سیلف ہیلپ

علم کی دیوانگی…… سید ثمر احمد

ہمیں اس طالب علم کا حال معلوم ہے جس نے بغداد تک کا سفر کیا۔ علم و ادب کی دولت سے مالامال ہونے کے بعد واپسی کا ارادہ کیا۔ گھوڑے کا سائیس سفر کے لیے ضروری سامان لینے ایک دکان میں داخل ہوا۔ اسی دوران لڑکے نے دکان داروں کے درمیان ہونے والی خیال آفریں ادبی بحث سنی اور یہ کہتے ہوئے بغداد چھوڑنے کا فیصلہ ترک کر دیا کہ ’جس شہر میں علم و ادب کا یہ معیار ہو اسے چھوڑ جانا دانش مندی نہیں‘……مسلمانوں نے کامل ایک ہزار سال دنیا کی قیادت کی۔ کوئی تہذیب اتنے لمبے عرصہ تک رہبری کا اعزاز قائم نہ رکھ سکی۔ کوئی شعبہ اور ترقی کا کوئی میدان ایسا نہ تھا جس میں تمام دنیا اِن کی طرف نہ دیکھتی ہو۔ سب جہان کی پیاس بجھانے کے تمام وسائل انہی کے پاس تھے۔ اور انہوں نے بھی یہ خزانے لٹانے میں کوئی تعصب نہیں برتا۔ کپڑے پہننے اور صفائی سے لے کے پختہ سڑکوں اورتعمیرات تک، نیز زمین اور کائنات سے لے کے باطن اور مابعد الطبیعات تک اتنی تفصیلات ہیں کہ یہاں یہ نام نہیں گنوائے جا سکتے۔ آئیں مختصر سیر کریں اور جانیں کہ ہم کیوں وہ نہیں اور کیسے وہ بن سکتے ہیں؟ سید مودودی نے کہا تھاکہ امامت (عروج) ہمیشہ علم سے وابستہ رہے گی۔ ہم تو آج کے حکمرانوں سے واقف ہیں۔ اس لیے حیران ہیں:
شیدائی حکمران……
رابرٹ بریفالٹ Robert Briffault لکھتے ہیں کہ ’مسلمان بادشاہ علوم کی پرستش کرتے تھے۔ پہلے اور نہ بعد میں دنیا نے یہ حیرت انگیز منظر دیکھا کہ حکمرانوں کا پورے کا پورا طبقہ والہانہ انداز میں علم کے لیے مصروف نظر آئے۔ وہ اپنے درباروں کو چھوڑ کے کتب خانوں اور رصدگاہوں میں جانے کو بے قرار رہتے۔ حکما کے درسوں میں شریک ہوتے۔ کتابوں سے لدے ہوئے کارواں بخارا سے دجلہ اور مصر سے اندلس آتے جاتے رہتے۔ کتابیں حاصل کرنے کے لیے پورے پورے وفد بھیجے جاتے۔ خراج کے عوض تصنیفات اور کسی ممتاز ریاضی دان کو حاصل کرنے کو ترجیح دی جاتی اور وزرا طلبہ کو وظائف دینے میں ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے‘……
خلیفہ الحکم ثانی کو مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ اس کی رائل لائبریری میں 4 لاکھ کتب تھیں۔ کتابوں کی الماریاں خوشبودار لکڑی کی تھیں، چھت پہ دیدہ زیب سبز اور سرخ رنگ کے بیل بوٹے کنداں تھے اور فرش سنگ مرمر کا تھا۔ یہ مشہور ہو گیا تھا کہ الحکم کو کتابوں کے علاوہ کوئی چیز پسند نہیں لہذا لوگ تحفہ میں کتب بھیجا کرتے۔ اندلس کے وزیر ابوجعفر نے بھی 4 لاکھ کتب جمع کیں۔ فاطمی خلفا کے پاس یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچتی تھی۔ عباسی خلفا کی محل کی لائبریری میں قریباََ 5 لاکھ کتابیں تھیں۔ شہزادہ صاحب بن عباس کے پاس دسویں صدی میں اتنی کتب تھیں جتنی مجموعی طور پہ پورے یورپ کے پاس نہیں تھیں۔ ہم نمونہ کی باتیں کر رہے ہیں ورنہ تاریخ بھری پڑی ہے۔ ان عظیم الشان حکمرانوں نے عوام و خواص کے لیے بھی جا بجا بنوائیں اور سجائیں:
عالی شان لائبریریاں ……
مامون الرشید خود نہایت عالم فاضل شخص تھا۔ ان کا دور علم وحکمت کے چوٹی کے ادوار سے تھا۔ گستاؤلی بان تحریر کرتے ہیں کہ جس زمانے میں یورپ میں کتاب کوئی مفہوم نہیں رکھتی تھی۔ تمام کلیساؤں میں راہباؤں کے پاس 500 سے زائد کتابیں نہیں تھیں۔ جب انگلستان کی سب سے بڑی لائبریری میں صرف 5000 کتب تھیں۔ یورپ کے اکثر ممالک میں کسی لائبریری میں 100 سے زائد یہ تعداد نہ ہوتی تھی۔ تب صرف بیت الحکمت میں 40 لاکھ، قاہرہ میں 10لاکھ، طرابلس میں 30 لاکھ، قرطبہ میں 7لاکھ، خلیفہ الحاکم بامر اللہ کی دارالحکمہ میں 16 لاکھ علمی نسخے موجود ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ یہ تعداد صرف ایک مرکزی لائبریری کی ہوتی تھی…… قرطبہ میں 70 اور بغداد میں تاتاریوں کے حملہ کے وقت 36 عوامی لائبریریاں موجود تھیں۔ ایک دفعہ مامون نے قیصرِ روم، مائیکل سے معاہدہ کیا جس کی شرط تھی کہ قسطنطنیہ کا فلاں کتب خانہ بغداد بھیجا جائے گا۔ بدقسمتی یہ کہ منگولوں کے حملہ میں 3 کروڑ کتب ضائع کر دی گئیں، جلا دی گئیں، دریا برد کر دی گئیں۔
عجیب کتب خانے ہوتے۔ ایسے منفرد کہ زمانے نے نہ دیکھے ہوں۔ ابو علی کی لائبریری میں کھانے پینے کی خدمت کا انتظام ہوتا۔ اندلس میں کئی جگہ آرام کرنے اور موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے کمرے الگ سے موجود ہوتے تاکہ تھکاوٹ دور کر کے پھر سے مطالعہ کے لیے تازہ دم ہوا جا سکے۔کئی جگہیں ایسے بھی تھیں جہاں پڑھنے والو ں کو وظائف دیے جاتے۔ ہر موضوع کے لیے علیحدہ کمرہ ہوتا یا الماریاں ہوتیں ……کچھ عاشقوں کا تذکرہ اور سنیں:
چند اہلِ علم کا تذکرہ……
فتح بن خاقان ہمیشہ کوئی کتاب ساتھ رکھتے۔ جب وقت ملتا آستین سے نکال کے پڑھنا شروع کر دیتے۔ حنین بن اسحاق جب بھی روم سے لوٹتے تو کتابوں کا ایک انبار ان کے ساتھ ہوتا۔ موفق الدین کے پاس 10 ہزار کتابیں تھیں۔ جمال الدین قفطی کا عشق اتنا بڑھا کہ انہوں نے مطالعہ کی وجہ سے شادی کرانے سے انکار کر دیا کہ خاندان کا جھنجھٹ متاثر کرے گا۔ مبشر بن فاتک کے پاس کتب کے ڈھیر تھے، ان کی بیوی کو جن سے چڑ تھی۔ وفات کے وقت اس نے کتب کو حوض میں پھینک دیا۔ افرائیم کو اپنی 10ہزار کتابیں بیچنے کی ضرورت پیش آئی۔ جب الافضل کو خبر ملی تو اس نے مطلوبہ رقم انہیں فراہم کر دی اور فروخت کو روک دیا۔ اصفہانی کو پتا چلا کہ فاطمیوں کا کتاب خانہ بک رہا ہے تو وہ بولی لگانے کو دوڑے گئے۔ ان کا شوق دیکھ کے محل کے متولی صلاح الدین نے ساری کتب انہیں بخش دیں۔ کچھ لطیفے بھی ملاحظہ ہوں …… عبداللہ بن خشاب کئی شعبوں میں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ مالی حالت بہت خراب تھی لیکن کتابوں سے محبت بھی بہت تھی۔ یہاں تک کہ ناجائز ذرائع سے حاصل کرنے میں بھی دریغ نہ کرتے۔ نیلام گھروں اور کتب فروشوں سے خرید کی ترکیب یہ نکالی کہ مطلوبہ کتاب کے ایک دو صفحے چپکے سے پھاڑ دیتے۔کتاب کی قیمت گر جاتی اور یہ لے لیتے۔ باقی صفحوں کو گھر جا کے چپکا دیتے…… عمر بن عبید اللہ کا ذاتی کتب خانہ منتقل کیا گیا تو بربروں نے حملہ کر کے آٹھ اونٹوں کے وزن کے برابر کتابیں چرا لیں۔ اہلِ اقتدار اور علم تو ایک طرف، وہاں تو یہ شیفتگی ایک فیشن بن چکی تھی۔ جس میں عوام الناس یہاں تک کہ غلام بھی مبتلا تھے۔
عوام بھی خاص تھے……
اندلس کے عام گھرانے، مساجد اور مقامات بھی علمی مجالس سے خالی نہ تھے۔ جہاں ادیب، شاعر اور سنجیدہ لوگ ادبی گفتگو کے لیے جمع ہوتے۔ مباحثے اور حالاتِ حاضرہ پہ علمی انداز میں بات کرتے۔ عام گھروں میں شعری نشستیں ہوتیں۔ تعلیمی اداروں کے طلبہ عصر کے بعد مسجد کے صحن میں جمع ہو جاتے اور محفل جماتے۔
ڈاکٹر شلیبی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ عرب کے میلوں کی جگہ اگر کسی چیز نے لی تھی وہ کتابوں کی دکانیں تھیں، جہاں روز نشستیں ہوتیں۔ بغداد کے صرف ایک بازار وضاح مولی میں ایسی 100سے زائد دکانیں تھیں۔ کتب فروش نرے تاجر نہ ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے ذوق کے حامل بھی ہوتے۔ الجاحظ جیسے فاضل یہ سعادت چاہتے کہ پیسے لے لیں اور رات ان تالا لگی دکانوں میں گزارنے کی اجازت دے دی جائے…… ابن جوزی نے بغداد کے سوق الوراقین کا ذکر کیا ہے جہاں شعرا اور ادبا اکھٹے ہوتے۔ قاہرہ کے سوق الوراقین میں طلبا و علما کا جمگھٹا لگا رہتا۔ قرطبہ کی سڑکیں علم کے متوالوں کی وجہ سے گزرنے والوں کے لیے تنگ پڑ جایا کرتیں۔
سب طرح کی دکانوں پہ یہ سرگرمیاں جاری رہتیں۔ ابوالعتاہیہ کی برتنوں کی چھوٹی سے دکان پر ادب کے شیدائیوں کا ہجوم لگا رہتا۔ ابوبکر الصبغی کی رنگ سازی کی دکان علما اور محدثین کی آماجگاہ ہوتی۔ ایک دکان کے سامنے میدان میں بیٹھ کے ابو عبداللہ بن یعقوب حاضرین سے مخاطب ہوتے۔ کتابوں کے خاص بازار تھے جہاں سناروں اور کھانے پینے کی دکانوں سے زیادہ ہجوم رہتا۔ معمولی ملازم یہاں تک کہ ہیجڑے بھی مطالعہ میں مصروف رہتے۔ الوارو Alvaro لکھتا ہے کہ جس کو علم و تہذیب سیکھنی ہوتی وہ مسلم علاقوں کا رخ کرتا۔ مسلمان کتابوں کو شوق سے پڑھا کرتے اور بہت زیادہ دولت ان پر خرچ کرتے۔ اس جنون میں ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ہر 100 مسلمانوں میں سے 5 اہلِ قلم ہوتے۔ قدیم یونان و روم کی ترقی کی داستانیں ہم پڑھتے ہیں، تمام عروج کے باوجود سب صدیوں میں ملا کے وہاں 100سے زائد ماہرین پیدا نہیں ہوئے۔ جب کہ مسلمانوں کی پہلی تین صدیوں میں ہی یہ تعداد 1500تک پہنچتی ہے اور بعد کا تو شمار نہیں۔
یہ دیوانگی کیوں تھی……؟
مسلمانوں میں یہ جستجو اور حرصِ علم اس لیے بے پناہ تھی کہ اُنہیں اِن ہی ہدایات کا پابند بنایا گیا تھا۔ خدائے حکیم و عظیم نے انہیں بتادیا تھا کہ”علم رکھنے اور نہ رکھنے والے برابر نہیں ہو سکتے“۔ خواہ جاہل ایڑھی چوٹی کا زور لگائے۔ ان کی کتابِ ہدایت کتنی ہی جگہ بیان کرتی تھی کہ ’افلا یتفکرون……افلا یتدبرون……افلا تعقلون……لایت لاولی الالباب‘…… یہ یونہی ایک ایک حدیث کے لیے مہینوں کے سفر نہیں کرتے تھے۔ ان کے آقا و مولاؐ نے لازم کر دیا تھا کہ’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پہ فرض ہے‘۔ یہ تاریخ میں پہلی دفعہ تھا۔ تو کیوں نہ ایک باشعور، اعلیٰ تعیم یافتہ اور خوش اخلاق قوم وجود میں آتی؟……
ابوالحسن علی ندوی کا تجزیہ اور پیغام……
”عالمِ اسلامی نے دنیا پر اپنی علمی سیادت کا سکہ جما دیا تھا۔ اور دنیا کی عقلیت و ثقافت کے رگ و ریشہ میں سرایت کر گیا تھا۔ اس نے دنیا کے ادب و فلسفہ کے جگر میں نشیمن بنایا تھا۔ صدیوں متمدن دنیا اس کی عقل سے سوچتی رہی، اسی کے قلم سے لکھتی رہی اور اسی کی زبان میں تصنیف و تالیف کرتی رہی۔ کوئی اہم کتاب لکھنا چاہتا تو عربی میں لکھتا ……اپنی قوت و تازگی کی وجہ سے وہ پوری دنیا پہ آندھی و پانی کی طرح چھا گیا اور قدیم علمی نظام اس کے سامنے ٹھٹھر کے رہ گئے۔
پھر یورپ کی ترقی کا زمانہ آیا۔ اس نے اس قدیم نظام کو اپنے تجربات اور علمی تنقید سے ’پرانا قصہ‘ بنا دیا۔ اور اس کی جگہ تعلیم و تدریس کا نیا نظام دیا جو اُس کی روح، عقلیت اور نفسیات کا کامیاب نمونہ تھا۔ جو طالب علم اس ماحول سے فارغ ہو کے نکلتا، اس کی رگ رگ میں یہ اسپرٹ کام کرتی ہوتی۔ دنیا نے دوسری دفعہ اس تعلیمی نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اور عالمِ اسلامی کو بھی قدرتی طور پر اس کے سامنے سر جھکانا پڑا جو عرصہ سے علمی انحطاط اور فکری جمود کا بیمار تھا۔ اور احساسِ کمتری کی بنا پہ یورپ کی تقلید ہی کو اپنی نجات تصور کرتا تھا…… اس نظام کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی اور جدید نفسیات میں ایک کشمکش شروع ہو گئی۔ اس نظام کا ایک ثمرہ یہ نکلا کہ تعلیم یافتہ طبقہ میں شک اور نفاق، بے صبری، زندگی سے عشق اور لالچ سمیت دیگر عیوب پیدا ہو گئے جو مغربی تہذیب کا لازمہ ہیں۔
اگر عالمِ اسلامی کی خواہش ہے کہ نئے سرے سے وہ اپنی زندگی شروع کرے اور غیروں کی غلامی سے آزاد ہو۔ اگر وہ عالم گیر قیادت حاصل کرنا چاہتا ہے تو صرف تعلیمی خود مختاری نہیں بلکہ علمی قیادت درکار ہو گی۔ اور یہ کوئی سادہ کام نہیں ہے۔ یہ بہت گہرے غوروفکر کا محتاج ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ وسیع پیمانہ پر تصنیف وتالیف اور علوم کی نئی تدوین کا کام شروع کیا جائے۔ اس کام کے سربراہ عصری علوم سے اتنی واقفیت اور گہری بصیرت رکھتے ہوں جو تحقیق و تنقید کے درجہ تک پہنچتی ہو۔ اور اس کے ساتھ اسلام کے اصلی سرچشموں سے پورے طور سیراب اور اسلامی روح سے ان کے قلب و نظر معمور ہو۔ یہ وہ مہم ہے جس کی تکمیل کسی جماعت یا انجمن کے لیے مشکل ہو گی…… اس مقصد کے لیے (اہلِ حل و عقدکو) منظم جماعتیں اور مکمل ادارے قائم کرنے ہوں گے۔ اور ایسے ماہرینِ فن کا انتخاب کرنا ہوگا جو ہر فن میں دست گاہ رکھتے ہوں۔ وہ ایسا نصابِ تعلیم تیار کریں جو ایک طرف کتاب و سنت کے محکمات اور دین کے ناقابلِ تبدیل حقائق پر مشتمل ہو اور دوسری طرف مفید عصری علوم اور تجزیہ و تحلیل پر حاوی ہو……اس میں ہر ایسی چیز ہو جو نوخیز طبقہ کے لیے ضروری ہے اور جس سے وہ اپنی زندگی کی تنظیم کر سکے۔ وہ مغرب سے بے نیاز ہو اور مادی و دماغی جنگ میں اس کے مقابل آسکے۔ اپنی زمین کے خزانوں سے فائدہ اٹھائے اور اپنے ملک کی دولتوں کو استعمال میں لائے۔ اسلامی ملکوں کی مالیات کو نئی طرح پہ منظم کرے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اس طرح چلائے کہ طرزِ حکومت اور مالیات کی تنظیم میں مغرب پر اسلامی نظام کی برتری صاف ظاہر ہو جائے۔ اور وہ اقتصادی مشکلات حل ہو جائیں جن کے آگے مغرب سَپر ڈال چکا ہے اور اپنی بے بسی کا معترف ہے۔
اس روحانی، صنعتی اور فوجی تیاری اور تعلیمی آزادی کے ساتھ عالمِ اسلامی عروج حاصل کر سکتا ہے، اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اور دنیا کو تباہی سے نجات دلاسکتا ہے جو اس کے سر پہ منڈلا رہی ہے۔ قیادت ہنسی کھیل نہیں، نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔ اور منظم جدوجہد،مکمل تیاری، عظیم الشان قربانی اور سخت جاں فشانی کی محتاج ہے“……یاد رہے کہ ہر زوال ایسے ہی عروج میں بدلا ہے اور بدلے گا۔ اس لیے اے لوگو……کمر کَس لو اور میدان میں اترو، اپنا کردار ادا کرو!

Leave a Reply

Back to top button