ سے ناقابل تسلیم ہے اس لیے شاید نکلسن نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ سیرت نگاروں نے بہت سے افسانے اور اساطیر آپ ؒ کے واقعات زندگی میں شامل کر لیے ہیں۔ نکلسن نے اپنے مقدمہ میں اشارتاً لکھا ہے:’’حضر ت شمس تبریز ؒ مولانا روم ؒ پر ایسی فرمانروائی کرتے گویا وہ شہنشاہ ہیں اور رومی ؒ ایک ادنیٰ غلام‘‘۔

نوٹ: ماخوذ از (شمس و رومی ؒ ، احوال و آثار مع منتخب کلام) مرتبہ: عبدالباری آروی
ناشر: بک کارنر جہلم

جواب دیجئے