تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

قسط: ہزاروں سال سے سیکڑوں بیماریوں کا معالج

یہ اینٹی سیپٹک، اینٹی بیکٹیریل، اینٹی وائرس خصوصیات کی حامل ہیں۔ اس میں 50فیصد سیسکیو ٹرپین لیکٹونز کیساتھ ڈائی ہائیڈروکوسٹس لیکٹونز اور کاسٹیونولائیڈ پایا جاتا ہے۔ جبکہ سیکسوٹرپینز، کوسٹرول، کیروفائلین اور سیلی نین کے علاوہ کوسٹک اینڈ اولیئک ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں۔

قُسط کا پودا چھ سے آٹھ فٹ تک بلند سیدھااور موٹا ہوتاہے۔ اس کی جڑیں موٹی اور مخروطی ہوتی ہیں۔ بہت سے تقریباً سیاہی نما سرخ پھول کھلتے ہیں۔ اس پودے کا اصل وطن شمالی ہندوستان ہے لیکن اب اس کی کاشت پورے ہندوستان، جنوب مغربی چین اور متعدد ممالک میں ہوتی ہے۔ اس کا تیل البتہ زیادہ تر ہندوستان میں کشید کیا جاتا ہے۔ اسے عربی میں قسط، فارسی میں کوشتہ، ہندی میں کوٹھ، بنگالی میں گڑ پاچک اور انگریزی میں کاسٹس روٹ کہتے ہیں۔

اس پودے کی جڑیں ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے چین اور ہندوستان میں مختلف امراض کے علاج کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ اسکے پتوں کی ڈنڈی دو تین فٹ لمبی اور پتے بڑے ہوتے ہیں، یہ نوک دار اور سات آٹھ انچ لمبے ہوتے ہیں۔اس کی جڑ قائم رہتی ہے اور ہر سال نیا پودا اسی جڑسے پھوٹتاہے۔خشک ہونے پر زرد رنگ کی ہوتی ہے۔

نوٹ: اسکو دیمک جلد لگ جاتی ہے لہٰذا جو جڑ بطور دوااستعمال کرنی ہووہ بغیر سوراخ کے ہونی چاہیے۔

قُسط میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
یہ اینٹی سیپٹک، اینٹی بیکٹیریل، اینٹی وائرس خصوصیات کی حامل ہیں۔ اس میں 50فیصد سیسکیو ٹرپین لیکٹونز کیساتھ ڈائی ہائیڈروکوسٹس لیکٹونز اور کاسٹیونولائیڈ پایا جاتا ہے۔ جبکہ سیکسوٹرپینز، کوسٹرول، کیروفائلین اور سیلی نین کے علاوہ کوسٹک اینڈ اولیئک ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں۔

قُسط کی تین اقسام ہیں۔

۱۔قُسط شیریں اس کو قسط بحری یا قُسط عربی کہا جاتا ہے۔
۲۔دوسری قسم تلخ ہوتی ہے اس کا رنگ باہر سے سیاہی مائل اور توڑنے پر اندر سے زردی مائل نکلتا ہے یہ موٹی اور وزن میں ہلکی ہوتی ہے۔اس کو قُسط ہندی کہا جاتا ہے۔
۳۔تیسری قسم قُسط زہریلی ہوتی ہے۔یہ سرخی مائل وزنی اور خوشبو دار ہوتی ہے اور تلخ نہیں ہوتی لیکن قسم زہریلی ہے جس کی وجہ سے اس کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔

قُسط کے فوائد:

قُسط کے تیل کا استعمال اروما تھراپی کے علاوہ جلد کی نگہداشت میں ہوتا ہے۔ اس کو پرفیوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے کاسمیٹکس مصنوعات میں خوشبودار جزو کی حیثیت سے شامل کیا جاتا ہے۔ فوڈ اندسٹری اس کے تیل کو غذائی مصنوعات اور مشروبات میں استعمال کرتی ہے۔

دمہ برونکائٹس کا علاج:
قُسط کا استعمال دمہ، برونکائٹس اور تشنجی کھانسی میں میں عام کیا جاتا ہے۔

بدہضمی کا علاج:
قُسط تبخیر معدہ، بد ہضمی اور پیٹ کی ایٹھن کو دور کرنے میں اکسیر کا کام کرتی ہے۔

اعصابی نظام:
قُسط اعصابی نظام کو معمول پر لاتی ہے اور اعصابی دردوں میں آرام پہنچاتی ہے۔ اضمحلال، شل اعصاب اور ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والی کیفیات کو دور کرتی ہے۔

جلدی امراض:
جلد کی خارش، خشکی کو دور کرتا ہے، اس سے جلد کی قدرتی چمک اور ملائمت بحال ہوتی ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button