فن اور فنکار

فنکار بزدل اور خاموش طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں: اداکار راحت کاظمی

ویب ڈیسک: فلم، ٹی وی اور تھیٹر کے سینئر فنکار راحت کاظمی نے کہا ہے کہ فنکار بزدل اور خاموش طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان میں بہت کم سیاسی جراثیم ہوتے ہیں.
راحت کاظمی نے موقر اردو اخبار روزنامہ دنیا کو دئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے آرٹ و کلچر کے لئے وہ کچھ کیا جو کسی اور نے نہیں کیا۔
انہوں نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) بنا کر وہ کام کیا ہے کہ آج مڈل کلاس کے بچے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے لئے روزگار کے دروازے کھل رہے ہیں۔
پاکستان میں فلم انڈسٹری کے زوال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راحت کاظمی نے کہا کہ فلم انڈسٹری کا زوال 1977ء میں ضیا الحق کے آنے کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا اس دور میں فلمیں اچھی بنیں اور بظاہر فلم انڈسٹری عروج پر نظر آ رہی تھی لیکن فلموں اور ڈراموں کی پالیسی نے آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھایا۔ جب اثرات رونما ہونے لگے تو میرے گھر ہی میں ندیم، شبنم، روبن گھوش اور پرویز ملک سمیت کئی اداکار جمع تھے۔ ہم نے اس وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ اب فلموں کا مستقبل نہیں رہا.
راحت کاظمی نے کہا کہ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ نئے عزم کے ساتھ نئے لڑکے آگے آ رہے ہیں۔ اگر نیا خون جذبے سے کام کرتا رہا تو فلم انڈسٹری کاری وائیوال ہو جائے گا۔ اس وقت کئی فلمیں زیر تکمیل ہیں جس میں نئی نسل کے نمائندے مصروف عمل ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button