کالم

غلط وقت کا بیان

بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اور ”مودی راج“ کے کابینہ کے رکن بابولال گوہر کے اس بیان سے سرگرم بحث شروع ہوگئی ہے کہ آبروریزی کے الزامات صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط یا بے بنیاد بھی ہوسکتے ہیں۔ بابو لال گوہر کا یہ بیان درست بھی ہوسکتا ہے مگر اس بیان کے جاری کرنے کا وقت صحیح نہیں ہے۔
اس بیان کے غلط وقت پر جاری کرنے کی دلیل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ابھی عام انتخابات کے انعقاد کو بہت توڑا عرصہ گزرا ہے۔ عام انتخابات جیتنےوالی پارٹی اپنی فتح کا جشن منانے کے بعد سانس لے رہی ہے یعنی آرام فر ما رہی ہے جب کہ عام انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنے والوں کے زخم ابھی تازہ ہیں سلگ رہے ہیں جو جیتنے والی پارٹی (بی جے پی) کے وزیر کے بیان پر مزید سلگ سکتے ہیں بھڑک بھی سکتے ہیں۔
اس بیان کے جاری کرنے کا وقت اس لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ ابھی چند روز پہلے ہی اترپردیش کے علاقہ شہادت گنج سے آم کے درخت کے ساتھ لٹکائی جانے والی دو چھوٹی جات شودر گھرانے کی جوان لڑکیوں کی لاشیں اتاری گئی ہیں جن کو اجتماعی آبروریزی کے بعد آم کے درخت کے ساتھ پھانسی دے کر خاموش کردیا گیا تھا۔ آبروریزی کے واقعات کو غلط اور صحیح قرار دینے والے وزیر بابو لال گوہر مذکورہ بالا واردات میں اترپردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا دفاع فرما رہے تھے۔ حالات بلاشبہ اس نوعیت کا بیان جاری کرنے کے لئے صحیح ہرگز نہیں تھے چنانچہ مخالفین کے جذبات کا بھڑک جانا بہت حد تک قدرتی تھا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے یا بولنے سے پہلے تولنا بھی ضروری بلکہ لازمی ہوتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند کے قانون اور امن و امان کے قیام کے اداروں کا یہ کردار بھی بہت عرصے سے اس خطے کی خواتین کے اعتراض کا نشانہ ہے کہ ناجائز تعلقات کے سلسلے میں گرفتار ہونے والوں میں گناہ میں عملی طور پر حصہ لینے والوں سے زیادہ دعوت گناہ دینے والوں کو واجب گرفت سمجھا جاتا ہے۔ اس دعوت کو قبول کرنے والوں کو بعد میں قابو میں کیا جاتا ہے۔
عام طور پر مردانہ سوچ یہ کہتی ہے کہ عورتیں مردوں کے سفلی جذبات کو بھڑکانے والے یا جنسی ترغیب دینے والے لباس زیب تن فرماتی ہیں یا اس نوعیت کی حرکتیں، اشارے یا باتیں کرتی ہیں جن کے زیر اثر مردوں کی جارحیت قابو سے باہر ہو جاتی ہے۔
یہ بات یا دلیل بھی سو فی صدی غلط نہیں ہوگی کہ آبروریزی یا اجتماعی آبروریزی (گینگ ریپ) کے تمام الزامات درست نہیں ہوتے ان میں سے کچھ من گھڑت، مبالغہ آمیز اور محض دشمنی کے جذبات کے تحت بھی ہوسکتے ہیں۔ جب سے اجتماعی آبروریزی کی زد میں آنے والی غریب، بے کس نادار، مجبور لڑکیوں اور ان کے غمزدہ والدین کے آنسو پونچھنے کے لئے مالی امداد دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے تحت بعض لوگوں کے اندر لالچ کے جذبات بھی اس نوعیت کے الزامات کے ذریعے مالی فائدہ اٹھانے کو ناجائز کوشش بھی کرسکتے ہیں اور بعض سرکاری افسران اس اخلاقی پستی کی مثالیں بھی پیش کرسکتے ہیں مگر جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستا ہے وہاں یہ بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس سکتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button