خبریںپاکستان سے

فوج کی سپورٹ جمہوری اور منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے: ترجمان پاک فوج

ویب ڈیسک: ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج ایک غیرجانبدارادارہ ہے، ہماری سپورٹ جمہوری اور منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کی اداروں پر تنقید اور حکومت کو دو دن کی مہلت دینے سے متعلق بیان پر اپنے رد عمل میں کہا کہ فضل الرحمٰن سینئر سیاستدان ہیں وہ بتا دیں کہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں، ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، فوج نے الیکشن میں آئینی اورقانونی ذمہ داری پوری کی۔
افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ایک سال گزر گیا اب بھی اپوزیشن اپنے تحفظات لے کر متعلقہ اداروں میں جا سکتی ہے، سڑکوں پر آکرالزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 20 سال میں بہت مشکل وقت گزارا ہے، پاکستانی قوم اور افواج نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جان ومال کی قربانی دے کر ملک میں امن قائم کیا گیا، کے پی کے عوام نے بھی دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا، کے پی کے عوام کو اب فلاح وبہبود کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا، ایل او سی پر بھی معصوم کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، مشرقی اور مغربی سرحد پر فوج مصروف عمل ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی بربریت اورظلم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت پاکستان کی ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پر فرائض انجام دے رہی ہے، دوسری طرف مغربی سرحد پر دیکھیں تو وہاں حالات بہتری کی جانب جارہے ہیں ہم بہت سارا کام سرحد پر کر رہے ہیں تقریباً 2 لاکھ فوج وہاں مصروف ہے۔
ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز نے کہا کہ کسی بھی قسم کا انتشار ملک کے مفاد میں نہیں، جمہوری مسائل جمہوری طور پر ہی حل ہونے چاہئیں۔ حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیاں بہتر کوآرڈی نیشن کے ساتھ چل رہی ہیں۔
جلسے میں صورت حال میں خرابی کی صورت میں کیا کارروائی ہوگی تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ آگے کیا صورت حال ہوگی اور آگے کیسے چلتی ہے اس میں بھی آئین اور قانون کے تناظر میں جو بھی فیصلہ حکومت کرے گی اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، لیکن ملک کے استحکام کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی.

Leave a Reply

Back to top button