کالم

عمران خان کی تشویشناک ذہنی کیفیت

عمران خان ایک نڈر اور بے باک رہنما ہیں ز وہ آئین سے نہیں ڈرتے، قانون سے نہیں ڈرتے، ججوں سے نہیں ڈرتے، صحافیوں سے نہیں ڈرتے، پارلیمنٹ سے نہیں ڈرتے، کسی سیاسی جماعت سے نہیں ڈرتے بلکہ اور تو اور خدا سے بھی نہیں ڈرتے، وہ ہر ایک پر بے تکا بہتان باندھتے چلے جاتے ہیں تقریر کے دوران ان کے قریب کھڑا کوئی شخص ان کے کان میں کوئی بات کہتا ہے اور خان صاحب نے عجب کان پائے ہیں وہ بات ان کے کان سے سیدھی ان کی زبان پر آجاتی ہے، یہ شارٹ کٹ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا، ان کی خواہش ہے کہ یہ شارٹ کٹ ان کی وزارت عظمیٰ کے بھی کام آئے، اگر ان کے کان سے کوئی بات سیدھی زبان پر آ سکتی ہے تو ان کے دل کی بات سیدھی ’’ایوان بالا‘‘ تک کیوں نہیں پہنچ سکتی تاکہ وہ ’’کھڑے کھلوتے‘‘ وزیراعظم بن جائیں؟ دیکھا جائے تو ان کی یہ خواہش بے جا بھی نہیں، اتنے بڑے رہنما جس کے ہزاروں پیرو کار روزانہ ان کے گرد جمع ہوتے ہیں، تقریر سنتے ہیں، تقریر کے بعد پی ٹی وی کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ کروڑوں کے کیمرے توڑ دیتے ہیں، کچھ زاد راہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاتے ہیں، آئے روز ’’جیو‘‘ کے دفتر پر سنگ زنی کرتے ہیں، عملے کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، صحافیوں اور پولیس والوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ تو اتنے عظیم رہنما کی وزارت عظمیٰ کی خواہش کی راہ میں آئین اور قانون کی رکاوٹیں کھڑی کرنا زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ انہیں کہا جاتا ہے کہ آپ آئندہ الیکشن کا انتظار کریں اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے وزیراعظم بنیں، کیا ان کے سامنے بیٹھا، کھڑا یا لیٹا عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ان کے وزیراعظم بننے کے لئے کافی نہیں ہے، آپ انہیں کیوں لمبا پینڈا طے کرانا چاہتے ہیں؟
چلیں اب ذرا سیدھے پیرائے میں بات کرتے ہیں خاں صاحب کے نزدیک سارے ریاستی ادارے بکے ہوئے ہیں مگر سوال یہ ہیکہ کیا وہ کروڑوں عوام بھی بکے ہوئے ہیں، جو چاروں صوبوں میں اپنے روٹین کے کاموں میں مصروف ہیں اور ان کی باتوں پر کان نہیں دھرتے؟ ان نافرمانوں نے تو ان کا کوئی بھی حکم نہیں مانا، خان صاحب نے سول نافرمانی کا فرمان جاری کیا اور کہا کہ عوام بجلی، گیس، پانی کا بل ادا نہ کریں، کوئی ٹیکس بھی ادا نہ کریں حالانکہ یہ عوام کے مطلب کی بات تھی، مگر انہوں نے یہ بھی نہ مانی بلکہ خود عمران نے بھی نہ مانی البتہ ادا کردیا۔ اب انہوں نے جمعہ کے روز عوام کو دھرنے میں آکر بجلی کے بل جلانے کی ہدایت کی ہے، بہرحال عمران خان نے ایک حکم یہ بھی دیا تھا کہ دس لاکھ ’’پیدل‘‘ اور ایک لاکھ موٹر سائیکل سوار اسلام آباد کی طرف کوچ کریں، مگر عوام نے ان کی سول نافرمانی والی بات کا مطلب خود ان کی نافرمانی لیا اور ان کے اس حکم کی تعمیل بھی نہیں کی، اپنے گھروں میں بیٹھے رہے خاں صاحب مختلف اداروں اور افراد پر آئے اور الزامات عائد کرتے رہتیہیں۔ ان سے ان کا ثبوت مانگا جاتا ہے تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں بہت سے گستاخوں نے تو ان پر توہین عزت کے مقدمے بھی دائر کردیئے ہیں۔ ان سے سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ آپ نیا پاکستان بنانے چلے ہیں اور سارے پرانے لوگ آپ کے دائیں بائیں کھڑے نظرآتے ہیں، حالانکہ یہ خان صاحب کی مجبوری ہے کیونکہ اگر یہ پرانے شکاری بھی ان کے ساتھ نہ ہوں تو جو چند ہزار لوگ دھرنے میں نظر آرہے ہیں وہ بھی نظر نہ آتے تاہم میری درخواست ہے کہ وہ ایسی باتوں سے دل برداشتہ نہ ہوں البتہ ایک کام ضرور کریں اور وہ یہ کہ جب ان کا دھرنا انہیں وزیراعظم بنا دے تو اس کے بعد اگر کوئی اور سیاسی جماعت یا کوئی شیخ طریقت دھرنا دے کہ ان سے استعفیٰ مانگے تو اس کے ساتھ وہ سلوک کریں جو حکومت نے آپ کے ساتھ نہیں کیا، اسے شاید آپ کے دل کی آواز سنائی نہیں دی یا وہ سمجھ گئی کہ آپ دراصل چاہتے کیا ہیں؟
اب آہستہ آہستہ عمران خان کے صبر کا پیمانہ لبریز سے لبریز تر ہوتا چلا جارہا ہے بلکہ وہ باہر کو بھی بہنے لگا ہے، ان کی گزشتہ روز کی تقریر میں خانہ جنگی کی طرف اشارہ کیا گیا، کیا آپ کو پتہ ہے خانہ جنگی کیا ہوتی ہے اور اس میں کیا ہوتا ہے، اس کے لئے میں آپ کو ان ملکوں کی خانہ جنگیوں کی تاریخ پڑھنے کے جھنجٹ میں نہیں ڈالوں گا، صرف اتنا بتا دینا کافی ہے کہ خانہ جنگی کے دوران غریب، امیر، ظالم ، مظلوم دونوں مارے جاتے ہیں، غربت، افلاس اور خواہشوں کے ستائے ہوئے لوگوں کے ٹولے، جن میں جرائم پیشہ افراد بھی بڑی تعداد میں شامل ہوتے ہیں، شہروں اور قصبوں میں پھیل جاتے ہیں، وہ لوگوں کی املاک لوٹتے ہیں، قتل و غارت گری کرتے ہیں، بچیوں کی عصمت دری کرتے ہیں وہ نہیں دیکھتے کہ کون کس کا بیٹا اور کس کی بیٹی ہے۔ وہ سب کو تہہ وتیغ کرتے چلے جاتے اور عزتیں لوٹتے چلے جاتے ہیں۔ لاقانونیت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور اس کے شعلے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ انارکسٹ آخر میں اپنے رہنماؤں کو بھی مار دیتے ہیں، عمران خان نے لاقانونیت کی ایک اور سیڑھی طے کرتے ہوئے گزشتہ دنوں ایک تھانے پر حملہ کردیا اور اسی طرح اپنے ساتھیوں کو پولیس کی حراست سے نکال کر اپنے ساتھ بنی گالہ لے گئے جس طرح طالبان بنوں جیل سے اپنے دہشت گردوں کو لے گئے تھے، پولیس ان ملزموں کے پیچھے بنی گالہ پہنچی۔ مگر انہیں کسی کارروائی سے منع کر دیا گیا اور وہ واپس آگئی ورنہ اس تماشے کا کچھ نہ کچھ آغاز تو ہوتا جس کی طرف خان صاحب نے اپنی گزشتہ روز کی تقریر میں اشارہ کیا اور ہاں فنانشل ٹائمز نے خان صاحب کو ایک ’’بہادر‘‘ رہنما قرار دیا ہے اس نے لکھا ہے کہ خان صاحب کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کے دھرنے سے ملکی معیشت کو کتنا نقصان پہنچا ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کی کتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور وہ اس سے بے نیاز لگتے ہیں۔ خان صاحب تو اپنی پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی کے انکشافات سے بھی خوفزدہ نہیں ہوئے، وہ ہماشما کی باتوں کو کیا اہمیت دیں گے؟
آخر میں ایک تشویش کا اظہار عوام، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں اور دوسرے تمام طبقوں نے عمران خان کے استعفیٰ کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ ’’ریفری‘‘ بھی انگلی نہیں اٹھا رہا۔ اس دھرنے کے دوران عمران نے جو زبان استعمال کی اور لاقانونیت کے جو مظاہرے کئے اور عوام کو جس طرح مشتعل کرنے کی کوشش کی اس کے نتیجے میں کچھ حاصل ہونے کی بجائے وہ بہت کچھ کھو بیٹھے۔ انہوں نے الیکشن میں اپنا جو امیج بنایا تھا وہ انہوں نے دھرنے کے دوران خود خاک میں ملا دیا۔ اب وہ بہت بری طرح ڈیسپریٹ ہو گئے ہیں وہ کہتے ہیں انہوں نے زندگی میں کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھا چنانچہ ایسے شخص کو جب ناکامی نظر آرہی ہو تو اس کی ذہنی کیفیت خطرناک ہو جاتی ہے اور پھر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے اس کی ایک مثال ہٹلر کی صورت میں بھی ہمارے سامنے ہے اللہ تعالیٰ عمران خان کو توفیق دے کہ وہ اپنی انا پر اپنی قوم کو قربان کرنے کی نہ ٹھانیں، یہ وقت ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کی تلافی کرتے ہوئے واپس قومی دھارے میں آجائیں، پاکستانی عوام ان کے اس اقدام کی دلی طور پر پذیرائی کریں گے۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

Leave a Reply

Back to top button