منتخب کالم

لائل پورکا جو ذکرکیا…… میم سین بٹ

لاہورکے بعد پنجاب کا دوسرا بڑا شہرفیصل آباد کسی زمانے میں لائل پورکہلاتا تھا ہم تو جب تین عشرے پہلے آبائی شہر سیالکوٹ سے آٹھ بازاروں کے شہر منتقل ہوئے تھے تو ان دنوں بھی اسے فیصل آباد ہی کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا تھا۔ اب اسے پرانے نام سے پکارنے والے بہت کم لائل پوری زندہ بچے ہوں گے، چند برس قبل کالعدم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ فیصل آباد نے غالباََ ان جیسے ”لائل پوریوں“ کی یادیں تازہ رکھنے کیلئے ہی گھنٹہ گھر کے گرد آٹھ بازاروں میں واقع محلوں اور ملحقہ بستیوں پر مشتمل میونسپل ٹاؤن کو لائل پور ٹاؤن کا نام دیدیا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ پہلے فیصل آبادکا پرانا نام”لائل پور“ بحال کروانے کیلئے تحریک بھی شروع ہوئی تھی جو جلد ہی دم توڑ گئی تھی۔ صوبے کے تاریخی شہروں لاہور، ملتان اور سیالکوٹ وغیرہ کے مقابلے میں فیصل آباد صرف ایک صدی قدیم شہر ہے۔ اسے انگریز دور میں انیسویں صدی عیسوی کے اختتام پر یونین جیک کے نقشے پر لائل پورکے نام سے بسایاگیا تھا اور شہری نظام قائم ہونے کے بعد مغربی اور مشرقی پنجاب کے علاقوں سے آبادکاروں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کردیا تھا۔ اس سے پہلے راوی اور چناب کے درمیان اس ساندل دھرتی پرسکھوں کے علاوہ کھرل، نول، فتیانہ،کموکا جیسے چند قدیم مسلمان قبائل آباد تھے، تقسیم ہندکے وقت لائل پورکی سکھ اورہندوآبادی بھارت نقل مکانی کرگئی تھی جن میں بھارتی اداکارامیتابھ بچن کی والدہ بھی شامل تھیں۔
لدھیانہ،جالندھر،ہوشیار پوراورامرتسرسمیت مشرقی پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان مہاجر خاندان یہاں بسائے گئے تھے، قیام پاکستان کے بعد بھارتی سرحد سے دور اور چنیوٹ سے قریب ہونے کے باعث اس شہر میں صنعت وتجارت نے خوب پھلنا پھولنا اور ملک بھر سے لوگوں نے روزگار کیلئے لائل پورکا رخ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جڑانوالہ روڈ، جھنگ روڈ، شیخوپورہ روڈ، سرگودھا روڈ، سمندری روڈ، ستیانہ روڈ پر جدید رہائشی بستیاں جس رفتارسے پھیلتی جا رہی ہیں لگتا ہے جلد ہی وہ وقت بھی آجائے گا کہ جب میونسپل کارپوریشن فیصل آبادکی حدود جڑانوالہ،کھڑیانوالہ، ستیانہ، سمندری،گوجرہ، چک جھمرہ، ڈجکوٹ اور چنیوٹ تک وسیع ہو جائے گی،کسی زمانے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ،کمالیہ اور پیر محل بھی لائلپورمیں شامل ہوتے تھے لیکن جنرل ضیاکے مارشل لاء دور میں پہلے شہرکا نام تبدیل کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا اور پھرٹوبہ ٹیک سنگھ کو ضلع کا درجہ دے کر فیصل آبادکی ضلعی حدود کم کردی گئی تھی۔
صوبائی دارالحکومت سے صرف دوگھنٹے کی مسافت پر واقع ہونے کے باعث فیصل آباد میں ادبی وثقافتی روایات زیادہ پروان نہیں چڑھ سکیں۔ یہاں کے ادیب، شاعر، صحافی دانشوراور فنکار لاہور منتقل ہوجاتے رہے ہیں، آسمان ادب وصحافت اور ثقافت کے درخشندہ ستارے شیخ منظورالہٰی، نذیر ناجی، حسن نثار، حسنین جاوید (مرحوم)، علی اکبر عباس، علی اصغر عباس، ڈاکٹرعالم خان، فلم رائٹر حفیظ احمد، زاہدعکاسی(مرحوم)، زاہد فخری، زاہد حسن، زاہد نبی، ناصربشیر، افصل ساحر، ڈاکٹر ارشدعلی، ارشد بلوچ، ندیم اشرف، اسلم میاں، رانا عبد الرحمان، کامریڈ زوارحسین،کامریڈشفیق احمد شفیق (مرحوم)، طارق جاوید(مرحوم)، طارق ٹیڈی، نسیم وکی، نادیہ علی، سردارکمال وغیرہ لاہور آنے کے بعد ہی چمکے تھے۔ فیصل آباد میں مقیم ادیب، شاعر، دانشور ڈاکٹر ریاض مجید، پروفیسر شبیر احمد قادری، پروفیسرریاض احمد قادری، طارق محمود خان، مقصود وفا، فرحت صدیقی، حمید شاکر، شہزادبیگ وغیرہ قومی سطح پر نظراندازہو رہے ہیں البتہ انجم سلیمی حلقہ ارباب ذوق کے خصوصی جلسوں، مشاعروں اور دیگر ادبی وثقافتی تقریبات میں شرکت کیلئے گاہے گاہے لاہور آتے رہے ہیں۔ ماضی میں حکیم یوسف حسن، سرشیخ عبدالقادر، اعظم چشتی، پروفیسر منورمرزا، پروفیسر محمد سلیم، صدیق سالک، حبیب جالب، حمید نسیم، یونس متین، ڈاکٹرسید معین الرحمان، ڈاکٹرانور سدید، روحی کنجاہی، رشید مصباح، نعیم مصطفٰے، ظہیراحمد بابر اور رانا سرفراز انوروغیرہ بھی بسلسلہ روزگار کچھ عرصہ لائل پور یا فیصل آباد میں مقیم رہے تھے۔ ان دنوں صوفیہ بیدارفیصل آباد میں آرٹس کونسل کی ڈائریکٹر تعینات ہیں، تقسیم ہند سے بہت عرصہ پہلے ہمارے دادا بھی اپنے دونوں بھائیوں سمیت چند سال لائلپورمیں رہے تھے۔
فیصل آباد میں ادیبوں، شاعروں اورصحافی دانشوروں کے مستقل ٹھکانوں میں کچہری بازارکے جرال ہوٹل اور جھنڈے کا ہوٹل کے علاوہ کشمیر ہوٹل اور ہوٹل تھری سٹار نمایاں تھے۔ چنیوٹ بازارکے ہوٹل تھری سٹارکی حیثیت پاک ٹی ہاؤس جیسی تھی جہاں حلقہ ارباب ذوق کی مقامی شاخ کے ہفتہ وار اجلاس ہوا کرتے تھے جبکہ آرٹس کونسل ہمارے زمانے میں مولوی فقیر محمد(مرحوم) کی مسلسل مخالفانہ بیان بازی کے باعث فعال نہ ہو سکی تھی۔ البتہ اس کی کسر سینما گھروں کو تھیٹر میں تبدیل کرکے پوری کی جاتی رہی تھی۔ فیصل آبادکے شہری مجروں سے بھرپورتھیٹر ڈرامے دیکھنے کے بڑے شوقین ہیں اور ان کا یہ شوق ماضی میں آئے روزمقامی تھیٹر ہالز پرپولیس کے چھاپے مرواتا رہا تھا، لاہورکے تھیٹرز بھی فیصل آبادیوں کے دم قدم سے آباد ہیں۔ یہاں اگر سنسر کی تھوڑی بہت پابندی نہ ہو تو لاہوری تھیٹرز بھی آئے روز سیل ہوتے رہیں۔ فیصل آبادیے اپنے مخصوص لب ولہجے بالخصوص جگت بازی کی عادت کے باعث بھرے مجمعے میں فوراََپہچان لئے جاتے ہیں۔
گھنٹہ گھر فیصل آبادکی سب سے بڑی پہچان ہے۔ شہرکے آٹھوں بازار یہاں پہنچ کرختم ہو جاتے ہیں۔ یوں توگھنٹہ گھر ملتان، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں بھی پائے جاتے ہیں مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی؟ فیصل آباد میں پہلے صرف ایک یونیورسٹی (جامعہ زرعیہ) پائی جاتی تھی پھر ہمارے لاہور آنے کے بعدگورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ اورگورنمنٹ کالج برائے خواتین مدینہ ٹاؤن کو بھی یونیورسٹی کادرجہ دیدیاگیا۔ اب تو فیصل آباد میں بہت سی پرائیویٹ یونیورسٹیاں بھی قائم ہو چکی ہیں، ہمارے بچپن میں فیصل آباد جب لائل پور ہوا کرتا تھا تو ہم ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے سیالکوٹ سے نانا نانی کے پاس لائل پورجایاکرتے تھے جو ظفروال سے نقل مکانی کرکے اپنے بیٹوں کے پاس مقیم ہوگئے تھے۔ ہم زیادہ ترشاہین ایکسپریس ٹرین پر لائلپورکا سفرکیاکرتے تھے۔ شاہین ایکسپریس اس زمانے میں سیالکوٹ جنکشن ریلوے سٹیشن سے وزیرآباد، حافظ آباد، لائل پور، ملتان، بہاولپور کے راستے کراچی جایا کرتی تھی۔ یہ ٹرین اب بھی سیالکوٹ سے کراچی جاتی ہے مگر اس کانام اور روٹ تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ اب علامہ اقبال ایکسپریس کہلاتی ہے اور سیالکوٹ سے نارووال، لاہور، اوکاڑہ، خانیوال، لودھراں اور بہاولپورکے راستے کراچی جاتی ہے۔ اب بچپن اور لڑکپن میں شاہین ایکسپریس پرلائل پورکے سفرکاذکرآتے ہی ہم ماضی میں کھوکر رہ جاتے ہیں۔
فیصل آباد شہرچند برسوں سے بہت کشادہ اورصاف ستھرا شہر بن چکا ہے ورنہ ماضی میں یہاں سیوریج کے گٹر ابلتے رہتے تھے اورسڑکیں ٹوٹی پھوٹی رہتی تھیں، اسی دور میں ہم ایک عشرہ تک مختلف اخبارات میں رپورٹر رہے تھے۔ اس زمانے میں معروف مزاحیہ شاعر بابا عبیر ابوذری، چوہدری رحمت اور استاد نصرت فتح علی خان آٹھ بازاروں کے شہرکی پہچان ہوتے تھے۔ نصرت فتح علی خان نے جھنگ بازارکا آبائی مکان چھوڑنے کے بعد ہماری کالونی میں کوٹھی تعمیرکر لی تھی۔ ہماری گلی میں ان کی رہائش گاہ کے ساتھ ہی لوک گلوکاروں کے آڈیوکیسٹ تیار کرنے والے رحمت گراموفون ہاؤس کا ریکارڈنگ سٹوڈیو ہوتا تھا۔ قومی کرکٹ ٹیم جب بھی میچ کھیلنے فیصل آباد آتی تو کپتان عمران خان ٹیم کے ارکان سمیت رات کے وقت استاد نصرت فتح علی خان کی رہائش گاہ پر آجایا کرتے تھے۔ عمران خان تو اب وزیراعظم بن چکے ہیں جبکہ استاد نصرت فتح علی خان، چوہدری رحمت اور بابا عبیرابوذری دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button