منتخب کالم

عمران خان کو ایجنڈا ”Re-Set“ کرنے کی ضرورت ہے!…… علی احمد ڈھلو ں

دسمبر آنے والا ہے، وقت حاضر کے بہت سے سیاسی ”ولیوں“ کی پیش گوئیاں اس ”دسمبر“ تک تھیں، بہت سے کہہ رہے تھے کہ ”ان ہاؤس“ تبدیلی ہونے والی ہے، بہت سے کہہ رہے تھے کہ بہت کچھ مائنس پلس ہونے والا ہے، بہت سوں نے ڈرایا ہوا ہے کہ دسمبر میں حکومت کو اُلٹا دیا جائے گا اور مارچ اپریل میں نئے انتخابات ہوں گے، مولانا فضل الرحمن تو یہاں تک کہہ چکے کہ انہیں دسمبر تک حکومت جانے کا یقین دلایا گیا اور کچھ تو یہاں تک ہاہاکار مچا رہے ہیں کہ عمران خان خود ہی اقتدار چھوڑ دیں گے! کیا کریں، کس کس کی سنیں! سننا پڑتی ہیں! نہ سنیں تو دوست یار اپنا سا منہ بنا لیتے ہیں …… اور میں بذات خود چونکہ جولی اور رکھ رکھاؤ والا ہوں تواس لیے میرے یاروں کا تعلق ”اہل یوتھ“، ”اہل پٹواراں“،”اہل لاڑکانہ“ الغرض سبھی جماعتوں سے ہے…… اگر تبدیلی سرکار کوئی اچھا کام کردے تو میرا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے اور اگر تبدیلی والے وزراء کچھ اناب شناب بول دیں تو یاروں سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے…… خاص طور پر ن لیگ والے دوست تو بسا اوقات محفل میں رقص کرنے اور نقلیں اُتارنے سے بھی گریز نہیں کرتے…… میں بھی اسی لیے چپ رہتا ہوں کہ بقول شاعر:
درد دل میں کمی نہ ہو جائے
دوستی دشمنی نہ ہو جائے
اور اس لیے بھی مسکرا دیتا ہوں کہ پاکستان ہے!……وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے…… زمینی حقائق برعکس ہیں …… مگر بسا اوقات جہاں افواہیں اور قیاس آرائیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں اور دیکھتے دیکھتے حقیقت خرافات میں کھو جاتی ہے۔ جیسے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ سپریم کورٹ بھی آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا نوٹیفیکیشن معطل کر سکتی ہے لیکن کر دیا گیا ہے، خیر فی الوقت حالات اگرچہ ان سازشی کہانیوں کی تائید کرتے ہیں نہ اداروں کا طرز عمل حکومت کے حوالے سے مخاصمانہ ہے اور نہ ہی کوئی فکر والی بات ہے۔ اس لیے اُن دوستوں کو یہاں یہ عرض کر دوں کہ فی الوقت حالات اتنے برے نہیں ہیں کہ دسمبر جیسا مہینہ بھی ملک پر بھاری گزرے…… میاں نواز شریف بغرض علاج بیرون ملک جا چکے ہیں، کچھ ”لوگ“ جانے کو تیار بیٹھے ہیں، مولانا فضل الرحمن کے بیانات اور ہمنواؤں کے تجزیوں پر اب کوئی معقول شخص سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہیں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے میاں شہباز شریف کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب پارلیمنٹ میں معاملات خوش اسلوبی سے چلیں گے اور فوری تبدیلی کی خواہش دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ لہٰذاکوئی احمق ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک دو ماہ بعد سیاسی صورتحال میں ڈرامائی، تبدیلی آنے والی ہو۔
ہاں میں یہ بھی ہر گز ہر گز نہیں کہتا کہ حکومت کے لیے سب اچھا ہے، مہنگائی سے لے کر کشمیر پالیسی تک ہر طرف حکومت دباؤ کاشکار نظر آرہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حکومت جانے والی ہے اور نہ ہی کبھی ملکی تاریخ میں ہوا ہے کہ سوا سال ہی میں حکومت کا قلع قمع ہو گیا ہو…… ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ عمران خان کی سیاست اب ایک اہم موڑ پر آ گئی ہے۔ وہ اپنی ممکنہ مدت کا ایک چوتھائی یعنی پچیس فیصد (پندرہ ماہ)گزار بھی چکے ہیں۔ ان کے پاس وقت اب بہت زیادہ نہیں رہا۔ اگلے سال ڈیڑھ، دو میں انہیں کچھ کر دکھانا ہے۔ عمران خان سے اب سوال ہو رہے ہیں کہ جو وعدے انہوں نے کئے تھے، ان پر کس حد تک پورے اترے؟ یہ جائز سوال ہیں، خان صاحب کو ان کا جواب دینا پڑے گا۔ صرف جذباتی نعروں اور دھواں دھار تقریروں سے بات نہیں نبھ سکتی۔ لوگ اتنے بے وقوف بھی نہیں کہ صرف لفظوں سے بہل جائیں۔ لیکن ابھی امتحان اور بھی ہیں اور دیکھتے ہیں ان امتحانات میں حکومت کتنے مارکس حاصل کرتے ہیں۔ بقول شاعر
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پاراُترا تو میں نے دیکھا
بہرکیف سیاسی حکمت اور منطق تو یہ کہتی ہے کہ چیزوں کودوبارہ لائن اپ کیاجائے،بعض چیزیں Re-Set کی جائیں، کم ازکم پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو توفعال کیا جائے تاکہ عوام سکھ کاسانس لے سکیں۔ٹیم اچھی بنائیں، کیوں کہ ان پر یہ سب سے بڑا الزام ہے کہ انہوں نے ٹیم کے انتخاب میں انتہائی بے احتیاطی سے کام لیا۔ اہم عہدوں پر بہترین لوگ نہیں لگائے گئے۔انہوں نے نااہل، بدنام، متنازع دوستوں کو عہدے دئیے۔ دہری شہریت کے حامل، افراد کو خصوصی معاون بنایا؟میڈیا کے حوالے سے بعض نہایت متنازع شخصیات کو اہم ذمہ داری دی گئی۔کئی غیر محتاط، بدزبان لوگوں کو اہم وزارتیں دیں۔ شیخ رشید جیسے بے لگام وزرا کو بھی ڈسپلن میں نہیں رکھا۔سب سے بڑھ کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے عثمان بزدار اور کے پی کے میں محمود خان کو لگایا۔ عمران خان کے سوا پورے صوبے میں شائد ہی دو چار لوگ ہوں گے جو بزدار صاحب کو وزیراعلیٰ بنانے کا دفاع کر سکیں۔ یہ نہایت غلط فیصلہ تھا، سوا سال سے خان صاحب مگر اس پر ناحق اڑے ہوئے ہیں۔ نظام میں تبدیلی ان کا اہم ترین نعرہ تھا۔ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ پنجاب میں پولیس گردی اہم ترین ایشو ہے۔ اس پر کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ اصلاحات کے نام پر محکمہ صحت، پنجاب، کے پی کے میں فساد، انتشار برپا ہے۔تعلیم کے حوالے سے کچھ غیر معمولی نہیں کیا جا رہا۔ سی ایس ایس کے نظام ہی کو بدل دیتے۔ دیگر شعبوں میں بھی اصلاحات نام کی نہیں۔
پنجاب کی وزارت کے حوالے سے میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے، عثمان بزدار کو ہٹا کو چوہدری پرویز الہٰی کو پنجاب سونپ دیا جائے، ایسا کرنے سے اُن کا آدھا کام تقسیم ہو جائے گا اورنتیجہ بھی بہترین نکلے گا۔ آپ اس حوالے سے دنیا کے بہترین قائدین کی مثالیں لے سکتے ہیں جنہوں نے بہترین ٹیموں کا انتخاب کیا اورنام کمایا، حتیٰ کہ اب تو کسی کمپنی کو چلانے کے لیے بھی ون مین شو کا خاتمہ ہو رہا ہے، دنیا کے بڑے بڑے سی ای اوز ریٹائر ہو رہے ہیں تاکہ نئے لوگوں کو موقع دیاجائے اورکمپنی اچھا کام کرے، جیسے بل گیٹس، جیف بیزوس، مارک زکربرگ،سندرپچائے، لکشمی متل، ٹم کک، جیک ڈورسے اور مائیکل ڈیل وغیرہ۔ یہ اگرکامیاب ہیں تو ان کے وہ ہزاروں امپلائی ان کی کامیابی کا ثبوت ہیں جوانہوں نے تیار کر رکھے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو اب اپنے مخالفین پر برسنے کے بجائے اپنے لئے نیا ایجنڈا سیٹ کرنا چاہیے، نواز شریف، زرداری وغیرہ کو اداروں کی صوابدید پرچھوڑ دیں،کیوں کہ لگ ایسے رہا ہے جیسے1988ء میں بے نظیر کی نواز شریف کے خلاف زوردارمخالفت نے انہیں لیڈربنا دیاتھا، لہٰذاابھی عوام کا مزاج 1988ء سے مختلف نہیں ہے اس لیے انہیں زیادہ ڈسکس کر کے انہیں ایک بار پھر لیڈربنانے سے گریز کریں۔ ان کی بجائے جو نعرے لگا کر وہ اقتدار میں آئے، اب ان پر کام شروع کریں، رکاوٹیں آئیں گی، مگر ڈٹے رہے تو سال ڈیڑھ کے اندر ہی بہت کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ عمران خان کچھ کر دکھائیں، تب ہی انہیں اگلی بار ووٹ ملیں گے۔ ان کے پاس وقت کم ہے، تاخیر کی گنجائش نہیں۔
ان سب کے ساتھ کھیلوں پربھی توجہ دیں کیوں کہ عوام اُن سے زیادہ اُمیدیں لگائے بیٹھی ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک روایت کے مطابق ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:”سردی نہیں لگ رہی؟“دربان نے جواب دیا: ”بہت لگتی ہے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔“بادشاہ نے کہا ”میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔“دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا، لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔ صبح دروازے پر اْس بوڑے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:”بادشاہ سلامت، میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا، مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔“
یہی حال اس وقت پی ٹی آئی حکومت کا ہے جس نے عوام کو زیادہ اُمیدیں دلا دی تھیں تبھی مسائل بھی زیادہ ہو رہے ہیں۔اور جب سے PTIحکومت آئی ہے کھیلوں کے نظام میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔پہلے درجنوں ڈپارٹمنٹ میں کرکٹ ہوتی تھی، سرکاری نیم سرکاری اور تجارتی اداروں میں پورے ملک سے لڑکے کرکٹ کھیلتے رہتے تھے۔ سارا سال ان کو معقول تنخواہیں ملتی تھیں اور صوبائی، مرکزی سطح پر الگ کرکٹ کا نظام تھا۔ اب ڈپارٹمنٹل سطح پر تمام کرکٹ کو ختم کرکے صرف صوبائی سطح پر نیا ڈھانچہ متعارف کرایا گیا جس سے کر کٹ بھی خوب متاثر ہو ئی ہے۔ قومی کھیل ہاکی پہلے ہی خودکشی کرنا چاہ رہا ہے، کھلاڑیوں میں بہت بے چینی پیدا ہو چکی ہے، ہم اولمپکس سے باہر ہو چکے ہیں لہٰذاآخری بات یہ کہ جب مسائل زیادہ ہو جائیں تو سیانی بات ہے کہ لسٹ بنا لیں اور ایک ایک کرکے حل کر لیں حکومت کو اس وقت اسی خاص نسخے کی ضرورت ہے!

Leave a Reply

Back to top button