HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » غزوہ بدر تاریخ اسلام کا فیصلہ کن مرحلہ

غزوہ بدر تاریخ اسلام کا فیصلہ کن مرحلہ

پڑھنے کا وقت: 18 منٹ

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری …….

حق، باطل کے ساتھ کسی مرحلے اور کسی سطح پر بھی سمجھوتے کا روادار نہیں ۔اگر مسلمان اپنے عظیم مشن کو پس پشت ڈال کر باطل کے عقائد ونظریات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے اورظالم استحصالی طاقتوں کے عقائد باطلہ کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ بیدارکرکے عافیت کی درمیانی راہ اختیار کرلیتے اوراپنے عقائد ونظریات سے اپنی فکری اورروحانی وابستگی کو کمزور کرلیتے تو معرکہ بدر کبھی برپا نہ ہوتا۔مشرکین مکہ کی تلواریں کبھی بے نیام نہ ہوتیں،کفر اپنے پورے مادی وسائل کے ساتھ جذبہ شہادت سے سرشارمسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو للکارنے اوران کے خلاف صف آراءہونے کی ضروت ہی محسوس نہ کرتا۔

لیکن ہادی برحق ﷺ نے باطل کے ساتھ کسی سمجھوتے کے امکانات کو رد کرتے ہوئے بے سروسامانی کے عالم میں کفر کے ساتھ ٹکر لینے کا عزم کرلیا۔یہ نبوت کا پندرھواں سال تھا ،تاریخ اسلام کا فیصلہ کن مرحلہ،حق اورباطل کی کھلی جنگ ، جنگوں کے ایک طویل سلسلے کی تمہید ،اسلامی تشخص کی پہلی عسکری توجیہہ، اپنے نصب العین کی سچائی پر غیر متزلزل یقین کی علامت اوراپنے وسیع تر تناظر میں دو قومی نظریہ کی حقانیت نہ صرف آزمائش کی کسوٹی پر پورااترتی ہے بلکہ فکری اورنظریاتی حوالے سے فرد کی عملی تربیت کا احساس بھی عمل کی بھٹی سے گزر کر کندن بنا اورپھر یہ کندن فرد کے کردار میں ڈھل کر معاشرے میں خیر کی قوتوں اورنیکی کے رویوں کے فروغ کا ضامن قرارپایا۔

غزوہ بدر کو دیگر غزوات پر کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے ۔اسے کفرواسلام کا پہلا معرکہ ہونے شرف حاصل ہے ۔خود حضور اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کو ایک فیصلہ کن معرکہ قراردیا اورقرآن مجید نے اسے یوم الفرقان سے تعبیرکرکے اس کی اہمیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔فرمایا” جو ہم نے اپنے( برگزیدہ) بندے پر( حق وباطل کے درمیان)فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب بدرمیں مومنوں اورکافروں کے) دونوں لشکر باہم متصادم ہوئے تھے“(الانفال۸:۱۴) بلاشبہ یوم بدر غلبہ حق اور باطل کے مٹ جانے کا دن تھا ،جس دن حق کو واضح اوردوٹوک فتح حاصل ہوئی اورکفرکے مقدرمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلت آمیز شکست لکھ دی گئی۔مشرکین کا تکبر وغرورخاک میں مل گیا،کبرونخوت کی دستارپاو¿ں تلے کچلی گئی۔جھوٹے تعصبات کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھر گئیں۔ حق کا پرچم بلند ہوا اوربلند ہی ہوتا چلا گیا ۔

جھوٹی انا کا سرجھکا اورجھکتا ہی چلا گیاروشنی کی تلاش کا سفر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تھا ۔عقیدہ توحید ،انسان کی کتاب روز وشب کے ہرباب کا عنوان بن رہا تھا اورمطلع انسانیت پر ایک نئی صبح طلوع ہورہی تھی۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے۔”اوراللہ چاہتاتھا کہ اپنے کام سے حق کو حق ثابت فرمادے اور(دشمنوں کے بڑے مسلح لشکر پر مسلمانوں کو فتح یابی کی صورت میں)کافروں کی(قوت وشان وشوکت)کی جڑکاٹ دے“ (الانفال۸:۷)

اسباب جنگ:
ہر عمل(Action)کا ایک رد عمل(Reaction) ہوتاہے ۔عمل جتنا شدید ہوگا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا ۔قانون فطرات ہے کہ جتنا کسی چیز کو دبا یا جاتاہے وہ چیز اتنا ہی ابھر کرسامنے آتی ہے اورپھر ہر عمل کے چند ایک محرکات ہوتے ہیں۔حق وباطل کے اس معرکہ کی وجوہات حضور ﷺ کے اعلان نبوت سے ہجرت مدینہ تک ان گنت واقعات کے دامن میں پھیلی ہوئی ہیں۔اگرچہ چند واقعات کو اس معرکہ کی فوری وجوہات میں شمار کیاجاسکتاہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصادم اسی روز ناگزیر ہوگیا تھا جس دن حضور ﷺ نے کفر وشرک کی آگ میں جلتے ہوئے سماج میں اعلائے کلمة الحق کا پرچم بلند کیا تھا ۔جس روز حضور ﷺ نے پتھر کے بتوں کی پرستش کو ترک کرکے خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں سربسجود ہونے کی دعوت دی تھی۔

فار ان کی چوٹیوں پر آفتاب ہدایت کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی اندھیروں نے اپنی بقا کی جنگ کے لئے صف بندی کا آغازکردیا تھا ۔اسلام اورپیغمبراسلام ﷺ کے خلاف سازشوں اورشرانگیزیوں کا سلسلہ اصل میں غزوہ بدر کا دیباچہ تھا ۔ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمان منظم ہونے لگے اورکفار کا یہ خدشہ کہ مسلمان ایک قوت بن کر ابھرے تو ان کا اقتدار ہی نہیں پورا نظام خطرے میں پڑجائے گا ۔حقیقت میں تبدیل ہونے لگا تو مشرکین مکہ کے لئے مسلمانان مدینہ کے ساتھ مسلح تصاد م کے سواکوئی چارہ نہیں رہ گیاتھا۔تاریخ شاہدہے کہ اعلان نبوت کے ساتھ ہی اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہوگیا تھا ۔گو اس تصاد م کا موقع پندرہ سال بعد آیا لیکن ایک عرصے سے کفار ومشرکین نفرت کا لاوا اپنے سینوں میںلئے وحشت وبربریت کی تصویر بنے ہوئے تھے ۔اس وحشت وبربریت کا مظاہرہ مسلمانوں کوانگاروں پر لٹاکر ہوتااورکبھی انہیں تپتی ریت پر گھسیٹنے کے غیر انسانی فعل کی صورت میں اسکا اظہار ہوتا۔

کبھی سرکار دوعالم ﷺ کے قتل کی سازش کرکے قریش اپنے خبثِ باطن کا مظاہر ہ کرتے اورکبھی گھاٹی شعب ابی طالب میں خاندان رسول ﷺ کا معاشرتی بائیکاٹ کرکے انتقام کی آگ کو سرد کرتے۔ لیکن یہ آگ سرد ہونے کی بجائے بھڑکتی رہی سینوں میں نفرت کا لاوا کھولتا رہا ۔ہم غزوہ بدر کے تمام ممکنہ اسباب کا جائزہ لیں گے۔غزوہ بدر کے پس منظر میں جن اسباب کا ذکر کیاجائے گا ان کا بھی ایک پس منظر (Background)ہے ،ہم پس منظر اورپیش منظر دونوں کا جائزہ لے کر اس فیصلہ کن معرکے کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی سعی کریں گے۔

کفار کی اسلام دشمنی
جس دن اعلان نبوت کے ساتھ داعی حق نے کفارومشرکین کو دعوت حق دی تھی اسلام دشمنی کاآغاز بھی اسی روز ہوگیا تھا ۔آواز حق پر کفارکان دھرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔نئے اجالوں کو کتاب زندگی کا عنوان بنانے کی ہمت ان میں نہ تھی۔وہ جہالت کی ردائے تار تار سے چمٹے ہوئے تھے۔مشرکین نظام باطل کے حصار سے نکلنے پر قطعاً رضامند نہ تھے۔جب حضور ﷺ نے ان کے عقائد باطلہ کو بے نقاب کرکے توحید کا نعرہ بلند کیااوربت پرستی کے خلاف دعوتی جدوجہد کا آغاز کیا تو کفار مکہ کے ساتھ روایات کہنہ کا علم اٹھائے پورا عالم عرب اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ۔مکروہ سازشوں کا ایک ایسا جال بناگیا جس سے نکلنے کا تصور وہی عظیم لوگ کرسکتے ہیں جنہیں اپنے نصب العین کی سچائی پر غیر متزلزل یقین ہواورابتلا وآزمائش کے کسی مرحلے پر بھی ان کی جبین شکن آلود نہ ہو۔

جواب دیجئے