تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

عورتیں ’لبھانے والی چیز‘ اور مرد ’بے قابو اوباش‘

او انتوا: ’اوباش مردوں کی گھورتی نظروں کو جھکانے والے‘ آئٹم سانگ کو اخلاق بافتہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

مختصر سے کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون ایک جوشیلا گانا گا رہی ہیں جس نے انڈیا میں دھوم مچا رکھی ہے۔

چنانچہ جب دسمبر میں جنوبی انڈیا کی تیلگو فلم انڈسٹری کا ایک نیا گانا ریلیز ہوا، جس میں مردوں کی گھورتی نگاہوں کو جھکا دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تو اس نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

اس گانے کو پانچ زبانوں، تیلگو، تمل، کنڑ، ملیالم اور ہندی، میں ریکارڈ کیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر صرف 19 سیکنڈ کی فوٹیج کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔ تمام زبانوں میں گیت کے بول میں ایک ہی قسم کا پیغام ہے کہ عورت خواہ بڑی عمر کی ہو یا نوجوان، طویل قامت ہو یا پستہ قد، ساڑھی پہنے ہو یا سوٹ، وہ مردوں کی گھورتی نظروں سے نہیں بچ سکتی۔

لیکن بہت سی خواتین اس سے متاثر نہیں ہوئیں۔ انھوں نے اسے ’مقبولیت حاصل کرنے والی محض ایک چال‘ کے طور پر دیکھا ہے۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ گانے کے بول درحقیقت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عورتیں ’لبھانے والی چیز‘ ہیں اور مرد ’بے قابو اوباش‘۔

اور وہ کہتے ہیں کہ اس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو اب ایک کامیاب روایتی فارمولے میں ہوتے ہیں: جب کوئی عورت جھومتی ہے، پھسلتی ہوئی آگے بڑھتی اور ہیرو سے لپٹتی ہے تو مرد اسے شہوانی نظروں سے دیکھتے ہیں جبکہ اس دوران کیمرے کی آنکھ مسلسل عورت کے جسم کے برہنہ حصوں پر فوکس مرکوز رکھتی ہے۔

ایک تجزیہ نگار نے لکھا کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ الفاظ کے ذریعے جن چیزوں پر ماتم منایا گیا ہے، ویڈیو میں ان تمام باتوں کا جشن منایا گیا ہے۔‘

متعصب لیکن کامیاب
‘دی نیوز منٹ’ کی فیچر ایڈیٹر سومیا راجیندرن کہتی ہیں: ’میں نے گانے کے بول کا جائزہ لیا۔ اور تمام ورژنز میں ایک مشترکہ بات موجود ہے اور وہ یہ کہ خواتین کا کھانے (کی کسی نہ کسی چیز) سے موازنہ کیا گيا ہے۔‘

’تمل میں حلوہ ہے، تیلگو میں انگور، ملیالم میں شکر‘ ہے یعنی خواتین کو کھانے والی چیز کہا گیا ہے جس سے (مردوں کے) گھورنے اور اوباشی کو جواز مل سکتا ہے۔

بہر حال ناظرین کو، جن میں بہت سے مرد شامل ہیں، یہ گانا پسند آیا ہے۔

انھوں نے سامنتھا روتھ پربھو کی تعریف کی ہے جو اس گیت میں مرکزی کردار نبھا رہی ہیں اور اس وقت جنوبی ہند کی بڑی خاتون سٹارز میں سے ایک ہیں۔ اگر چہ وہ فلم ’پشپا‘ کے اس گیت کے ‏علاوہ فلم میں کہیں نظر نہیں آئیں، تاہم ناظرین اس لیے بہت خوش دکھائی دیتے ہیں کہ ایک ہیروئن جسے وہ ان کی اداکاری کے لیے جانتے ہیں وہ اس قدر ’گدگدانے‘ والی بھی ہو سکتی ہے۔

اگر چہ فلم ریلیز ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود مکمل ویڈیو ابھی آنا باقی ہے۔ اس کے صرف تیلگو ورژن کو یوٹیوب پر دس کروڑ مرتبہ دیکھا چکا ہے۔ اور اس گیت کا مکھڑا ’او انتوا‘ کئی دنوں سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔

بی بی سی اردو نے اس کے ہندی ورژن کو یوٹیوب پر دیکھا تو اس کا مکھڑا ’اوو بولے گا‘ تھا اور ایک سطر اس طرح تھی ’گورے گورے مکھڑے پر تیار، کوئی مرنے کو۔‘ اور اسے دو کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انڈین فلم میں آئٹم سانگ کامیاب فارمولہ ہے۔ انڈیا میں مردانہ بول چال میں ’آئٹم‘ کا استعمال جنسی طور پر لبھانے والی عورت کے لیے ہوتا ہے۔

مز راجیندرن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ’آئٹم‘ گیتوں میں عورتوں کو بصری اور گیت کے بول دونوں میں گوشت کے ٹکڑے کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔

اس کی بدترین مثال دیتے ہوئے وہ ‘فیوی کول گیت’ کا ذکر کرتی ہیں جس میں بالی وڈ سٹار کرینہ کپور خان ہیں، جہاں وہ اپنے آپ کو ‘تندوری چکن’ کہتی ہیں ‘جسے شراب کے ساتھ حلق سے نیچے‘ اتارا جا سکتا ہے۔

مز راجیندرن نے مزید کہا: ‘بہت سے معاملات میں، ہم گانے میں عورت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس کی کوئی بیک سٹوری نہیں ہوتی ہے، وہ صرف کسی منظر میں نظر آتی ہے اور پھر فلم سے غائب ہو جاتی ہے۔’

‘آئٹم’ گیتوں پر طویل عرصے سے خواتین کو اعتراض رہا ہے اور انھوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان میں تنگ و چست لباس، لبھانے والی کوریوگرافی، بے ہنگم بول اور کیمرہ کے شہوانی تسکین جیسے زاویے شامل ہیں۔ لیکن وہ ایسے ملک میں بلاشبہ مقبول ہیں جہاں سامعین کی اکثریت مرد ہے۔

کبھی فلم کی اچھی کمائی کے لیے ایک مقبول ساؤنڈ ٹریک ضروری ہوتا تھا جو لوگوں کو سنیما کی طرف راغب کرتا تھا۔ اب یوٹیوب اور انسٹاگرام کے دور میں گانے اور بھی زیادہ منافع بخش ہو گئے ہیں۔

خواتین کو مصنوعات بنانے کی دہائیاں
سنہ 1994 میں صحافی ارون کٹیار نے لکھا تھا کہ پچھلے سال ایک بے ہودہ فلمی گیت کی کامیابی کے بعد ‘فحش بول’ لکھنے کی ریس لگ گئی۔

وہ گیت ’چولی کے پیچھے کیا ہے‘ تھا۔ اس کا معصومانہ جواب ‘چولی میں دل ہے میرا’ تھا لیکن اپنے زمانے کی معروف اداکارہ مادھوری دیکشت اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتی ہیں جس کا اشارتی معنی کچھ اور ہو سکتا ہے۔

فحش الفاظ اور اشتعال انگیز اشارے کنائے نے لوگوں کو مشتعل کیا جن میں سیاستدان بھی شامل تھے۔ انھوں نے یہ دلیل دی کہ اس گیت سے مردوں کو خواتین سے بدتمیزی کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ لیکن گانا بے انتہا ہٹ رہا۔

وقت گزرنے کے ساتھ، کپڑے تنگ اور چھوٹے ہوتے گئے، اور کھلے گریبان اور کھلتے چلے گئے۔ اگرچہ گیتوں کے بول میں خواتین کو مصنوعات کے طور پر پیش نہیں کیا گیا لیکن کیمرے نے وہ کام کر دیا۔ جلد ہی ’آئٹم سانگ‘ قابل دید چیز بن گئی اور ایشوریا رائے سے لے کر کترینہ کیف اور دیپکا پاڈوکون تک جیسی بالی وڈ کے سرکردہ سٹارز ‘آئٹم سانگ’ میں ‘خصوصی نمائش’ کے طور پر دیکھی گئیں۔

اس وقت انڈیا کی سب سے بڑی میوزک کمپنی ٹی سیریز کے ایگزیکٹیو ونود بھانوشالی نے سنہ 2010 میں انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ ‘گیت میں ہیروئن جتنی بڑی ہو گی، گانے کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے کیوںکہ اس میں بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ لوگ بڑی اداکارہ کو جذبات کو برانگیختہ کرنے والے گیت میں دیکھیں۔’

اور پھر آئٹم سانگ ‘کول’ یعنی قابل قبول بن گیا۔ اسے نائٹ کلبوں میں دکھایا گیا اور بے شمار شادیوں میں بجایا گيا۔

کیا ‘آئٹم سانگ’ خواتین کو بااختیار بنا سکتا ہے؟
سنہ 2017 میں آنے والی فلم ‘انارکلی آف آرہ’ ریاست بہار میں ایک گلوکار اور ڈانسر پر منبی ہے۔ اس فلم کے فلم کے مصنف اور ہدایت کار اویناش داس اس بارے میں کہتے ہیں: ‘یہاں آپ کا نقطہ نظر اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آپ اپنی کہانی کس طرح بتاتے ہیں اور اپنے کیمرہ کو کس پوزیشن میں رکھتے ہیں۔’

معروف اداکارہ سوارا بھاسکر نے فلم ‘انار کلی’ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے جس میں دوہری کہانی ہے اور بے ہنگم رقص ہے، لیکن فلم میں کبھی بھی انھیں مجسم نہیں کیا گیا ہے یعنی ان کو کوئی چیز نہیں بنایا گیا ہے۔ کیمرہ ان کے جسم کے کلوز اپ سے گریز کرتا ہے، اکثر اس پر دور سے فوکس کیا گیا ہے تاکہ دوسرے فنکاروں اور اس کے ارد گرد کی بدتمیز مرد نگاہیں دکھائی جا سکیں۔

ایک عام ‘آئٹم’ گیت میں تسلی بخش بدلاؤ نظر آتا ہے جب فلم ‘انار کلی’ کے آخر میں وہ ایک ‘انتقامی’ گیت پر پرفارم کرتی ہیں اور ان تمام طاقتور لوگوں کو بلاتی ہیں جنھوں نے پہلے سٹیج پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔

اگرچہ یہ مالی طور کامیاب فلم نہیں رہی لیکن ناقدین نے اس فلم کی تعریف کی کیونکہ اس میں ایک خاتون کو اپنی جنسیت کے لحاظ سے بااختیار دکھایا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آئٹم والے گیت اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ اپنے زمانے کی معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نے سنہ 2018 میں کہا تھا کہ ‘جب آپ کسی عورت کے جسم کو ٹکڑوں میں دیکھتے ہیں جیسے، سینے کا جھولنا، ناف کا ہلنا، کولھے کا مٹکانا، تو آپ اس کی خودمختاری کو چھین رہے ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اکثر خواتین جو اُن میں دکھائی دیتی ہیں وہ مردوں کی گھورتی نگاہوں کے سامنے ’ہتھیار ڈال رہی ہوتی ہیں۔‘

بعض خواتین اس سے اختلاف کر سکتی ہیں۔ مثلا معروف اداکارہ ملائکہ اروڑا نے کہا ہے کہ اس طرح کے گانوں میں انھوں نے ’کبھی خود کو کوئی شے (مصنوع) نہیں سمجھا۔‘ کترینہ کیف نے کہا کہ انھیں سنہ 2012 کی ہٹ فلم کرنے میں ‘مزہ’ آیا جبکہ فلم ساز اور ہدایت کار کرن جوہر نے اپنی فلموں میں ‘آئٹم’ سانگ شامل کرنے کے لیے پہلے ہی معافی مانگ لی تھی۔

اگرچہ ‘آئٹم’ گیتوں کو بعض اوقات خواتین کی جنسیت کا جشن منانے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، لیکن مز راجیندرن کا کہنا ہے کہ جو فلمیں حقیقت میں ایسا کرتی ہیں وہ اکثر مشکلات میں پڑ جاتی ہیں۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ان دعوؤں کو جانچنے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ ناظرین پر گانے کے اثرات کی جانچ کی جائے کہ ’آیا کوئی گیت لوگوں کو ان کے تعصبات کا سامنا کرنے پر مجبور کر کے بے چین کر رہا ہے یا یہ کہ وہ ان کے مطابق ہے؟‘

Leave a Reply

Back to top button