تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

قینوا: فولاد اور غذایئت کا خزانہ، رکھے آپکو چست و توانا

اگر ہم اس کے غذائیت کا جائزہ لیں تو اس میں 64 فیصدکاربوہائیڈریٹ اور 13فیصد پانی، 17فیصد پروٹین ہوتی ہے، جبکہ گندم میں 13 اور چاول میں 3 فیصد پائی جاتی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پروٹین سویا بین، گندم اور جو کے مقابلے میں معیار میں بھی بہتر ہے۔اس میں لیزین اور گندھک جیسے امینو ایسڈ کا ایک اچھا مرکب بھی ہے اور اس میں اومیگا 3 اومیگا 6 اور اومیگا 9 بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس مینگنیز اور وٹامن اے اور ای بھی شامل ہیں۔

قینوا پاکستان کی ایک جدید اور ابھرتی ہوئی فصل ہے۔ اس کا سائنسی نام چینوپوڈیم قینوا ہے۔ اس کی فصل کی اونچائی تقریبا 1-2 میٹر ہے۔ یہ 2008 میں پاکستان میں پہلی بار متعارف کروائی گئی۔ اس کا آبائی علاقہ پیرو، بولیویا، ایکواڈور، کولمبیا اور چلی کے ہے اور یہ انسانی استعمال کیلئے تین سے چار ہزار سال سے اگائی جا رہی ہے۔ اس میں انتہائی صحت بخش اجزاپائے جاتے ہیں، جو انسانوں کیلئے بے حد فائدہ مند ہیں۔

اس فصل کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ شور یا کلراٹھی مٹی میں بھی آسانی سے اگتی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری 1/3 زمین نمکیات سے متاثر ہے لہذا یہ پاکستان کے لئے بہت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ پودا خشک ماحول کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جس سے کم پانی والے علاقوں میں بھی پیداوار ہو سکتی ہے۔ پوری فصل کو تیار ہونے کیلئے 3 سے 4 پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں زرعی یونیورسٹی میں اس پر بہت کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان میں 15 اکتوبر سے لیکر 15 نومبر تک بوئی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ میں 3 سے 5 کلو گرام تک بیج لگتا ہے۔

پاکستان میں اس کی فی ایکڑ پیداوار 1 ٹن ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک ایکڑ سے 2 سے 3 ٹن تک غذائیت سے بھر پور چارہ بھی حاصل کیا جاتا ہے جس سے نہ صرف جانوروں کی صحت اچھی ہوتی ہے بلکہ دودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے پتوں کو سبزی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اب پاکستا میں اس کا بیج برآمد کیا جا رہاہے۔ ایک پودے سے ہم 200 گرام تک بیج یا دانے حاصل کر سکتے ہیں۔ لہذا یہ پاکستان میں ایک انتہائی قیمتی فصل بن سکتی ہے کیونکہ اس سے نقد کی کسی بھی فصل کے مقابلے میں زیادہ منافع ہوتا ہے۔
اس میں 120 سے زیادہ رنگ ہیں، لیکن سرخ، سفید اور سیاہ زیادہ عام ہیں۔ رنگ کے علاوہ تمام خصوصیات ایک جیسی ہیں اور ایک ہی ترکیب میں استعمال ہوسکتی ہیں۔

اس کو گندم کی فصل جتنی کھاد اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی کٹائی بھی تقریبا اسی موسم میں کی جاتی ہے جس موسم میں گندم کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ابھی لوگوں کا اس 6فصل کی طرف رجحان کم ہونے کی وجہ سے اس کی مارکیٹ بہت کم ہے لیکن جو لوگ ایک بار قینوا کھانا شروع کرتے ہیں تو ان کے جسم میں ہونیوالی اچھی تبدیلیوں کی وجہ سے اسے چھوڑ نہیں پاتے۔

قینوا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اگر ہم اس کے غذائیت کا جائزہ لیں تو اس میں 64 فیصدکاربوہائیڈریٹ اور 13فیصد پانی، 17فیصد پروٹین ہوتی ہے، جبکہ گندم میں 13 اور چاول میں 3 فیصد پائی جاتی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پروٹین سویا بین، گندم اور جو کے مقابلے میں معیار میں بھی بہتر ہے۔اس میں لیزین اور گندھک جیسے امینو ایسڈ کا ایک اچھا مرکب بھی ہے اور اس میں اومیگا 3 اومیگا 6 اور اومیگا 9 بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس مینگنیز اور وٹامن اے اور ای بھی شامل ہیں۔

قینوا کا استعمال:
اس کے دانے کو آٹا بنانے کے لئے پیسا جاتا ہے جو بسکٹ، روٹی، چٹنی، پاستا، کیک اور جوس بنانے میں استعمال ہوتا تھا۔ یورپی ممالک میں یہ بھی پاپ کارن کی طرح پاپ بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے دانوں کو مختلف قسم کے سلاد بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے مقامی میٹھی ڈشوں میں بھی حلوہ اور کھیر کی طرح بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ گندم اور چاول کے متبادل کے طور پر بہترین اور غذائیت سے بھر پور فصل ہے۔

پودوں اور بیج کے اوپر موجود سیپونن ڈٹرجنٹ، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ کیڑے مار ادویات اور اینٹی بائیوٹکس بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

قینوا کے طبی فوائد:

خون میں شوگر کا توازن برقرار رکھے:
اس کے صحت پر بہت سے فوائد ہیں۔قینوا کا آٹا شوگر کے مریضوں کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور خون میں شوگر کا توازن برقرار رکھتا ہے۔
اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس خون میں شوگر لیول کو تیزی سے نہیں بڑھنے دیتے۔

بلڈ پریشر نارمل کرے:
دنیا کی ایک بڑی آبادی بلڈ پریشر میں مبتلا ہے۔اس کی وجہ سوڈیم ہے۔لیکن قینوا سوڈیم سے تقریباً پاک ہے، جِس کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کے لئے آئیڈیل خوراک ہے۔

پیٹ کی بیماریوں کا خاتمہ کرے:
دنیا کے 10سے 15فیصد لوگ پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہیں جو ایک پروٹین گلوٹن کی وجہ سے ہوتی ہے جو گندم اور جو میں پائی جاتی ہے جبکہ دنیاکی بڑی پڑھی لکھی آبادی (IBS)(Ioritable Bowll Syndrome)میں مبتلا ہے جس میں پیٹ اکثر خراب رہتا ہے یہ بھی اسکا قدرتی علاج ہے کیونکہ یہ گلوٹن سے پاک ہے۔

کولیسٹرول کم کرے:
قینوا کے بیجوں کے اندر کولیسٹرول کم کرنے والا تیل بھی موجود ہے۔ ان خوبیوں کی وجہ سے اسکو دنیا میں سپر فوڈ کا رجہ حاصل ہے اور NASAنے آئندہ سے اسے خلا میں جانے والے سائنسدانوں کی خوراک قرار دے دیا ہے۔

بینائی کو مضبوط بناتی ہے:
قینوا میں وٹامن اے شامل ہوتا ہے اور جسم میں وٹامن اے کی کمی بینائی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کیمیائی اجزا ہماری آنکھوں کو توانا رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر یہ آنکھوں کو سُورج کی تیز روشنی جذب کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے اور تیز روشنی کے اثرات سے آنکھوں کو محفوظ رکھتا ہے۔

وٹامن ای سے بھرپور حذا:
وٹامن ای صحت مند زندگی کیلئے بہت ضروری ہوتاہے؟ یہ ہمیں متعدد امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

انٹی ایجنگ ہے:
خوبصورت اور جوان نظر آنا کس کی خواہش نہیں ہوتی، یقیناً ہر کوئی ایسا چاہتا ہے۔ اگر آپ بھی سدا جوان اور خوبصورت نظر آنا چاہتے ہیں تواس میں بھی وٹامن ای کی کارکردگی کارفرما ہوتی ہے۔جبکہ قینوا وٹامن ای سے بھرپور غذا ہے، اسی لئے اسے سپر فوڈ کا درجہ حاصل ہے۔
وٹامن ای کی موجودگی کے سبب آپ کے چہرے کی جلد نرم اور چمکدار ہوجاتی ہے۔ اس کے سبب چہرے پر جھریاں پڑنے کا عمل سست ہو جاتا اور آپ ہمیشہ جوان نظر آنے لگتے ہیں۔

کیل مہاسوں، چھائیوں اور داغ دھبوں کا دشمن
کئی لوگ خصوصاً خواتین چہرے پر چھائیوں اور داغ دھبوں کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں۔ اگر آپ بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں تو پریشان نہ ہوں، اس کا حل بھی وٹامن ای میں ہے۔قینوا کے استعمال سے داغ دھبوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے، کیل مہاسے نکلنے بند ہو جاتے ہیں۔

پروٹین سے بھرپور:
قینوا کے بہت فوائد ہیں۔ اس میں 17فیصد پروٹین ہوتی ہے، جبکہ گندم میں 13 اور چاول میں 3 فیصد پائی جاتی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پروٹین سویا بین، گندم اور جو کے مقابلے میں معیار میں بھی بہتر ہے۔

کیلشیم سے بھر پور:
قینوا میں آئرن، فاسفورس اور کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفوس ہڈیوں کے بیرونی حصے کو مضبوط بناتا ہے۔ ان سے ہڈیوں کو قوت ملتی ہے اور وہ زیادہ بوجھ اٹھانے کے قابل بن جاتی ہے۔ دوسری طرف آئرن ہڈیوں کی اندرونی ساخت پر کام کرتے ہیں، ہڈیوں میں کیلشیم اسٹور کرنے میں مدد کرتے ہیں اور خون اور کولا جین پیدا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button