منتخب کالم

قومی سیاست کے سربستہ راز…… چوہدری فرخ شہزاد

پاکستان کی سیاست اور حکمرانی ایک ایسا سربستہ راز ہے کہ عام آدمی کے لیے اس کی تہہ تک پہنچنا کبھی ممکن ہی نہیں ہے۔ اس میں آسمان کو چھونے والے دعوے اپنی جگہ مگر ان کی حقیقت کلی طور پر برعکس ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جب اقوام متحدہ کے باہر یہ کہہ رہے تھے کہ ہم ہزار سال تک لڑیں گے تو اس وقت فیصلہ ہو چکا تھا کہ ڈھاکہ میں ہم نے سرنڈر کرنا ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف کے قبل از مشرف دور سیاست کا ایک اہم ترین Rhetoric جس کے بل بوتے پر وہ شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں سے بھی اوپر چلے گئے وہ یہ تھا کہ ہم بھاگنے والے نہیں ہیں۔ یہ بیان وہ اس لیے دیتے تھے کہ ان کی سب سے بڑی حریف بے نظیر بھٹو جلا وطنی میں تھیں۔ عمران خان کا سب سے بڑا سٹینڈ یہی رہا ہے کہ کسی کو NRO نہیں دوں گا یہ بات اب بھی وہ کہہ رہے ہیں حالانکہ ان کی NRO والی بندوق خالی ہو چکی ہے مگر وہ بضد ہیں۔
میاں نواز شریف سے کوئی کتنا ہی اختلاف کرے لیکن ان کی سیاست اور طاقت کا لیول بہت اونچا ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سٹریٹ پاور کے ساتھ ساتھ انہوں نے حقیقی پاور کے حصول کی یقین دہانی پر سیاست کی ہے پھر ایک وقت آیا جب انہیں یہ محسوس ہوا کہ قومی اسٹیبلشمنٹ ان کی پرواز میں رکاوٹ ہے تو انہوں نے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مراسم بنا لیے اور یہ وہ مراسم تھے جو انہیں جیل سے نکال کر مشرف دور میں جدہ پہنچانے کا محفوظ راستہ ثابت ہوئے۔ آج کل کا تو پتہ نہیں مگر جدہ سے واپسی کے بعد ایک دہائی تک رائے ونڈ کی استقبالیہ لابی میں صدرکلنٹن کی تصویر لگی ہوتی تھی جسے وہ اپنا نجات دھندہ سمجھتے تھے۔ یہ کلنٹن ہی تھے جنہوں نے ایک تدبیر کے تحت خود مداخلت کرنے کی بجائے سعودی عرب کو میاں نواز شریف کی رہائی کا مشن سونپا تھا۔
اپنے تیسرے عہد حکومت کے آغاز میں یمن کے معاملے پر میاں صاحب اور سعودی عرب میں تعلقات اور ذاتی نیاز مندی برقرار نہ رہ سکی اور جب ایک بار پھر انہیں اقتدار سے محرومی اور قید وبند کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی پشت پر سعودی عرب نہیں تھا مگر جدہ دور کے بعد کا دور سیاست پہلے سے زیادہ طاقتور تھا، اس میں انہیں نئے عالمی دوست مل گئے۔ اسی دور میں ایل این جی کا قطر سے معاہدہ ہوا اور میٹرو اور اورنج لائن جیسے منصوبوں میں ترکی اور چائنا کے ساتھ دوستی کی نئی داستانیں رقم ہوئیں۔ جن کی منفی بازگشت کے قصے بھی مشہور ہیں لیکن اب میاں صاحب اور سعودی ایک دوسرے کے لیے نا گزیر نہ رہے، میاں صاحب پہلے سے زیادہ Diversify ہو چکے تھے۔ دوست وہ ہوتا ہے جو مصیبت میں کام آئے۔ میاں صاحب کے نئے دوستوں نے انہیں مایوس نہیں کیا اور وہ ایک بار پھر جیل سے رہا ہو کر لندن اپارٹمنٹ پہنچ چکے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے یہ کافی ہے کہ میاں نواز شریف کی آزادی کا پروانہ در حقیقت کہاں سے جاری ہوا ہے۔
لیکن اس کے با وجود پاکستان میں شور برپا ہے کہ کیا ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔ پاکستان کی سیاست میں ہر بات کو مقامی حالات و واقعات سے منسلک کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کے بارے میں اہم ترین فیصلے ہمیشہ پاکستان سے باہر ہوتے ہیں۔ کہانیوں کو قومی رنگ دینے کا ایک مضبوط رجحان ضرور ہوتا ہے لہٰذا ضرورت کے مطابق کچھ Modelities پیش کر دی جاتی ہیں تاکہ عوام کے بحث مباحثے کے لیے جواز فراہم کیا جا سکے۔
اس وقت پاکستان میں بڑی دلچسپ صورت حال برپا ہے۔ عدلیہ، حکومت، ادارے سب خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں۔ اور اپنی اپنی صفائی پیش کر کے ملبہ دوسرے پر ڈال رہے ہیں جبکہ اصل فتح ن لیگ کی ہے ان کا لیڈر جیل سے آزادی کے بعد انگلستان میں ہے اور قومی خزانے میں پیسے کی واپسی جسے ن لیگ تاوان اور حکومت لوٹی ہوئی رقم قرار دیتی تھی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
وزیر اعظم عمران خان کی اس دن کی تقریر بڑی دستاویزی حیثیت رکھتی ہے جس دن میاں صاحب کا قافلہ پاکستان سے نکلا تھا۔ عمران خان عوامی اجتماعات میں جاتے ہیں۔ چہرے پر میک اپ ٹی وی کیمروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ عمران خان کی کیمروں کے سامنے Appearance دیکھیں تو فرق واضح ہو جائے گا وہ بہت زیادہ جذباتی، مشتعل، شرمندہ اور پچھتانے کے انداز اپنائے ہوئے تھے اور بڑے جذباتی انداز میں مخالفین پر زبانی حملے کر رہے تھے مگر اندر سے ان کی بے بسی نمایاں تھی۔ ان پر تھکاوٹ اور نا امیدی کے آثار تھے۔
میاں نواز شریف اگر سیاسی کرتب گری چاہتے تو وہ سٹریچر پر ایئرپورٹ بلڈنگ سے جہاز تک جاتے مگر وہ خود اپنے پاؤں پر چل کر گئے۔ انہوں نے شیو کی ہوئی تھی حالانکہ پلیٹلٹس کم ہوں تو شیو اور برش سختی سے منع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں خون اتنا پتلا ہوتا ہے کہ اسے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایک لاکھ سے کاؤنٹ اگر کم ہوا تو مریض کو ہوائی سفر کی اجازت نہیں ہوتی۔ میاں صاحب نے جب لندن کا قصد کیا تو وہ سیدھے ہسپتال نہیں، اپنے گھر تشریف لے گئے اور وہ ایمبولینس میں نہیں عام گاڑی میں روانہ ہوئے جب لفٹ سے باہر آئے تو انہوں نے اپنا اوورکوٹ بازو پر لٹکا یا ہوا تھا اور بغیر سہارے کے چل رہے تھے، ان کے چہرے پر Swelling نہیں تھی۔ اور فریش نظر آتے تھے۔ ان کے بیٹے انہیں لینے ایئرپورٹ نہیں گئے بلکہ لندن اپارٹمنٹ میں ہی انہوں نے اپنے والد کا استقبال کیا۔
میاں نوازشریف کی بیماری اور بیرون ملک سفر سے قطع نظر ایک لمحے کے لیے پاکستان کی موجودہ حکمرانی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ عمران خان کی باڈی لینگوئج بتا رہی ہے کہ حالات ان کے کنٹرول میں نہیں رہے۔ پولیس اور بیوروکریسی ان کے احکامات پر من و عن عمل نہیں کرتی، یہ دونوں ان سے عدم تعاون کر رہے ہیں، صرف زبانی حد تک جمع تفریق ہو رہی ہے۔ عمران خان کی پارٹی کے اندر جو بیرونی عناصر ہیں جو دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے ہیں وہ من مانی کرتے ہیں اور پارٹی پالیسی پر نہیں چلتے، کرپشن بھی یہی لوگ کر رہے ہیں، ڈسٹرکٹ لیول پر سیاسی مداخلت عروج پر ہے۔
عدلیہ کے ساتھ حکومت کی کوآرڈینیشن زیرو ہے۔ وزیر اعظم اور چیف جسٹس ٹی وی پر آ کر براہ راست ایک دوسرے کو مخاطب کر کے بات کرتے ہیں۔ دونوں حالات کی ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے۔ چیئر مین نیب نے احتساب کے ریڈار کو حکومت کی گزشتہ 15 ماہ کی کارکردگی اور کرپشن پر فٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری طرف فارن فنڈنگ کیس میں اپوزیشن نے پریشر بہت بڑھا دیا ہے، معاملہ الیکشن کمیشن میں ہے جس کی روزانہ بنیادوں پر سماعت کا اعلان ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے نواز شریف کی محض اقامہ کی بنیاد پر نا اہلی کی مثال موجود ہے۔ حکومت کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ نے حکومت سے فاصلہ ظاہر کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات میں چوہدری پرویزالٰہی بطور ثالث کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ عمران خان خود اپنے بیان میں اعتراف کر چکے ہیں کہ لانگ ٹرم پالیسی نہیں ہے ملک کو روزانہ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی جماعت میں اہلیت کی کمی ہے۔ معاشی پالیسیاں نتائج نہیں لا رہیں۔ آٹو انڈسٹری کے بحران کی وجہ سے جو امپورٹ کم ہوئی ہے، ادائیگیوں کے توازن میں وقتی بہتری کا کارنامہ سمجھا جا رہا ہے جبکہ آٹو پلانٹ بند ہو رہے ہیں۔ ایک منفی Indicator کو صحت مند سمجھا جا رہا ہے۔
عمران خان کے متبادل کے بارے میں سوچا جا رہا ہے حالانکہ نئے انتخابات ملک میں پہلے سے جاری افرا تفری میں مزید اضافہ کریں گے۔ اپوزیشن حکومت کو گرانا چاہتی ہے مگر ان کے پاس متبادل قیادت کا فقدان ہے، وہ سارے آزمودہ ہیں جو بری طرح فیل ہو چکے ہیں۔ غیر جمہوری سیٹ اپ کے لیے فضاء قطعی ناسازگار ہے۔ کسی کے پاس بھی کوئی حل موجود نہیں۔ سب معجزے کے انتظار میں ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button