سیلف ہیلپ

قناعت کا راز…… سید ثمراحمد

متوکل علی اللہ ایک عباسی خلیفہ تھا۔ فتح بن خاقان کہتے ہیں کہ ایک روز میں خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہ سر نیچا کیے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے کہا: امیرالمومنین؛ کچھ فکر مند معلوم ہوتے ہیں۔ حالاں کہ آپ وہ شخص ہیں جس کو روئے زمین پر سب سے زیادہ آسائش کے سامان حاصل ہیں۔ خلیفہ متوکل نے سر اٹھا کر کہا: ’اے فتح، مجھ سے زیادہ اچھی زندگی اس شخص کی ہے جس کے پاس ایک کشادہ مکان ہو، نیک بیوی ہو، بقدرِ ضرورت روزی کا انتظام ہو۔ ہم اس کو جانتے ہوں کہ تکلیف دیں نہ وہ ہمیں جانتا ہو کہ ہم اسے رسوا کریں‘…… وحید الدین خان کہتے ہیں کسی کو بقدرِ ضرورت روزی حاصل ہو تو اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ حریص آدمی کے لیے کوئی اطمینان نہیں۔ کیوں کہ ضرورت کی تو حد ہے، حرص کی کوئی حد نہیں …… بیوی اس لیے کہ وہ زندگی میں رفیق بنے اور آدمی کے گھریلو سکون کا ذریعہ ہو۔ مگر یہ فائدہ صرف نیک اور صالح بیوی ہی سے حاصل ہوتا ہے……کشادہ مکان کا مطلب ہے کہ اس کو خود اپنی ایک دنیا حاصل ہے جہاں وہ اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنا کر اس کے اندر رہ سکتا ہے۔ دانش مند آدمی کے لیے کشادہ مکان گویا طوفانِ نوح کے درمیان کشتیئِ نوح ہے……گم نامی آدمی کے لیے سب سے بڑی عافیت ہے۔ کیوں کہ جو شخص نام حاصل کر لے، اس کے حاسدین پیدا ہو جاتے ہیں جن کے حسد سے بچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس کو خدا نے دوسروں کی محتاجی سے بچایا ہو اس سے بڑا کوئی خوش قسمت نہیں۔ کیوں کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ عین اس مقام پر آدمی کو ذلیل کر دیتے ہیں جہاں وہ حاجت مند بن کر ان کے سامنے آیا ہو۔
ہمارے رشتہ داروں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی آمدنی نہایت محدود ہے لیکن ان کے چہرے ایسی نورانیت اور طمانیت بھرے ہیں کہ رشک آتا ہے۔ ان کو شکوہ کرتے اس عاجز نے کبھی نہ سنا۔ بلکہ شکوہ کرنے والے تو شکایتی چہرے لیے ہوسکتے ہیں، ان میں یہ نور اور قرار آہی نہیں سکتا…… ایسے ہی وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس لاکھوں آتے ہیں پر زبانیں ہیں کہ لٹکی ہی رہتی ہیں۔ ہوس ہے بھوک ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ آرائش، سجاوٹ، فرنیچر، سوٹنگ غرض ان کی باتیں ایسی ہی لالچ بھری ہوتی ہیں۔ حالات کا پوچھو تو شکایتوں کی پٹاری کھل جاتی ہے، دنیا بھر کے گویا مظلوم اور محروم یہ ہی ہیں۔ یوں یہ دو کردار ہمارے ارد گرد بستے ہیں۔ پہلا اصل کامیابی اور دوسرا اصل ناکامی کاکردار ہے پر شعور نہیں رکھتا۔ وہ دلدل میں رکھے سبزہ کو خوش حالی خیال کرتا ہے، پھر جتنا حاصل کرنے کو اندر کودتا ہے اتنا ہی دھنستا چلا جاتا ہے۔ آئیے سنتے ہیں:
ایک فقیر کی داستان……
دیو جانس کلبی قدیم دور کا مشہور کردار گزرا ہے۔ اس کو کتوں سے بہت پیار تھا لہذا کلبی کہا جانے لگا۔ اس کو ٹب فلاسفربھی کہتے ہیں، کہیں سے کسی کا پھینکا ہوا ٹب ملا اس نے اٹھا کے رکھ لیا، رات کو اسی کے نیچے سوتا تھا، یہی اس کی جائیداد تھی……ایک روز سکندرِ اعظم اس کی ملاقات کو آیا، اس کا خیال تھا کہ وہ میری تعظیم کو اٹھے گا مگر اس نے مطلق پروا نہ کی۔ ماجرا دیکھ کے وزیر نے کہا ’جناب سکندرِ اعظم، فاتحِ دنیا، مالکِ جہان آپ سے ملنے آئے ہیں‘۔ کلبی نے سر اونچا کیا اور مسکرا کر کہا ’جس سکندر کو دنیا کی ہوس جا بجا بھگائے لیے پھرتی ہے کیا وہ بادشاہ ہے؟ وہ دنیا کا غلام ہے۔ اس کے دلی جذبات اختیار میں نہیں ہیں۔ جہاں چاہیں اسے بھگائے پھرتے ہیں اور ناچ نچاتے ہیں۔ اس کے دل کو الٹ کر دیکھو، اس میں غلامی کے زبردست نشانات ملیں گے۔ بادشاہ میں ہوں، جو اپنے دل پہ اختیار رکھتا ہوں‘۔ سکندر اس بے پروا کی حالت دیکھ بہت متعجب ہوا۔ وزیر نے کہا کہ سکندر بہت کچھ مال و اسباب لایا ہے۔ آپ قبول کر لیں۔ اس نے کہا میرے پاس سب کچھ ہے، کسی چیز کی ضرور ت نہیں۔ آخر سکندر نے عاجز آکے کہا کچھ خدمت تو لیجئے۔ وہ ہنسا پھر کہا ’تو میری دھوپ روک کے کھڑا ہے، اس کو چھوڑ دے۔ یہی تیری خدمت ہے‘۔ سکندر نے پوچھا ثواب کیسے حاصل ہوتا ہے؟ کہا، افعالِ خیر سے۔ تیرے پاس اتنی قدرت ہے جو عوام سے تمام عمر ممکن نہیں‘……اسی آہنگ میں ایک دفعہ بلند جگہ پہ کھڑ ا ہو کے مَردوں کو پکارا۔ کثیر لوگ جمع ہوگئے۔ کہا، میں نے مَردوں کو پکارا تھا مُردو ں کو نہیں۔ لگے ہاتھ سنتے جائیے:
مطمئن لوگوں کے دو قصے اور……
حضرت احمد حرب کے پڑوس میں ایک دفعہ چوری ہوگئی۔ وہ غم خواری کے لیے گئے۔ پڑوسی نے گمان کیا کہ قحط پڑا ہوا ہے اور دستر خوان بچھانے کا حکم دیا۔ یہ بولے ہم تو افسوس کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا، مجھ پہ تین شکر واجب ہوئے ہیں:
1۔ دوسروں نے میرا مال چرایا ہے، میں نے نہیں
2۔ آدھا مال میرے پاس موجود ہے ابھی
3۔ دنیا کو ضرر پہنچا ہے اور دین میرے پاس ہے.
ترقی کی منزلوں کی خواہش والوں کے لیے ایک اعلیٰ مثال پیشِ خدمت ہے۔عبد الواحد اور سفیان ایک روز رابعہ بصری کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رابعہ نے سفیان سے کہا کچھ فرمائیے۔ انہوں نے کہا کہ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کی تکلیف کو دور فرمائے۔ بولیں، کیا تم نہیں جانتے کہ یہ بیماری مجھ پر اس کے حکم سے ہے۔ کہا، جانتا ہوں۔ ’جب تو جانتا ہے تب ہی مجھے حکم کرتا ہے کہ درخواست کروں اور وہ بھی اس کے مرضی کے خلاف، حالاں کہ دوست کی مرضی کے خلاف کرنا درست نہیں۔ اللہ اللہ قناعت اور کامیابی اور اطمینان کی کیا ہی منزلیں تھیں جن تک ہمارے بزرگ پہنچے اور رہنما و مقتدا ٹھہرے۔ آئیں سمجھیں:
قناعت کیا ہے؟……
جو موجود ہے اس پہ شکر گزار رہنا قناعت ہے۔ یہ بات اگر زیادہ ہے تو بھی نقصان نہ دے گی اور کم ہے تو بھی تباہ کن نہ ہوگی۔ یہ نہ ہو تو حضورِاعلیؐ کے بیان کے مطابق ناداری کفر کے قریب لے جاتی ہے کہ جب ایک اپنی محرومیاں دیکھ دیکھ نفس کے بہکاوے میں آکے اعتماد سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور گمرہی اختیار کرتا ہے……دوسری انتہا پہ حضورِ اقدسؐ ہی کے بیان کے مطابق دو بھوکے بھیڑیے بھیڑوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال وجاہ کی تمنا انسان میں کردیتی ہے۔ دو سونے کے تالاب ہوں تو انسان تیسرے کی خواہش کرتا ہے۔ اس کی لالچی نظر بھرتی ہی نہیں، رجتی ہی نہیں۔ اور وہ کثرت کی ہلاکت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ زیادہ لینے کے شوق میں ہر سیاہ سفید اکھٹا کر دیتا ہے۔سینچ سینچ مال رکھتا ہے۔ اور قاسم علی شاہ کے بقول اس کے خزانے تب زمین سے باہر آتے ہیں جب یہ زمین کے اندر جاچکا ہوتا ہے……قناعت والے یہ راز جانتے ہیں کہ دینے میں سکون ہے جمع کرنے میں نہیں۔ ارے یہ بات تو تباہ حال نشئی بھی جانتا ہے کہ خرچ کرکے شراب و نشہ حاصل کرنے میں سکون ہے، کاغذ کے ٹکڑے اکھٹے کرنے میں نہیں، خواہ وہ برائے نام ہی سکون کیوں نہ ہو……اس لیے زیادہ یا کم وسائل میں نہیں بلکہ جو ہے اس پہ راضی رہنے کا نام قناعت ہے۔ پھر ڈھیر بھی لگتے رہیں تو دل اثر نہ لے گا۔ بے نیازی جاری رہے گی۔ آزادی حاصل رہے گی۔ دانائے راز اقبال نے جدید مادہ پرست عفریت کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا تھا:
عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکرِ معاش
قناعت نہ ہونے کے نقصانات……
اب ہم اختصار سے ذکر کرتے ہیں کہ انسان اس نعمت کو حاصل نہ کرے تو کس شر کا شکار ہو جاتا ہے۔ کیسے زندگی روگ اور ناسور بن جاتی ہے، جسے یہ بے وقوف کاٹتا نہیں کہ وساوس اور اندیشے غالب ہوتے ہیں:
٭نفس اسے بار بار حاصل نہ ہونے کی محرومی دکھاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ میں درست راستہ پہ ہوں پر محتاجی کی سی کیفیت ہے او ر فلاں کسی چیز کی حدود کا خیال نہیں رکھتا لیکن وسائلِ زندگی کی ریل پیل ہے، اور اس پہ اتراتا ہے۔ لوگ عزت کرتے ہیں اور مجھے کوئی پوچھتا تک نہیں۔ وہ انجانے میں لوگوں کے رویوں سے خود کو جانچنے لگتا ہے، اپنی زندگی لوگوں کی آرا کے حوالہ کردیتا ہے اور یوں حسرت کا مستقل مریض بن جاتا ہے
٭قناعت کی نعمت سے محروم آخرکار اپنے کمزور اعصاب کے ساتھ اس چکا چوند دنیا میں جنگ ہار دیتا ہے۔ اور عموماََ وسائل کی خوش حالی حاصل کرنے ہی کو اول و آخر کامیابی سمجھ کے، سیاہ و سفید سے بے پروا ہوکے جسم و روح کے ساتھ گلے سڑے بدبودار بھیڑیوں کے غول کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ انجام سے بے نیاز زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی لگن میں لگ جاتا ہے۔ اور یوں معاشرہ، قانون، خاندان، احباب سمیت خود کی نظر میں بھی ایک مجرم کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے خواہ دوسروں کو چپ کرواتا رہے اور اپنے ضمیر کو تسلیاں دے کے سلاتا رہے۔ بے شک دنیا کی چکا چوند سے وہی بچا کرتے ہیں جو نظامِ دنیا اور خود پہ تفکر و تدبر کریں اور جن پہ پھر رحمت کی جائے۔
٭اب وہ وقت آتا ہے جب اس بیچارہ کی بے سکونی دو آتشہ ہوتی ہے اور اسے کسی پل قرار نہیں آتا، یہ ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے۔ سونے کے لیے گولیاں لیتا ہے، سکون آور ادویات کے استعمال پہ اترتا ہے، بیماریاں گھیرنا شروع ہوتی ہیں، نئی متعارف ہوئی اعصابی بیماریاں چاروں طرف سے حملہ کردیتی ہیں ……یہ اپنے وسائل کو دیکھ کے سہارا پکڑتا ہے کہ ہرطرح کا علاج کروا لوں گا، مسئلہ نہیں۔ ضمیر و روح کی نفس اور شیطان کے ساتھ کشمکش اسے خوفناک طور پہ کھوکھلا کر چھوڑتی ہے۔ پھر وہ وقت آجاتا ہے کہ جب گھر اور احباب چڑچڑے پن کی وجہ سے متنفر ہونے لگتے ہیں، تنہائی شروع ہوتی ہے۔ سب کے درمیان ہوتے ہوئے اور سب کچھ بظاہر ہوتے ہوئے مہلک تنہائی کا احساس۔ اور یہ تو اس وقت ہوتا ہے جب پھر بھی کوئی معیارِ زندگی حاصل کر لے۔ گر یہ لائف سٹائل نہ حاصل کر سکے (جو اکثر ہے) تو وہ شدید مایوسی کے حملہ کا شکار ہوتا ہے…… اور پھر جسمانی، روحانی، نفسیاتی عوارض ان کے الم ناک انجام پہ مُہر ثبت کردیتے ہیں۔ یہ وہ حال ہے جو ہم اپنے گرد بکھرا دیکھ سکتے ہیں، بس تھوڑا بصیرت کی آنکھ کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جناب ابو دردا کو کسی نے ستایا تو انہوں نے کہا کہ خدا تمہیں لمبی عمر اور ڈھیر ساری دولت عطا کرے، گویا ان کے نزدیک اسے بری بددعا نہیں تھی۔ انسان ان دونوں سے غفلت میں مبتلا ہو کے ہلاکت کے گڑھوں میں تعفن بننے کے لیے گر جاتا ہے۔
اب چلیں حل کی طرف……
٭ضرورت جتنی کوشش کرو۔ اس کوشش میں اپنی بہترین صلاحیت استعمال کرلو۔ عام لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے۔
٭نتائج سے بے پروا ہوجاؤکیوں کہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ اور مطمئن ہو کے دیگر کام انجام دو۔ توکل کے علاوہ انسان کے پاس چارہ کوئی نہیں۔اسے تسلیم نہ کرے گا تو پھر مندرجہ بالا فتنہ کے چکر کا شکار ہوجائے گا۔
٭غیر ضروری اخراجات کم کرنا قناعت کا گُر ہے۔ مغربی سیلف ہیلپ پریکٹس مشین بننا سکھاتی ہے کہ کمائی بڑھاؤ، اخراجات تو ہونے ہی ہیں۔یہ اپروچ انسان کو گھن چکر بنا دیتی ہے۔ ہم وسائل بڑھانے کے مخالف نہیں پر یہ حقیقت بتا رہے ہیں کہ اخراجات کو بلا روک ٹوک بڑھنے دینا کوئی دانش مند حکمتِ عملی نہیں، ضروری اخراجات تو ہوں گے پر جب تک نظر نہ رکھوگے اس وقت تک حرص تمہیں کنٹرول کرے گی، تم نہیں۔
٭حقیقتِ دولت کو جانا جائے۔ ’دولت بھی تو اہم ہے نا‘ یہ جملہ وہ کہے جو دنیا سے بے نیازی کے سٹینڈ پہ کھڑا ہو۔ جس کا دل پہلے ہی دنیا کے سامنے غلامی قبول کیے ہو اس کے لیے یہ جملہ زہر آلود تیر ہے۔ اہم چیز کاموں کا تکمیل پانا ہوتا ہے نہ کہ دولت جو صرف ایک عامل کا کردار رکھتی ہے۔ خدا کا جب کوئی ہو جاتا ہے تو خالق اس کی خدمت کے لیے کائنات کو مسخر کر دیتا ہے۔ مخلوق کو مہربان کر دیتا ہے اوروہ بغیر دولت کے استعمال کے کئی کام اس فقیر کے کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں (یہ تو صرف ایک مثال ہے)۔ مگر پہلے یہ ضروری ہے کہ اُس پہ اتنا اعتماد تو کرو جتنا اپنے باس پہ کرتے ہو، پھر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کہنا۔
٭مراقبہ کرو۔ اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دو اور تنہائی میں ہفتہ میں کچھ دن بیٹھ کے سوچیں الگ کردو (کچھ پریکٹس کے ساتھ یہ کرنا آجائے گا)۔ اب غور کرو ان پہ جو تم سے کم وسائل رکھتے ہیں وہ زندگی کیسے گزارتے ہیں،ا ور صمیمِ قلب سے شکر کرو……غور کرو کہ جب تمہارے پاس پیچھے کہیں کوئی محرومی آئی اور تم نے توکل کیا تو خدا نے کیسے غیب سے تمہارے لیے نکلنے کا راستہ پیدا کیا، غیب سے رستہ کا مطلب ہے ایسے اسباب پیدا ہونا جس کے لیے تم نے بظاہر کوشش کی نہ یہ مدد تمہارے گمان میں تھی…… آزمائش کے دور میں اپنے اوپر ہونے والی نعمتوں کی یاد جاری کرو…… اور اس مراقبہ کے آخر میں دُعا کا دامن پھیلادو، دل کی خالص حالت میں آنسوؤں کے نذرانے پیش کرو اور قبولیت کی فریکوئنسی پانے کی کوشش کرو۔
٭خدا کی یاد کا غلبہ ایسی تمام بیماریوں کا علاج ہے۔ یہ بھرپور قوت اور سہارے کا احساس آپ کے ساتھ کر دے گا۔ خدا کی عظیم طاقتیں آپ کی پشت پہ آجائیں گی۔ آپ اُس کی طرف تمام صلاحیت کے ساتھ متوجہ ہوجائیں گے تو وہ آپ ظاہر و باطن کے لیے کافی شافی ہوجائے گا۔ حقیقت شناس اقبال نے فرمایا:
اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ مُلُوک
اور اگر جانے تو ہیں تیرے گدا دار و جِم
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
اپنے انفرادی، نفسیاتی، روحانی، معاشرتی مسائل کے جواب کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر سوال لکھ کے بھیجیں یا ای میل کریں۔ منتخب سوالوں کے جواب دیے جائیں گے۔ syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button