ادب

فیض احمد فیض کی اسیری کی شاعری…… راشد آفاض

ترکی کے عظیم شاعر بسمت جان کا کہنا تھا کہ ”بری نظم مختصر ہونی چاہیے اور اچھی نظم اس سے بھی مختصر“۔بسمت جان کا یہ جملہ فیض احمد فیضؔ کی شاعری کو پڑھ کر اور بھی جاندار ہو جاتا ہے، جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فیض کی شاعری جو کہ ان کی سات کتابوں پر مشتمل ہے اور ان کتابوں کی ضخامت بھی اس قدر زیادہ نہیں اور اگر ان تمام کتب کو اکٹھا کیا جائے تو ایک مختصر سی کتاب تشکیل پاتی ہے جس کا نام ”نسخہ ہائے وفا“ ہے اور اس کتاب میں بھی کچھ حصہ تراجم پر مشتمل ہے۔
فیض صاحب کی کتاب ”نسخہ ہائے وفا“ میرے سامنے پڑی ہے اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا عجب ہے کہ اس مختصر سی کتاب کے بغیر برصغیر پاک وہند کی شاعری کی داستان مکمل نہیں ہو سکتی۔ غالبؔ، اقبالؔ اور فیضؔ کی لڑی انتہائی خوبصورتی اور جاذبیت سمیٹے ہوئے ہے۔ فیضؔ صاحب کا یہ بھی اعزاز ہے کہ ان کی شاعری نے بین الاقوامی منظرنامے میں ایک نمایاں اضافہ کیا اور ان کی شاعری کا ایک ایک لفظ سند کے طور پر لکھا اور پڑھا جائے گا۔
فیضؔ پر بہت کچھ لکھا گیا۔ بہت کچھ کہا گیا اور اس سے بھی زیادہ سنا گیا۔ مزاحمتی تحریک ہو، جمہوریت کے مقابل آمریت کھڑی ہو، ٹریڈ یونین کا جلسہ ہو، عوامی حقوق، انصاف اور انقلاب کی بات ہو، فیضؔ صاحب ان سب کے درمیان موجود ہیں۔لیکن آج ایک بالکل مختلف موضوع پر بات کرنے کو جی چاہ رہا ہے اور وہ موضوع ہے فیضؔ صاحب کی اسیری کی شاعری۔
سیاسی نظریات اور انقلاب سے محبت کرنے والوں کے لیے جیل کوئی انوکھی چیز تو نہیں لیکن جیل کی آب وہوا اور اسیری کا خاص ماحول اچھے بھلے انسان کے حوصلے توڑ دیتا ہے۔ لیکن انقلاب کا خواب دیکھنا بذاتِ خود ایک خوبصورت تجربہ ہے۔ اس کے لیے زنجیر سے دوستی اور جیل کی سلاخوں سے لپٹ کر مصرعہ موزوں کرنا پڑتا ہے اور دارو سن سے عہد تو نبھانا ہو گا۔
فیضؔ صاحب کا یقین تھا کہ جب رومان اور انقلاب کسی شاعر کے فن میں ڈھل جائیں تو حقیقت میں ترقی پسند شاعری وجود میں آتی ہے۔ایک حقیقی اور بڑا شاعر سستی اور جذباتی شاعری سے اجتناب کرتا ہے۔ وہ اپنے موضوع اور اسلوب کا انتخاب خود کرتا ہے اور خالی نعرے بازی پر یقین نہیں رکھتا، صرف کشت وخون کا درس دینا انقلاب نہیں کہلا سکتا۔
انتہائی نرم اور محبت میں ڈوبے ہوئے الفاظ میں کسی انقلاب کا درس دینا پیغمبرانہ وصف نہیں تو اور کیا ہے۔لیکن ذرا ٹھہریئے!یہاں میں آپ کو ایک اور شخصیت سے بھی متعارف کرواتا جاؤں۔ ایک ایسی شخصیت، جس کا موازنہ بجا طور پر فیضؔ صاحب کی شخصیت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ، شاعر، پروفیسر، صحافی، ادیب اور مترجم، تاریخ دان، انقلاب کا خواہش مند اور پانچ بار مجلس شوریٰ کا نمائندہ منتخب ہونے والا ایرانی شاعر، ملک الشعراء بہار، جن کا اصل نام محمد تقی بہار تھا۔ انقلاب کا خواب دیکھنے کی پاداش میں انہیں بھی اسیری کا تجربہ ہوا۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ فیضؔ صاحب نے اپنی اسیری کے ایام کو اپنی شاعری کے ذریعے یادگار بنا دیا۔
شام کے پیچ و خم ستاروں سے
زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات
یوں صبا یاس سے گزرتی ہے
جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات
فیضؔ صاحب نے انہی اسیری کے ایام میں جیل میں روا رکھے جانے والے سلوک کا کبھی شکوہ نہیں کیا۔ وہ اپنے ماحول میں انتہائی پُرسکوں رہنے والے شخص تھے لیکن اگر ہم ملک الشعراء بہار کی شاعری خصوصاً جو انہوں نے اپنی اسیری کے دوران لکھی تھی، اس میں جیل میں ملنے والی سہولتوں کے فقدان پر بھی بات کرتے ہیں۔ کھانے میں نمک مرچ پر بھی شکوہ کناں ہیں۔ گرمی سردی سے بھی بیزار نظر آتے ہیں۔
لیکن ایک حقیقی انقلابی ذہن رکھنے والے دانشور اور شاعر سے ہم شاید یہ اُمید نہیں کرتے کہ وہ اپنے اُوپر روا رکھے جانے والے سلوک کو اپنی شاعری کا حصہ بناتے کیونکہ جب ہم فیضؔ کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب اطمینان جو ان کے چہرے سے چھلکتا ہے وہی ان کی شاعری سے بھی عیاں ہوتا ہے اور اسیری میں رہتے ہوئے بھی فیضؔ صاحب کو ظلم سہتے ہوئے لوگ نہیں بھولتے۔
نظام کو بدلنے کی خواہش اور شدید ہو جاتی ہے۔ اسیری نے ان کے ذہن کو منتشر کرنے کے بجائے اور زیادہ مضبوط کیا اور وہ چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدرآباد اور کراچی کی جیلوں میں قید رہے۔
شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ
قبضے چراغ ہیں تیری محفل سے آئے ہیں
یہ چار سال فیض صاحب کی تخلیقی سرگرمیوں کو ماند نہیں کر سکے۔ ان کی کئی اعلیٰ نظمیں اور غزلیں انہی قیدخانوں میں بسر کیے گئے شب وروز میں لکھی گئیں۔میجر اسحاق بھی فیضؔ صاحب کے ساتھ اسی قید میں تھے، وہ ”زنداں نامہ“ کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں:”شعر کا عالم ہوتا تو فیضؔ صاحب خاموش ہو جاتے تھے، البتہ اُٹھتے بیٹھتے گنگنا چکنے کے بعد وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتے۔ ہم سمجھ جاتے کہ سامعین کی ضرورت ہے۔ اگر نظم یا غزل ہو جاتی تو ایک آدھ شعر سنا دیا کرتے تھے“۔
شکوہ اور شکایت ان کا شیوہ نہیں تھا اور اس کا عکس ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے اور یہی بات فیضؔ صاحب کو دوسرے شاعروں سے ممتاز اور ارفع کرتی ہے اور ہمارے اور آپ کے محبوب شاعر، بے شمار شاعروں کے درمیان اپنے پورے قد سے کھڑے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button