کالم

قرار دادِ لاہور1940ء…… میم سین بٹ

قرارداد لاہور 1940ء نے قیام پاکستان میں بنیادی کردارادا کیا تھا، اسے مملکت خداداد پاکستان کا نشان منزل بلکہ سنگ بنیاد بھی قراردیا جا سکتا ہے۔ لاہور شہر کے منٹو پارک میں 23 مارچ 1940ء کو قائد اعظمؒ کی زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ 27 ویں اجلاس کے دوران منظور کی جانے والی قرارداد برصغیر میں مسلمانوں کیلئے الگ مملکت کی بنیاد بنی تھی جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا اور 1930ء کے خطبہ الہٰ آباد میں نئی اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا بلکہ لندن میں وکالت کرنے والے قائداعظم کو بھی ہندوستان واپس آکر مسلم لیگ کی قیادت کرنے کیلئے خط لکھا تھا۔ منٹو پارک کے اجتماع میں میزبان نواب آف ممدوٹ سر شاہنواز خان نے سپاسنامہ پیش کیا جبکہ بنگال کے سابق وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق نے قراداد پیش کی تھی جس کی چوہدری خلیق الزمان، مولانا ظفر علی خاں، سردار اورنگزیب خان، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ خان، آئی آئی چندریگر اور بیگم مولانا محمد علی جوہر نے تائید کی تھی۔
آزادی کے بعد منٹو پارک کوسرکاری طور پر اقبال پارک کا نام دیدیا گیا تھا اور اس میں ہونے والے تاریخی اجتماع کے سٹیج کی جگہ پر مارچ 1960ء میں گورنر مغربی پاکستان اختر حسین نے مینار پاکستان کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس کی تعمیر مارچ 1969ء میں مکمل ہو سکی تھی۔ مینار پاکستان کی تصور سے تکمیل تک کی داستان پر مشتمل محمد نعیم مرتضیٰ نے تحقیقی مضمون لکھا تھا، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے منٹو پارک کو اقبال پارک کے بعد گریٹر اقبال پارک کا نام دیدیا تھا تا ہم پُرانے لاہوریئے اب بھی اسے منٹو پارک اور مینار پاکستان کو یادگار کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تحت سیکرٹری شاہد رشید نے ”قرارداد لاہور 1940ء“ کے عنوان سے کتاب مرتب کی ہے جس کا انتساب تحریک پاکستان کے رہنما محمود علی مرحوم کے نام کیا ہے جو ساری زندگی قرارداد لاہور کے مطابق پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی تکمیل کیلئے سرگرم عمل رہے تھے۔ چیئرمین ٹرسٹ اور سابق صدر مملکت محمد رفیق تارڑ نے ابتدائی کلمات میں امید ظاہر کی ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ ہماری نئی نسل میں عقابی روح کو بیدار کر دے گا۔ یوم پاکستان کی تقریب میں مجید نظامی مرحوم کے خطاب کا اقتباس بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے جس میں وہ دو قومی نظریہ کو پاکستان کی بنیاد قراردیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ایٹمی قوت ہیں اور بھارت سے کشمیر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مجید نظامی مرحوم اگر آج زندہ ہوتے تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے طویل ترین کرفیو پر تڑپ رہے ہوتے اور مقبوضہ کشمیر کے محصور مسلمانوں کی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہوتے۔
قرارداد لاہور کے مکمل متن اور قائداعظم کے خطبہ صدارت سمیت ڈاکٹر رفیق احمد، میاں محبوب احمد، میاں فاروق الطاف، محمود علی، سید ہمایوں ادیب، سید شبیر حسین، عاشق حسین بٹالوی، ڈاکٹر وحید قریشی، پروفیسر شریف المجاہد، قطب الدین عزیز، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، محمد علی چراغ، کلیم اختر، حکیم رشید اشرف، سرفراز حسین مرزا، شمیم حسین قادری، بشپ عمانویل یونس اور محمد نعیم مرتضیٰ کے مضامین بھی کتاب میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے درست لکھا کہ قراراداد لاہور نے حق خود ارادیت اور خودمختاری وآزادی کی راہیں روشن کر دی تھیں۔ میاں محبوب احمد نے بھی حقائق بیان کئے کہ قرارداد لاہور کی بنیاد پر ہم نے جو ملک حاصل کیا وہ ابھی تک ہمہ گیر ترقی حاصل نہیں کر سکا۔ ہم اپنے عوام کو غربت، بیروزگاری اور جہالت سے نجات نہیں دلا سکے۔ میاں فاروق الطاف نے وقفے وقفے سے قائم ہونے والی فوجی آمریت کو قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ محمود علی نے قرارداد لاہور کو تحریک آزادی کا ایسا باب قرار دیا جس نے اس عظیم تحریک کو چند ہی برسوں میں منزل سے ہمکنار کر دیا۔
شاہد رشید نے قرارداد لاہور کو ادھوری قرار دیتے ہوئے لکھا کہ مسلم اکثریت کا ضلع گورداسپور کاٹ کر بھارت کے حوالے نہ کیا جاتا تو بھارت کا کشمیر سے زمینی تعلق مکمل طور پر منقطع ہو جاتا۔ آج کشمیری عوم آزاد ہوتے اور کشمیر فطری طور پر پاکستان کا حصہ ہوتا!“ شاہد رشید نے جب یہ سطور تحریر کی تھیں تو پاکستان میں ابھی تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی نہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے طویل ترین کرفیو لگایا تھا اور نہ ہی گورداسپور کی سرحد پر کرتار پور راہداری تعمیر کر کے اس کا افتتاح کیا گیا تھا۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ شاہد رشید کی ”قرارداد لاہور“ اب ہمیشہ ادھوری ہی رہے گی۔ ابوکاشف نے قرارداد لاہور کا پس منظر بیان کرنے کیلئے لفظ”پاکستان“ کے تخلیق کار چوہدری رحمت علی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ لفظ ”پاکستان“میں ”ک“ سے کشمیر مراد ہے جسے قائداعظم نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا کیونکہ ہمارے بیشتر دریا کشمیر سے ہی نکلتے ہیں۔ ڈاکٹر وحید قریشی بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں ریلوے کی تقسیم کے اعلان میں پٹھانکوٹ تک ریلوے پٹری پاکستان کے حصے میں آئی تھی لیکن پھر اعلان آزدی پر گورداسپور کے مسلمانوں کو اپنی جانیں بچا کر ضلع سیالکوٹ میں آنا پڑا تھا۔
سید ہمایوں ادیب نے منٹو پارک میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے کی کارروائی کا آنکھوں دیکھا حال تحریرکیا، قائد اعظم نے اپنی دو گھنٹے کی تقریر میں اس تصور کو غلط قراردیا کہ ہندوستانی ایک قوم ہیں۔ انہوں نے آنجہانی لالہ لاجپت رائے کا بنگالی ہندو رہنما سی آر داس کے نام سولہ سال پرانا خط بھی پڑھ کر سنایا تھا جس میں لالہ لاجپت رائے نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیتوں کا اعتراف کیا تھا۔ ہمایوں ادیب بتاتے ہیں کہ پنجاب کی یونینسٹ حکومت اور انگریز افسر شاہی تقسیم ہند کی قرارداد روکنے کیلئے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجتماع منسوخ کرانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کیلئے لاہور میں پولیس نے چار روز قبل خاکساروں پر گولی چلا دی تھی جس کے دوران متعدد خاکسار مارے گئے اور بہت سے زخمی ہو کر میو ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ عاشق حسین بٹالوی اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ پہلے بھاٹی دروازے میں خاکساروں نے انگریز پولیس افسر کو جان سے مارا تھا بعدازاں پولیس نے بدلہ لینے کیلئے بہت سے خاکسار مار ڈالے تھے۔ ریڈیو اسٹیشن نے بعدازاں منٹو پارک کے جلسے پر ڈرامہ تیار کیا تھا جس میں فرضی طور پرآنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا تھا جسے وزارت اطلاعات و نشریات کے شعبہ فلم ومطبوعات نے تحریری شکل میں بھی شائع کیا تھا، اسے بھی شاہد رشید نے اپنی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ سالانہ اجتماع میں میاں بشیر احمد کی یہ نظم بھی پڑھی گئی تھی:
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح
قرارداد لاہور پر ردعمل کے حوالے سے اعجاز احمد لکھتے ہیں کہ قرارداد کی منظوری پر ٹربیون سمیت لاہور کے ہندوؤں اور سکھوں کے اخبارات نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور قرارداد لاہور کو قرارداد پاکستان قراردے دیا تھا حالانکہ قرارداد میں لفظ”پاکستان“ شامل ہی نہیں تھا۔ صرف بیگم محمد علی جوہر نے قراراداد کی تائید میں تقریر کرتے ہوئے اسے قرارداد پاکستان کہا تھا۔ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، راج گوپال اچاریہ، سر چھوٹو رام، ماسٹر تارا سنگھ حتیٰ کہ ابوالکلام آزاد نے بھی تقسیم ہند کے مطالبے پر مشتمل قرارداد لاہور کو مسترد کر دیا تھا۔ انگلستان کے تقریباََ سبھی انگریزی اخبارات نے بھی قرارداد لاہور کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمانان ہند کے الگ وطن کے مطالبے کو ناقابل عمل قرار دیا تھا بلکہ ہندوؤں اور سکھوں نے دسمبر 1940ء میں لاہور میں ”اینٹی پاکستان“ کانفرنس بھی منعقد کی تھی۔ سید شبیر حسین قرارداد لاہور کے معاشی پہلو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قرارداد لاہور کی شکل میں درحقیقت مسلمانوں کے نامساعد حالات کا نوٹس لیا گیا اور پھر مشرقی ومغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو نئی مملکت کے قیام کیلئے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا گیا مگر ہم نے مملکت خداداد پاکستان کو مضبوط معاشی قوت بنانے کا مقصد فراموش کر دیا!“ شکر ہے سید شبیر حسین آج نئے پاکستان میں حیات نہیں ورنہ انہیں ملک کی اقتصادی اور عوام کی معاشی حالت دیکھ کر بہت صدمہ پہنچتا۔

Leave a Reply

Back to top button