Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینجرم کہانیخبریں

لارڈ نذیر احمد بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

جج مسٹر جسٹس لیوینڈر بعد میں فیصلہ کریں گے کہ لارڈ احمد کو کب سزا سنائی جائے گی۔ ٹرائل کے دوران وکیلِ استغاثہ ٹام لٹل نے عدالت کو بتایا کہ لارڈ احمد نے ستّر کی دہائی کے اوائل میں ایک لڑکی کے ریپ کی کوشش کی تھی جب وہ خود 16 یا 17 سال کے تھے مگر لڑکی اُن سے کمسن تھی۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے دارالامرا کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ستّر کی دہائی میں دو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا قصوروار پایا گیا ہے۔

لارڈ احمد آف روتھرہیم کو ایک لڑکے کے خلاف سنگین جنسی حملے اور ایک کمسن لڑکی کے ریپ کی کوشش کرنے کا مجرم پایا گیا.

نمائندہ جنگ مرتضی علی شاہ کے مطابق لارڈ نذیر احمد نے اپنے وکلا کو اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی ہے، لارڈ نذیر احمد کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات من گھڑت ہیں 2013 میں والدہ کی وفات کے بعد ان کا اپنے خاندان سے جائیداد کا تنازع چلا آرہا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ سلسلہ وار جنسی حملے روتھرہیم میں تب ہوئے جب وہ ٹین ایجر تھے۔

اب 64 سال کے ہوچکے نذیر احمد اپنے اصل نام سے عدالت میں پیش ہوئے اور خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔

جج مسٹر جسٹس لیوینڈر بعد میں فیصلہ کریں گے کہ لارڈ احمد کو کب سزا سنائی جائے گی۔ ٹرائل کے دوران وکیلِ استغاثہ ٹام لٹل نے عدالت کو بتایا کہ لارڈ احمد نے ستّر کی دہائی کے اوائل میں ایک لڑکی کے ریپ کی کوشش کی تھی جب وہ خود 16 یا 17 سال کے تھے مگر لڑکی اُن سے کمسن تھی۔

اسی عرصے کے دوران 11 سالہ لڑکے پر بھی جنسی حملہ ہوا۔ ٹام لٹل نے کہا کہ لارڈ احمد کا دعویٰ ہے کہ یہ الزامات انتہائی من گھڑت ہیں مگر سنہ 2016 میں دونوں متاثرین کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلی فون گفتگو کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوا کہ یہ من گھڑت واقعات نہیں تھے۔

جیوری کو بتایا گیا کہ خاتون کی کال مرد متاثرہ شخص کی ایک ای میل کے جواب میں ہوئی جس میں کہا گیا کہ اُن کے خلاف اُن کے پاس ثبوت موجود ہیں۔

لارڈ احمد پر اُن کے دو بڑے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق کے ساتھ الزامات عائد کئے گئے تھے مگر بڑے بھائیوں کو ٹرائل کے لئے ان فٹ قرار دیا گیا۔

اُن دونوں کے خلاف اسی لڑکے پر ناشائستہ حملے کا الزام ہے جس کا استحصال لارڈ احمد نے کیا تھا۔ حالانکہ یہ دونوں افراد فوجداری ٹرائل میں نہیں تھے لیکن جیوری ثبوت سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ اُنھوں نے یہ کام کیا تھا۔

لارڈ احمد نے نومبر 2020 میں اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ میں پایا گیا کہ اُنہوں نے خود سے مدد مانگنے والی ایک مجبور خاتون کا جنسی اور جذباتی استحصال کیا تھا۔ اُنھیں ایک ری ٹرائل کے بعد مجرم پایا گیا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!