منتخب کالم

فالودے والے کا اکائونٹ کس نے کھولا؟…… چوہدری فرخ شہزاد

پاکستانی پارلیمنٹ کے اندر مختلف ارکان اسمبلی ایک دوسرے کو ڈبل شاہ کہتے رہے ہیں۔ ڈبل شاہ ایک روایتی نو سرباز تھا وہ گائوں کا ایک سکول ٹیچر تھا جس کے پاس ایک پرانی سی سائیکل ہوتی تھی جس پر وہ سکول ٹائم کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھانے جاتاتھا۔ یہ وہ بندہ تھا جس نے پاکستان کی تاریخ کے بہت بڑے مالیاتی سکینڈل کی بنیاد رکھی وہ رقم ڈبل کرنے کا جھانسہ دے کر عوام سے اربوں روپے لوٹ کے لے گیا۔ جب تک کہانی منظر عام پر آئی سادہ لوح عوام اربوں روپے سے محروم ہو چکے تھے ڈبل شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جیل میں ہی وفات پا گیا مگر اس کے فراڈ کا شکار لوگ ابھی تک رل رہے ہیں۔
اس طرح کے واقعات کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا بینکنگ سیکٹر سائوتھ ایشیا کا فرسودہ ترین سسٹم ہے جس کی طاقتور طبقہ دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہے جبکہ ایک عام آدمی کو بینک کے دروازے پر روک لیا جاتا ہے کہ آپ نے کہاں جانا ہے۔ فالودے والے کے نام پر دو ارب روپے کا فراڈ ہو یا ویلڈنگ والے کے اکائونٹ سے ایک ارب کی ٹرانزیکشن ان سب کے پیچھے بینک عملے کی ملی بھگت ہمیشہ کار فرما رہتی ہے ۔ اگر بینکنگ سسٹم درست ہو تو ڈبل شاہ جیسے سکینڈل آئے روز پیدا نہ ہوں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی National Finance Inclusion Strategy آج سے چار سال پہلے 2015 ء میں متعارف کروائی گئی جس کا اہم ترین فیچر یہ تھا کہ 2020ء تک پاکستان کی 50 فیصد بالغ آبادی کو بینکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں یا سادہ لفظوں میں بالغ آبادی 50 کے بینک اکائونٹ کھولے جائیں تاکہ عوام میں بچت کی عادت کو فروغ دیا جائے۔ اس وقت اعداد و شمار یہ ہیں کہ پاکستان کی بالغ آبادی میں 10.3 فیصد لوگوں کے پاس بینک اکائونٹ ہے جبکہ سائوتھ ایشیاء میں یہ شرح 33 فیصد ہے ۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ بالغ آبادی کا ایک تہائی حصہ قرضے حاصل کرتا ہے جس میں سے بینک سے قرضہ لینے والے صرف 3 فیصد ہیں باقی لوگ غیر روایتی ذرائع سے قرضہ لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ محلے کی ہر گلی میں قسطوں پر موٹر سائیکل فریج ٹی وی اور دیگر اشیاء کی فراہمی کا نظام کتنے آرگنائزڈ طریقے سے چل رہا ہے ۔ ان کی کامیابی کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ بینکنگ سیکٹر نان فائلرز پر جو ٹرانزیکشن ٹیکس لگایا تھا اس کی وجہ سے بھی لوگوں کا بینک نظام پر اعتماد مجروح ہوا اور عوام بینکوں سے دور ہوتے چلے گئے۔ اگر ہمارا بینکنگ نظام موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترے گا تو یہ خود ڈوبنے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو بھی لے ڈوبیں گے۔
جو بندہ یہ کہے کہ پاکستان میں رشوت ختم ہو گئی ہے تو اس کو اتنا کہیں کہ پٹواری سے فرد لے کر دکھائے۔ جو بندہ یہ کہے کہ ہمارا بینک نظام بہت زیادہ ایڈوانس ہو چکا ہے اسے کہیں کہ ذرا کسی بینک میں اکائونٹ کھلوا کر دکھائیں۔ اس سلسلے کی ایک تازہ ترین اور دلچسپ کہانی روزنامہ نئی بات کے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میری بھتیجی عائشہ ناصر نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے اپنی ایڈمشن فیس ریفنڈ کروانا تھی۔ یونیورسٹی حکام نے دو ماہ کے انتظار کے بعد چیک جاری کیا یہ 22500 روپے کی رقم تھی جو بینک کے ذریعے کیش وصول کی گئی مگر ریفنڈ چیک کے ذریعے دیا گیا اور چیک پر payee Account لکھ دیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے بینک میں اکائونٹ کھلوائیں پھر یہ چیک بینک اکائونٹ کے ذریعے آپ کو ملے گا۔ ایک طالبعلم کو قطعی طور پر ایک غیر ضروری چکر میں ڈال دیا گیا جس کا کریڈٹ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو جاتا ہے ۔ مگر اصل کہانی آگے شروع ہوتی ہے جب وہ چیک لے کر بینک گئے تو تحقیقات کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ آپ کو کم از کم 10 ایسے ثبوت دینے پڑیں گے جن کے بعد اکائونٹ کھولنے کے اعزاز سے نوازا جائے گا۔
پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ آپ کا شناختی کارڈ ہی آپ کی شناخت کا سب سے بڑا ثبوت ہے مگر بینک والے سوائے فالودے والے کے عام آدمی سے محض شناختی کارڈ کی بناء پر ڈیل نہیں کرتے۔ اکائونٹ کھولنے کے امیدوار سے کہا گیا کہ آپ کے والد بیرون ملک ہیں۔اور آپ کا شناختی کارڈ اوور سیز ہے لہٰذا آپ پاسپورٹ لائیں۔ آپ کیا کرتے ہیں یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہیں یونیورسٹی کارڈ لائیں۔ والد کا شناختی کارڈ کی کاپی مہیہ کریں۔ والد کی نوکری کے ثبوت ہیں ان کی تنخواہ کی سلپ بیرون ملک سے منگوائیں والد کے بیرون ملک ورک پرمٹ کی کاپی دیں والد کی پاسپورٹ کی کاپی دیں۔ ان ساری دستاویزات دینے کے بعد بینک یہ چاہتا ہے کہ اپنی رہائش کا ثبوت دیں جب بینک کو بتایا جاتا ہے کہ اکائونٹ امیدوار اپنے انکل کے گھر رہائش پذیر ہے تو حکم ملتا ہے کہ گارڈین شپ سرٹیفکیٹ لے کر آئیں۔ اس کے علاوہ بجلی کا بل اور گھر کی ملکیت یا کرایہ داری ایگری منٹ کی کاپی دیں اس ساری کارروائی کے بعد اگر مزید کسی ثبوت یا دستاویز کی ضرورت پڑی تو آپ کو بعد میں بتایا جائے گا۔
میں اس ساری کارروائی کا چشم دید گواہ نہیں بلکہ victim ہوں۔ میں نے 22500 روپے کی رقم اپنی جیب سے اپنی بھتیجی کو دے دی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فیس ادا کر دے اور اب سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کے اوپر 100 بلین ڈالر کا قرضہ ایسے ہی نہیں چڑھ گیا۔ مجھے فالودے والا بڑی کثرت سے یاد آ رہا ہے کہ اس کا اکائونٹ کیسے کھل گیا اس کا جواب بینک ملازم نے ہمیں خود دیا کہ ایسے اکائونٹ تو ٹیلی فون آ نے پر کھل جاتے ہیں اگر معمول کی کارروائی کا اکائونٹ ہے تو یہ ساری دستاویزات آپ کو دینا پڑیں گی کیونکہ یہ ہماری نوکری کا سوال ہے ۔
کہتے ہیں کہ اونٹ سے کسی نے پوچھا تھا کہ چڑھائی آسان ہوتی ہے یا اترائی تو اس نے بیزاری سے کہا کہ دونوں پر لعنت ہے۔ میں ایک طرف جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف مرغزار کالونی لاہور کی حبیب بینک برانچ کو کہ ان دونوں میں سے کس کو الزام دوں۔ کس شخص کے پاس فرشتہ آیا اور پیش کش کی کہ تمہاری ایک خواہش پوری کرتے ہیں بتائو کیا مانگتے ہو۔ اس آدمی نے فوراً کہا کہ میرے گھر سے جنت تک ایک سڑک بنا دو جواب ملا یہ نہیں ہو سکتا۔ اس شخص نے کچھ دیر سوچا اور فرشتے سے چالاکی کرتے ہوئے کہا کہ اچھا میرا بینک اکائونٹ کھلوا دو دوسری طر فسے آواز آئی یہ بتائو جنت تک سڑک سنگل بنانی ہے یا ڈبل۔
ہم بینک اکائونٹ کا معاملہ آئی ایم ایف کے توسط سے گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو نوٹس میں لائیں گے مگر اپنے 22500 روپے کی واپسی کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم چیک ایشونگ اتھارٹی یعنی جی سی فیصل آباد سے دوبارہ رجوع کریں کہ وہ ہمیں کائونٹر چیک دے دیں جو کائونٹر پر کیش ہو جائے۔

Leave a Reply

Back to top button