HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » زہرا کنول » فضائی آلودگی اور کراچی ……. تحریر کنول زہرا

فضائی آلودگی اور کراچی ……. تحریر کنول زہرا

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

کنول زہرا …….

کراچی وہ بدنصیب شہر ہے جس کی حالت زار سدھارنے کے لئے کوئی ذمہ نہیں لیتا. ہر ایک کراچی پر سیاست کرکے میڈیا کوریج میں آکر واہ واہ تو سمٹتا ہے، مگر اس شہر کی قسمت نہیں بدلتی. ماضی کی خطرہ ناک دہشتگردی کے خوف میں مبتلا کراچی لاقانونیت، بےہنگم ٹریفک،تباہ لوکل ٹرانسپوٹ، ستیاناس انفراسٹکچر، بے کار سیوریج سسٹم، صفائی کا ناقص نظام، گندگی کے ڈھ یر سمیت ان گنت مسائل کے ساتھ اب ماحولیات آلودگی جیسے خاموش قاتل کے شیکنجے میں بھی پھنستا جا رہا ہے.
کراچی جس کی سٹرکوں کی کبھی دھلائی ہوا کرتی تھی آج اس کی فضاو¿ں میں زہریلی مادے کی آمیزش ہوچکی ہے. جس کی وجہ ماحول میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ہے. ضنعتی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی میں انڈسٹریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کے باعث درختوں کو بے دریغ کٹا گیا. اس صورتحال کی بدولت شہر خاموش قاتل ‘ ماحولیاتی آلودگی’ کا شکار ہوتا جا رہا ہے.
عالمی انڈیکس اے کیو آئی کےمطابق اس وقت کراچی کی فضا میں آلودگی 331 درجے تک پہنچ چکی ہے جو انتہائی خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضرِ صحت ہوتی ہے جب کہ 201 سے 300 درجے تک انتہائی مضر صحت اور 301 سے زائد درجہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے.
یوں تو لانڈھی، کورنگی اور نیوکراچی کو شہر کے صنعتی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے مگر ایک طویل عرصے سے شہر کے رہائشی علاقے بھی صنعتی ایریا کی شکل اختیار کر رہے ہیں. جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا دوبھر ہو رہا ہے.
مشینوں کے شور ، خارج ہونے والے دھوئیں، ملازمین کی چیخ پکار کی وجہ سے اہل علاقہ زہینی خلفشار کا شکار ہوگئے ہیں. رہائشی علاقوں میں قائم فرنیچر مارکیٹ، ایک صعنت کی شکل اختیار کر چکی ہے.
شہر کی سب سے بڑی فرنیچر مارکیٹ لیاقت آباد میں واقع ہے. اس مارکیٹ کو غیر قانونی کہا جاتا ہے. سپریم کورٹ کے احکامات پر اس کے خلاف کاروائی جاری ہے. دوسری جانب پی ای سی ایچ سوسائٹی بلاک 6 ای مارکیٹ میں انسانی جانوں سے کھیلنے کا عمل مستقل جاری ھے. اس علاقے میں تین سے چار ھزار افراد رھائش پذیر ھیں۔ مستقل فرنیچر پر پالش اور تھنر کا اسپرے، مشینری کے شورشرابے اور دیگر صنعتی کاروباری سرگرمیوں کی بدولت رہائشیوں ذہنی جسمانی صحت متاثر ہو رہی ہے.
رہائشوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ اداروں کو اس غیر قانونی کاروبار کو سندھ حکومت کے زیراہتمام صنعتی زون میں منتقل کرنے کی درخواستیں دی تاہم کوئی کاروائی نہیں ھوئی. علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے سے بہت سی شخصیات اسمبلی کی زنیت بھی بنی ہیں مگر کسی نے بھی ہماری داد رسی نہیں کی. رہائشوں کے مطابق یہاں چھوٹے بچوں سے بھی کام لیا جاتا ہے جبکہ چھٹی کے دن بھی یہاں کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں.
ہم نے ایسی ہی صورت حال لیاقت آباد میں بھی دیکھی ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ نے ایکشن لیا ہے. پی سی ایچ ایس کے رہائشوں کا کہنا ہے کہ ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع ہے تاکہ ہمارے بچوں کی صحتیں محفوظ رہیں.

جواب دیجئے