شخصیاتفن اور فنکار

عنایت حسین بھٹی: صوفی منش اور ہر دل عزیز فنکار…… شاہد لطیف

عنایت حسین بھٹی 1923ء میں گجرات میں پیدا ہوئے۔ زمیندارہ کالج گجرات سے ایف اے کرنے کے بعد 1948ء میں لاہور آ گئے۔ یہاں اِن کی ملاقات موسیقار ماسٹر نیاز حسین شامی سے ہوئی۔ ا ن کے ذریعے ریڈیو پر گیت گانے کے مواقع ملے۔ مشہور براڈ کاسٹر رفیع پیر زادہ المعروف رفیع پیر نے اُنہیں اپنے ڈرامے ”اکھیاں“ میں ہیرو کا کردار دیا۔ یہ پنجابی زبان میں ریڈیو سے نشر ہونے والا پہلا ڈرامہ ہے۔ عجب اتفاق ہے کہ آخر عمر میں خود رفیع پیر کی اپنی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔
ماسٹر شامی نے اِن کی ملاقات بابا چشتی سے کروائی۔ یہ فلمساز، ہدایتکار نذیر احمد کی فلم ”پھیرے“ (1949) کی دھنیں بنا رہے تھے۔کچھ گیت ان سے گوائے جو بے حد مقبول ہوئے۔ عنایت حسین بھٹی پاکستان بننے کے بعد پہلے سُپر اسٹار پلے بیک سنگر ہیں۔ پھر نذیر صاحب ہی کی فلم ”شہری بابو“ (1953) عنایت حسین بھٹی کے فلمی سفر میں مبارک ثابت ہوئی۔ فلم کی کہانی بابا عالم سیاہ پوشؔ کی تھی اور موسیقار رشید عطرے تھے۔ عنایت حسین بھٹی پر ایک منظر میں ان ہی کی آواز میں باباعالم سیاہ پوشؔکا لکھا ہوا فقیرانہ گیت فلمایا گیا تھا:
”بھا گاں والیو نام جپو مولا نام، نام مولا نام……“
اِس گیت نے عنایت حسین بھٹی کے لئے کامیابیوں کے دروازے کھول دیے۔
عنایت حسین بھٹی کے بیٹے ندیم عباس کا کہنا ہے”والد صاحب نے فلمساز کی حیثیت سے پہلی فلم ”وارث شاہ“ (1964ء) بنائی۔ لوگوں میں یہ بات عام ہے کہ وہ آخری عمر میں صوفی ازم سے متاثر ہوئے حالاں کہ اِن کی تو پہلی ہی فلم صوفی شاعر کی زندگی پر مبنی تھی…… ہماری تمام فلموں کی کہانیاں بامقصد اور سبق آموز ہوتی تھیں۔ جیسے چچا کیفی کی ہدایت میں فلم ”چَن مکھناں“ (1968ء) جوئے کے خلاف تھی۔ یہ ہمارے ادارے بھٹی پکچرز کی پہلی گولڈن جوبلی فلم بھی ہے“۔۔۔۔”میری فلم ”جَٹ ماجے دا“ ابھی بن رہی تھی کہ ہیرو اقبال حسن 14نومبر 1984ء کو اداکار اسلم پرویز کے ہمراہ ایک حادثہ میں فوت ہو گئے۔ میں اور والد صاحب اُن کے سوئم میں جا رہے تھے۔ میرے مونہہ سے نکل گیا کہ ہمارا نقصان ہو گیا۔ والد صاحب نے پوچھا کہ کتنا ہوا ہو گا۔ میں نے کہا اتنے پیسوں کا۔ اِس پر انہوں نے کہا تُم معمولی نقصان کو لئے بیٹھے ہو۔ اُن سے پوچھو جِن کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا یا بھائی اور شوہر اب نہیں رہا۔ یقین کیجئے میں شرمندگی سے زمین میں گڑھ گیا“۔۔۔۔”والد صاحب کا کہنا تھا کہ بابا چشتی جب دفتر آئیں تو اُن سے حد درجہ عزت سے پیش آنا۔ کیوں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو بھی دیا ان کے ذر یعے دیا۔ زمانے پہلے فلمساز و ہدایتکار نذیر نے بابا چشتی سے میرے آڈیشن کے بعد پوچھا تھا: ”لڑکا کیسا ہے؟“ تو بابا نے جواب دیا تھا ”ضرورت سے زیادہ اچھا۔ جب طفیل ؔہوشیار پوری آئیں تو اِن کی توقیر میں کمی نہ آئے۔ کیوں کہ میرا پہچان مِلّی نغمہ انہوں نے لکھا تھا:
اللہ اکبر اللہ اکبر
اللہ کی رحمت کا سایہ توحید کا پرچم لہرایا
اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا
”اور جب تم نے کسی کو زبان دے دی تو پھر اُس پر قائم رہنا خواہ دوسری پارٹی زیادہ پیسے کی پیشکش کرے“۔۔۔۔پاکستان ٹیلی وژن لاہور سے 1990ء کی دہائی میں اولیا اللہ، صوفی شعراء اور بزرگانِ دین سے متعلق مقبول دستاویزی پروگرام ”اُجالا“ کی میزبانی کا کام اور پروگرام کا اسکرپٹ وہ خود لکھتے تھے۔ یہ پروگرام تین چار سال چلا۔“
جنگِ ستمبر 1965ء کا تذکرہ عنایت حسین بھٹی کے بغیر ادھورا ہو گا۔ صدر ایوب نے قوم سے دفاعی فنڈ کے لئے عطیات کی اپیل کر رکھی تھی۔ مستند حوالوں سے معلوم ہوا کہ بھٹی صاحب نے اپنی بیگم سے کہا کہ جو نقدی اور زیور ہے وہ سب عطیہ کر دو۔ اُن کی بیگم نے کہا کہ ضرورت کے لئے کچھ رکھ لیں کیوں کہ جنگ طول پکڑ گئی تو پھر کیا ہو گا؟ اِس پر عنایت حسین بھٹّی نے یہ تاریخی جملہ کہا: ”خدانخواستہ ملک ہی نہ رہا تو کیا ہو گا؟“ اب تو ندیم عباس نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی۔
اِن کی تیسری فلم ”چَن مکھناں“ باکس آفس پر بہت کامیاب رہی۔ اِس کے بعد ”سجّن پیارا“، ”جِند جان“، ”دنیا مطلب دی“، ”عشق دیوانہ“ اور ”ظُلم دا بدلہ“ نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کر کے عنایت حسین بھٹی کو پنجابی فلموں کا سُپر اسٹار بنوا دیا۔ وہ واحد پاکستانی مرد ہیں جو بیک وقت سُپر اسٹار پلے بیک سنگر اور اداکار ہوئے۔ برِصغیر پاک و ہند میں اب تک محض 3 ہی ایسے افراد ہوئے ہیں جو بیک وقت سُپر اسٹار گلوکار اور اداکار تھے: ایک مادام نورجہاں، دوسرے عنایت حسین بھٹی اور تیسرے بھارت کے آنجہانی کشور کُمار۔ باقی کئی ایک اور ہیں لیکن وہ اِس درجے تک نہ پہنچ سکے۔
انہوں نے 30 سال فلموں میں کام کیا اور اپنے ادارے بھٹی پکچرز کے لئے 30 فلمیں بنائیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر تقریباََ 300 فلموں میں کام کیا۔ 2500 گیت ریکارڈ کروائے۔ اِن میں غیر فلمی گیت بھی شامل ہیں۔ روزنامہ پاکستان میں انہوں نے ”چیلنج“ کے نام سے ایک عرصہ کالم نگاری بھی کی۔
اعزازات
٭ نگار ایوارڈ برائے بہترین پنجابی فلم 1968ء ”چَن مکھناں“۔
٭ عنایت حسین بھٹی کو1970 ء کی دہائی کے وسط میں پنجاب پریس کلب کی تا حیات اعزازی ممبر شپ دی گئی، پرنس کریم آغا خان اور سابق صدر ذوالفقار علی بھٹوکے بعد وہ تیسرے فرد ہیں۔
٭ عنایت حسین بھٹی کی انسانی اور سماجی خدمات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میڈیکل اسو سی ایشن نے 1974ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان میں انہیں میڈیکل کالج کا نشان دیا۔ برِصغیر پاک و ہند میں یہ واحد مثال ہے کہ طِب سے غیر وابستہ کسی بھی شخص کو یہ نشان مِلا ہو۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اسپتال میں مریضوں کے ساتھ دور دراز مقامات سے ساتھ آنے والو ں کے لئے انہوں نے بغیر کسی ذاتی تشہیر کے اللہ کے نام پر ایک بڑا ہال تعمیر کروایا تھا۔
٭ 1976ء میں گراموفون کمپنی آ ف پاکستان ای ایم آئی کی جانب سے کمپنی سے اپنی رفاقت کی سلور جوبلی ہونے کے موقع پر عنایت حسین بھٹی کو سِلور ڈِسک پیش کی گئی۔
٭ اِن کے گائے ہوئے ملّی گیت ”اللہ اکبر“ کو مسلح افواج کے فوجی بینڈ نے ترانہ بنایا جسے طفیلؔ ہوشیارپوری نے لکھا اور موسیقار رشید عطرے نے طرز بنائی تھی۔
٭ حکومتِ سندھ کی جانب سے بھی اِس ملّی نغمے پر انہیں گولڈ میڈل دیا گیا تھا۔
٭ پروفیسر موہن سنگھ فاؤنڈیشن امرتسر نے 1997ء میں ایک شیلڈ اور ایک تمغے سے نوازا۔ عنایت حسین بھٹی کے انتقال کے بعد مذکو رہ بالا فاؤنڈیشن نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے”عنایت حسین بھٹی میموریل ایوارڈ“ قائم کیا۔اس سلسلے کا پہلا ایوارڈ 2001ء میں جسبیر جَسّی گورداسپوریا کو لدھیانہ میں دیا گیا۔
عنایت حسین بھٹی کے گائے ہوئے کچھ مشہور فلمی گیت:
’جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے، محبت کا جنازہ جا رہا ہے‘، ایور ریڈی پکچرز کی سلور جوبلی فلم ”عشقِ لیلیٰ“ (1957ء)۔ یہ بھٹی صاحب کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین اُردو فلم ہے۔ اِس فلم کے تذکروں میں یہ بات ملتی ہے کہ اِس میں 18 گیت تھے۔ اِس تعداد کے گیت اور کسی فلم میں نہیں ہوئے۔ مزے کی بات یہ کہ ریڈیو پاکستان اور عوامی اجتماع کے مقامات پر اس فلم کے بیشتر گراموفون ریکارڈ خاصے مقبول ہوئے۔ فلم میں سین کی مناسبت سے اِن گراموفون ریکارڈوں کے علاوہ عنایت حسین بھٹی کی آواز میں شعر اور قطعات بھی ہیں۔ گیت نگار قتیلؔ شفائی اور موسیقار صفدر حسین تھے۔
’قدم بڑھاؤ ساتھیو قدم بڑھاؤ ساتھیو قدم بڑھاؤ، تم وطن کے شیر ہو شیر ہو دلیر ہو، تم اگر جھپٹ پڑو تو آسمان بھی ڈھیر ہو‘، آئرین پروین اور ساتھیوں کے ساتھ کورس، سلور جوبلی فلم ”سلطنت“ (1960ء)۔ یہ ملی نغمہ قتیلؔ شفائی نے لکھا اور موسیقی بابا جی اے چشتی نے دی۔
’او چن میرے مکھناں کہ ہَس کر اِ ک پَل ایدر تکنا……‘، بھٹی پکچرز کی گولڈن جوبلی فلم ”چَن مکھناں“ (1968ء) اِس فلم کے ہدایتکار کیفی اور فلمساز ندیم عباس بھٹی ہیں۔
ماشاء اللہ اپنے والد کی طرح نہایت ہی ملنسار اور دل سے خوش آمدید کہنے والے ہیں۔ حزیں ؔ قادری کے اِس گیت کی طرز بابا چشتی نے بنائی۔ اِس گیت کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج تک اصل گیت ریڈیو پاکستان سے سُنوایا جاتا ہے۔ ’دنیا مطلب دی او یار، مطلب ہووے تے پیار وی کر دے ظالم دنیا دار‘، بھٹی پکچرز کی گولڈن جوبلی فلم ”دنیا مطلب دی“ (1970ء)۔ اِس فلم کے فلمساز وسیم عباس اور ہدایتکار وسیم اور ندیم عباس بھٹی کے ماموں ایس اے اشرفی تھے۔ اِس فلم کا اسکرین پلے ہدایتکار اور اداکار کیفی نے لکھا۔گیت حزیں ؔ قادری کے اور موسیقار ایم اشرف تھے۔’زُلف دا کُنڈَل کھُلّے نہ اکھ دا کجّل ڈُلّے نہ، دِل لَتھے یا سولی چَڑھئیے بھید پیار دا کھُلّے نہ‘، فلمساز و ہدایتکار حسن طارق کی فلم ”ڈھُول جوانیاں مانے“ (1972) کا یہ سدا بہار گیت آج بھی اُتنا ہی مقبول ہے جتنااُس دور میں تھا۔ یُو ٹیوب پر اِس گیت کو چھبیس لاکھ افراد نے دیکھا ہے۔ یہ گیت حزیں ؔ قادری کا اورموسیقی نذیر علی کی تھی۔’ایویں پھج پھگ رُس بَینا، سیانیاں دا کہنا، نی ہُندا ای حرام سوھنیئے‘ بھٹی پکچرز کی جانب سے فلمساز ندیم عباس کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم ”ظُلم دا بدلا“ (1972ء)۔ ہدایتکار کیفی، موسیقار بخشی وزیر اور گیت نازش کاشمیری کا تھا۔ موسیقار بخشی وزیر کا نام اور کام خود ایک تحقیق طلب موضوع ہے۔ موسیقار بخشی وزیر کے تقریباََ تمام فلمی گیتوں میں اُن کی مخصوص چھاپ بہت واضح محسوس ہوتی ہے لیکن نہ جانے کیوں پاکستانی فلمی صنعت نے اِن سے بہت ہی کم کام لیا۔’میڈا عشق وی تُوں ایمان وی تُوں‘ میڈا جِسم وی تُوں جِند جان وی تُوں‘ ندیم پکچرز کی پہلی پاکستانی سرائیکی فلم ”دھیاں نمانیاں“ (1973ء)۔ کلام خواجہ غُلام فرید اور طرزماسٹر عاشق حسین نے بنائی۔ اِس فلم کے فلمساز، ہدایتکار اور ہیرو خود عنایت حسین بھٹی تھے۔ عنایت حسین بھٹی کی آخری فلم ”عشق روگ“ (1989ء) تھی جِس میں یہ مہمان اداکار تھے۔
پاکستانی فلمی صنعت میں ایسی ہمہ جہت شخصیت ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔ جس کی زندگی کا ہر رُخ شاندار رہا۔ بطور بیٹا، باپ، سماجی کارکُن اور بھرپور محبت کی عکّاس غیر فلمی شخصیت کسی طرح بھی فلمی شخصیت سے کم نہیں۔ اللہ اِن کے مرقَد پر نُور کی بارش کرے۔آمین!

Leave a Reply

Back to top button