تجزیہسیاسیات

فوٹو لیک: تحقیقات کیلئے حسین نواز کا سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد: وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی میں پیشی کی تصویر لیک ہونے کی تحقیات کی درخواست کردی۔

خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں حسین نواز نے کہا کہ تصویر لیک کر کے آئندہ طلب کیے جانے والوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں حسین نواز نے موقف اختیار کیا کہ تصویر کا لیک ہونا اور ویڈیو ریکارڈنگ ضابطہ اخلاق اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا موقف تھا کہ تحقیقات کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے، جے آئی ٹی ممبران دباؤ ڈال کر اپنے مطلب کے بیانات لینا چاہتے ہیں۔

حسین نواز نے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی کو ویڈیو ریکارڈنگ سے روکنے کا حکم دینے کی درخواست کرتے ہوئے تصویر لیک ہونے کی تحقیقات کے لیے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دینے کی استدعا بھی کردی۔

حسین نواز نے درخواست میں کہا کہ ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں کمیشن بنا کر پتہ لگایا جائے کہ جے آئی ٹی سے تصویر لیک کیسے ہوئی۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں حسین نواز کا کہنا تھا کہ ’تصویر لیک ہونے کا وقت اور طریقہ کار اس میں ملوث افراد اور فرد کے عزائم پر سوال اٹھاتے ہیں‘۔

عوام فساد کی سیاست کو مسترد کرچکے، رانا ثناء اللہ

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عوام فساد کی سیاست کو مسترد کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ کے اختیارات نہیں ہیں، تحقیقات کا یہ کونسا طریقہ ہے کہ 13،13 گھنٹے بٹھایا جائے جبکہ 13 گھنٹے کی تحقیقات کے دوران اپنی مرضی کا بیان لیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ن لیگ کا عدلیہ سے احترام کا رشتہ بہت پرانا ہے جبکہ جے آئی ٹی کے بائیکاٹ کا اختیار شریف فیملی کے پاس ہے۔

وزیر قانون پنجاب نے مخالفین کو تنقید کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹ لوگوں کا تناسب پی ٹی آئی میں زیادہ ہے، پیپلزپارٹی اب صاف ہوتی جارہی ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی براہ راست عدلیہ اور ججز کیخلاف بات کرتی رہی اور عمران خان نے بھی کنٹینر پر چڑھ کر ججز کے خلاف باتیں کیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے جاری پاناما کیس کی سماعت کے دوران آج بروز بدھ جے آئی ٹی اپنی دوسری تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے جارہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے حسین نواز کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تھی جس میں انھیں ممکنہ طور پر جے آئی ٹی کے سامنے بیٹھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

مذکورہ تصویر، جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیا گیا اسکرین شاٹ معلوم ہوتی ہے، پر 28 مئی کی تاریخ درج ہے، یہ وہی دن ہے جب حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔

تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے احاطے میں ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور تفتیش کاروں کے سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مذکورہ تصویر کی ‘غیر قانونی اشاعت’ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسے تحقیقات کے قوانین کی ‘سنگین خلاف ورزی’ قرار دیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اس تصویر کے لیک ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا، اس بات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہ یہ تصویر حکمران جماعت کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کو ‘مظلوم’ ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر ‘باقاعدہ پلاننگ’ کے تحت ریلیز کی گئی، پی ٹی آئی نے ان الزامات کی تردید کردی کہ یہ تصویر ان کے کسی کارکن کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی پاناما پیپر کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے سامنے پیشی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button