HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » انٹرویوز » فلم انڈسٹری کی ترقی نظر آنے لگی ہے: افشاں قریشی

فلم انڈسٹری کی ترقی نظر آنے لگی ہے: افشاں قریشی

پڑھنے کا وقت: 6 منٹ

سینئر اداکارہ کی ثاقب اسلم دہلوی دہلوی سے گفتگو
ضروری نہیں کہ فنکار گھرانے میں پیدا ہونے والا انسان ہی فنکار بنے، بے شمار نام ایسے جن کا تعلق دور دور تک کسی فنکار گھرانے سے نہیں مگر آج وہ شوبز میں بہترین مقام حاصل کئے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ پیدائشی فنکار ہوتے ہیں اور جب انہیں کوئی پلیٹ فارم ملتا ہے تو ان کے نام کا ڈنکا بجنے لگتا ہے۔ ایسا ہی ایک نام سینئر اداکارہ افشاں قریشی کا بھی ہے۔ افشاں قریشی کو سب پیار سے آپا کہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہم نے ان سے ایک خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا جو قارئین کی نذر ہے۔

سوال: سب سے پہلے آپ ہمارے قارئین کو اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
افشاں قریشی: سب سے پہلے میری طرف سے سب پڑھنے والوں کو السلام وعلیکم ۔ اس کے بعد میں بتاتی چلوں کہ میرا تعلق ایک میمن گھرانے سے ہے جہاں دور دور تک کسی کا شوبز کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ شوہر کے انتقال پر ٹوٹ گئی تھی مگر بچوں کی صورت میں اللہ پاک نے ایک سہارا دیا، میرے بچے مجھ سے اور میں اپنے بچوں سے بہت پیارکرتی ہوں۔ دُعا ہے کہ اللہ پاک انہیں زندگی کے ہر میدان میں کامیابی دے۔ میں نے انٹر تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اللہ پاک نے توقع سے زیادہ عزت و شہرت دی۔ اپنی کامیابیوں پر اللہ تعالیٰ اور اپنے فینز کی شکر گزار ہوں۔

سوال: جب آپ کے گھر سے کوئی بھی شوبز سے منسلک نہیں تھا تو پھر آپ کیسے آگے بڑھیں اس شعبے میں؟
افشاں قریشی: میں نے اپنے گھر والوں سے چھپ چھپ کر اشتہاروں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ اس وقت اشتہار سینما ہالوں میں دکھائے جاتے تھے اس لئے مجھے یہ ڈر نہیں تھا کہ گھر والوں کو پتہ چل جائے گا۔
سوال : کہیں نہ کہیں ڈر تو لگا رہتا ہوگا؟

افشاں قریشی: ہاں، مگرکہتے ہیں ناں کہ ڈرکے آگے جیت ہے۔ بس جیت کی تلاش میں محنت کرتی رہی۔
سوال: شوبز میں کام کا باقاعدہ آغاز کیسے ہوا؟
افشاں قریشی: میری ایک دوست تھی جس نے میرا تعارف محسن سبی سے کرایا تھا جو اس وقت ایک اشتہاری کمپنی کے جنرل مینجرتھے، یہ بہت بڑا ادارہ تھا بس یہیں سے میرے کریئرکا باقاعدہ آغاز ہوا۔

سوال: جب آپ کے والد صاحب کو معلوم ہوا تو ان کا کیا رد عمل تھا؟
افشاں قریشی: جب میرے والد صاحب کو میرے اس شوق کا علم ہوا تو انہوں مجھے بہت ڈانٹا، بڑی مشکلوں کے بعد میں نے اپنے ماں باپ کو راضی کیا اور پھر اپنے کام کو مسلسل جاری رکھا۔

سوال: آپ نے سندھی فلموں میں بھی بہت کام کیا ہے؟
افشاں قریشی: میمن ہونے کی وجہ سے مجھے سندھی بولنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ مجھے سندھی فلم کی آفر ہوئی جس کا نام ” نوری جام تماچی“ تھا۔ اس کے ڈائریکٹر شیخ صاحب تھے، اس فلم میں میرے مدقابل ہیرو مشتاق چنگیزی تھے۔ یہ فلم کافی ہٹ رہی۔ میری خوش نصیبی شروع سے یہ رہی کہ قسمت نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا کیونکہ ماڈلنگ سے لے کر پہلی فلم تک کا سفر میں نے ایک سال ہی میں طے کر لیا تھا۔ اس کے بعد میں نے بہت زیادہ ماڈلنگ کی۔ شروع ہی میں بہت اچھے لوگوں کا ساتھ ملا اور جب لوگ اچھے ہوتے ہیں توکام بھی خود بخود آسان ہو جاتا ہے۔

سوال: اب تک آپ کتنا کام کر چکی ہیں؟
افشاں قریشی: میں اب تک 300 سے زائد سندھی، اردو، پشتو اور پنجابی فلموں میں کام کرچُکی ہوں۔ فلم ”جانور“ میں بدر منیرکے ساتھ کام کرکے بہت مزہ آیا۔ 1971 سے 2018 تک کا سفر بہت بہترین رہا۔ اپنے شوہر کے ساتھ ہیروئن کے طور پر فلم کی تھی” کہیں دو دل مل جاتے“ مگر یہ فلم ریلیز نہ ہو سکی، پی ٹی وی پر سندھی ڈرامے بھی کئے۔

سوال: آپ کوکسی پروجیکٹ کے کھونے کا دکھ ہوا کبھی؟
افشاں قریشی: نہیں دکھ تو نہیں ہے۔ ہاں! ایک فلم تھی ”میرا نام ہے محبت“ اس کی ہیروئن کے لئے میرا ہی انتخاب کیا گیا تھا جس کے لئے مجھے ڈائریکٹر نے کراچی سے لاہور بلوایا تھا اور میں چلی بھی گئی لیکن میں فیصل کے ابا کے بغیر لاہور میں رہ نہیں پائی اور واپس کراچی آ گئی۔

سوال: کچھ لوگ محبت کے حمایتی اورکچھ اس کے مخالف ہوتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
افشاں قریشی: دیکھیں ہماری محبت سچی تھی اس لئے محبت حاصل بھی ہوگئی۔
سوال: اس طرح تو آپ کوکرئیر اور جیون ساتھی اللہ تعالیٰ نے من پسند دے دیئے؟
افشاںقریشی: جی اللہ کا بہت بہت شکر ہے کہ کریئر بھی میرا میری پسند کا تھا اور میری شادی بھی گھر والوں نے میری پسند ہی کے آدمی سے کی۔
سوال: اظہارِ محبت عابد صاحب نے کیا تھا یا آپ نے؟
افشاںقریشی: اظہارِ محبت عابد نے ایک سیٹ پر میرا ہاتھ پکڑکیا تھا۔

سوال: آپ ہمیں اپنے بچوں کے حوالے سے کچھ بتائیں؟
افشاں قریشی: اللہ پاک نے میرے پیارکی سب سے بہترین نشانی میری بیٹی اور بیٹے کی صورت مجھے دی ہے۔ میری بیٹی ایک کامیاب ڈائریکٹر ہے اور میرے بیٹے پر مجھے سب سے زیادہ فخر ہے۔ فیصل کو بچپن ہی سے اداکاری کا شوق تھا اور وہی شوق اس کی پہچان بنا ہوا ہے۔

سوال:کل اور آج میں آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے؟
افشاںقریشی: کل اور آج میں اس حوالے سے فرق نہیں جس حوالے سے اکثر بات کی جاتی ہے کیونکہ کے ہر دورکے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ کل جو کام ہوتا تھا وہ کل کے حساب سے کیا جاتا تھا اور آج جوکام ہو رہا ہے وہ آج کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ کل کے لوگ کل کے حساب سے بہتر تھے اور آج کے لوگ آج کے حساب سے بہتر ہیں۔ اسی لئے تو نئے چہروں کو رسپانس مل رہا ہے، نئے رائٹر اور ڈائریکٹر سب اچھا کام کر رہے ہیں۔

سوال: فلم انڈسٹری کے حوالے سے آپ کیا کہیں گی؟
افشاںقریشی: اب فلم انڈسٹری کی ترقی اور خوش حالی نظر آنے لگی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں ریلیز ہونے والی کامیاب فلموں نے فلم میکرزکو نیا حوصلہ دیا ہے۔ اس لئے انڈ سٹری کا روشن مستقبل بہت قریب ہے، ہمیں نئے نئے موضوعات کو فلموں کی زینت بنانا ہوگا، پبلک ڈیمانڈ کے مطابق کام کرنا ہو گا تا کہ فلمیں کامیابی سے ہم کنار ہو سکیں۔ آج بھی ماضی کی فلموں کو پہلے جیسی کامیابی اور پذیرائی حاصل ہے کیونکہ پہلے کام کو کام سمجھ کرکیا جاتا تھا، منٹوں اورگھنٹوں نہیں بلکہ دنوں اور مہینوں کے حساب سے کام ہوا کرتا تھا، ہر چیزکو باریک بینی سے پرکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری نے بہت کامیابی حاصل کی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں ہمارے کام کو شوق سے دیکھا جا رہا ہے۔ اب تک لاتعداد ٹی وی ڈراموں میں کام کر چکی ہوں۔ کبھی ڈیمانڈ کرکے کریکٹر نہیں مانگے، کام کو پہلے سے زیادہ بہترانداز میں کرنے کی کوشش کرتی ہوں، پہلے سے زیادہ محنت کرتی ہوں۔

سوال: شارٹ کٹ استعمال کرنے والوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
افشاں قریشی: شارٹ کٹ سے انسان کبھی کامیابی کی منازلیں طے نہیں کر سکتا، وقتی طور پر ملنے والی شہرت مستقل نہیں ہوتی، مستقل کامیابی وہی ہوتی ہے جو محنت، لگن اور ایمانداری کے ساتھ کام کرکے حاصل کی جاتی ہے۔

سوال: لوگ کہتے ہیں کہ ڈرامے میں یکسانیت بڑھ رہی ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
افشاں قریشی: یہ کہنا درست نہیں ہے کہ سب ہی کہانیاں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ اگر کچھ مخصوص لوگ یہ کام کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سارے ہی ایک جیسا کام کر رہے ہیں۔

سوال: سیٹ پراگرکچھ مزاج کے خلاف کچھ ہوجائے تو آپ ناراض ہوتی ہیں؟
افشاں قریشی: میں بالکل ایسی نہیں ہوں، ہر جگہ پُرسکون ماحول رکھنے کی قائل ہوں۔ ہاں! اگرکوئی کچھ غلط کر رہا ہو تو اسے سب کے سامنے سمجھانے کے بجائے الگ سے بتا دیتی ہوں کیونکہ کسی کی اصلاح کا یہی ایک صحیح طریقہ ہے۔

سوال: آپ ہرکردارکو حقیقت کے قریب پرفارم کیسے کر لیتی ہیں؟
افشاں قریشی: جب کسی بھی کردارکو فنکار اپنی ذات میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو کردار میں خود بخود حقیقت واضح ہونے لگ جاتی ہے اور میں اپنے اسکرپٹ کا صرف مطالعہ ہی نہیں کرتی بلکہ اُسے خود پر سوارکرتی ہوں تا کہ میں حقیقت کے قریب پرفارمنس دے سکوں۔

سوال: فیصل نے پروڈکشن شروع کی ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
افشاں قریشی: فیصل میرا لائق بیٹا ہے۔ ہرکام کو محنت اور لگن سے پورا وقت دے کر کرتا ہے۔ اس کی پروڈکشن کا پہلا ڈرامہ ”بابا جانی“ آن ایئر ہونے سے پہلے ہی مقبول ہو گیا تھا۔ انشااللہ فیصل آئندہ بھی کامیاب پروجیکٹس کر کے ڈرامہ انڈسٹری کو آگے بڑھائے گا۔

سوال:کیا ہمارے ڈرامے بین الاقوامی معیارکے مطابق بن رہے ہیں؟
افشاں قریشی: ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ پاکستانی ڈرامے بیرونی دنیا میں بھی دیکھے اور پسند کئے جا رہے ہیں اس لئے ہمیں اداکاری کے علاوہ خاص طور پر پروڈکشن کے شعبے میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

سوال:کیا آپ کا سیکھنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے؟
افشاں قریشی: جی سیکھتے رہنے والاانسان ہی صحیح معنوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے کام میں مکمل ہے تو یہ اس کی غلط سوچ ہے۔
سوال: آپ کو موسیقی سے کتنا لگاﺅ ہے؟
افشاں قریشی: اچھی موسیقی سے تو سب ہی کو لگاﺅ ہوتا ہے اور خاص طور پر فنکاروں کو تو زیادہ ہی ہوتا ہے۔ مجھے بھی فرصت کے لمحات میں اچھی موسیقی سننا اچھا لگتا ہے۔ ہمارے گلوکاروں کا شمار آج بھی دنیا کے بہترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، ہمارے لیجنڈز جو کام کرچکے ہیں ان کا ریکارڈ توڑنا ناممکن ہے۔

سوال: آپ اپنے چاہنے والوں کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
افشاںقریشی: آپ لوگوں نے مجھے شروع سے لے کر اب تک بے لوث محبت دی ہے جو میرے لئے سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ اپنے ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے دن رات محنت سے کام کرتے رہیں، کیونکہ پاکسان سے ہی ہماری شان اور پہچان قائم ہے۔

جواب دیجئے