Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
ادبافسانہسعادت حسن منٹو

فوبھا بائی

یہ عورت کے ایثار و خلوص اور قربانی کی کہانی ہے۔ فوبھا بائی بمبئی میں رہ کر پیشہ کرتی تھی، ہر مہینے جے پور اپنے بیٹے کو دو سو روپے بھیجتی تھی اور ہر تین مہینے پر اس سے ملنے جاتی تھی۔ بدقسمتی سے وہ بیٹا مر جاتا ہے اور فوبھا بائی کا پورا وجود تباہ ہو جاتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

حیدر آباد سے شہاب آیا تو اس نے بمبئے سنٹرل اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہلا قدم رکھتے ہی حنیف سے کہا، ’’دیکھو بھائی۔ آج شام کو وہ معاملہ ضرور ہوگا ورنہ یاد رکھو میں واپس چلا جاؤں گا۔‘‘

حنیف کو معلوم تھا کہ ’’وہ معاملہ‘‘ کیا ہے۔ چنانچہ شام کو اس نے ٹیکسی لی۔ شہاب کو ساتھ لیا۔ گرانٹ روڈ کے ناکے پر ایک دلال کو بلایا اور اس سے کہا، ’’میرے دوست حیدر آباد سے آئے ہیں۔ ان کے لیے اچھی چھوکری چاوئے۔‘‘

دلال نے اپنے کان سے اڑسی ہوئی بیڑی نکالی اور اس کو ہونٹوں میں دبا کر کہا، ’’دکنی چلے گی؟‘‘

حنیف نے شہاب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ شہاب نے کہا نہیں بھائی۔۔۔ مجھے کوئی مسلمان چاہیے‘‘

’’مسلمان؟‘‘ دلال نے بیڑی کو چوسا، ’’چلیے‘‘ اور یہ کہہ کر وہ ٹیکسی کی اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور اس نے کچھ کہا۔ ٹیکسی اسٹارٹ ہوئی اور مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی فورجٹ اسٹریٹ کی ساتھ والی گلی میں داخل ہوئی یہ گلی ایک پہاڑی پر تھی۔ بہت اونچان تھی۔ ڈرائیور نے گاڑی کو فرسٹ گیئر میں ڈالا۔ حنیف کو ایسا محسوس ہوا کہ راستے میں ٹیکسی رک کر واپس چلنا شروع کردیگی۔ مگر ایسا نہ ہوا دلال نے ڈرائیور کو اونچان کے عین آخری سرے پر جہاں چوک سا بنا تھا رکنے کے لیے کہا۔

حنیف کبھی اس طرف نہیں آیا تھا۔ اونچی پہاڑی تھی جس کے دائیں طرف ایک دم ڈھلان تھی۔ جس بلڈنگ میں دلال داخل ہوا اس کی طرف دومنزلیں تھیں حالانکہ دوسری طرف کی بلڈنگ سب کی سب چار منزلہ تھیں۔ حنیف کو بعد میں معلوم ہوا کہ ڈھلان کے باعث اس بلڈنگ کی تین منزلیں نیچے تھیں جہاں لفٹ جاتی تھی۔

شہاب اور حنیف دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ انھوں نے کوئی بات نہ کی۔ راستے میں دلال نے اس لڑکی کی بہت تعریف کی تھی جس کو لانے وہ اس بلڈنگ میں گیا تھا۔ اس نے کہا تھا، ’’بڑے اچھے خاندان کی لڑکی ہے۔ اسپیشل طور پر آپ کے لیے نکال رہا ہوں۔‘‘

دونوں سوچ رہے تھے یہ لڑکی کیسی ہوگی جو اسپیشل طور پر نکالی جارہی ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد دلال نمودار ہوا وہ اکیلا تھا۔ ڈرائیور سے اس نے کہا، ’’گاڑی واپس کرو‘‘ یہ کہہ کر وہ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی ایک چکر لے کر مڑی۔ تین چار بلڈنگ چھوڑ کر دلال نے ڈرائیور سے کہا، ’’روک لو‘‘ پھر حنیف سے مخاطب ہوا، ’’آرہی ہے۔۔۔ پوچھ رہی تھی کیسے آدمی ہیں، میں نے کہا نمبر ون‘‘

1 2 3 4 5 6 7 8 9اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!