Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینجرم کہانیخبریں

لاش کے ٹکڑے کرنیوالی ملزمہ عدالت میں مسکراتی رہی

کراچی کے علاقے صدر میں ایک شخص کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بے رحمی سے قتل کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون کو پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے عدالت میں پیش کیا تو اس موقع پر ملزمہ کمرۂ عدالت میں مسکراتی رہی۔

کراچی کے علاقے صدر میں ایک شخص کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بے رحمی سے قتل کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون کو پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے عدالت میں پیش کیا تو اس موقع پر ملزمہ کمرۂ عدالت میں مسکراتی رہی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کراچی کی عدالت نے قتل کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملزمہ کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی انگلیوں کے نشانات اور ڈی این اے سیمپل بھی لے لیا گیا ہے، تمام رپورٹس کچھ دنوں میں موصول ہوں گی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ خاتون تفتیشی افسر کو یہ کیس کیوں نہیں دیا گیا؟

سرکاری وکیل عبدالرحمٰن تھہیم نے عدالت کو بتایا کہ پولیس مختلف پہلوؤں سے کیس کی تفتیش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے صدر میں واقع عمارت میں خاتون کے ہاتھوں 65 سالہ شخص کے مبینہ لرزہ خیز قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔

پولیس کو ون فائیو سے اطلاع ملی تھی کہ انسانی ہاتھ فلیٹ کے باہر پڑے ہیں، اندر جا کر دیکھا تو کمرے میں ایک شخص کی لاش موجود تھی، لاش کے ہاتھ اور پیر نہیں تھے، سر بھی جسم سے الگ تھا۔

پولیس نے جائے واردات سے خاتون کو گرفتار کیا تھا، پولیس کے مطابق گرفتار خاتون نے مقتول کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے اور پھر اعضاء کے قریب ہی آرام سے سو گئی تھی۔

ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ کے مطابق گھر کے مختلف حصوں سے مقتول کی لاش کے اعضاء ملے، خاتون کے قبضے سے مختلف اوزار بھی ملے تھے۔

مقتول کی شناخت 65 سالہ محمد سہیل ولد محمد لطیف کے نام سے ہوئی تھی جس کی لاش کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ملزمہ نے پہلے پولیس کو بیان یا تھا کہ مقتول شیخ سہیل میرا شوہر تھا، بعد میں ملزمہ نے بیان بدلتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول ڈاکٹر تھا، میرا شوہر نہیں بلکہ بہنوئی تھا۔

پولیس کے مطابق مقتول شیخ سہیل اور خاتون فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے، خاتون کچھ عرصے کے لیے وہاں رہنے آتی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ خاتون قتل سے انکاری ہے جبکہ شواہد سارے اس کے خلاف ہیں، خاتون کے ہاتھ اور کپڑوں پر خون کے دھبے موجود ہیں، آلۂ قتل میں چھری، ہتھوڑا اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے، خاتون کی اصل رہائش جونیجو ٹاؤن میں ہے۔

پولیس حکام کی تحقیقات کے مطابق مقتول اور ملزمہ میاں بیوی نہیں، مقتول کی پہلے سے ایک شادی بھی ہے، مقتول کی اپنی بیوی سے 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، ملزمہ کے مطابق وہ مسلمان نہیں، جبکہ مقتول مسلمان تھا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ملزمہ نے پولیس کے سامنے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی، شواہد اور قوی شہادتوں کے مطابق فلیٹ سے ملی خاتون ہی قتل میں ملوث ہے۔

مقتول کے بیٹے کے مطابق مذکورہ خاتون 7 سال سے والد کے ساتھ رہ ر ہی تھی، پولیس کے مطابق گرفتار خاتون کا میڈیکل بھی کرالیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی بہن رات ڈیڑھ بجے جائے وقوع پر موجود تھی، سیکیورٹی گارڈ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ ملزمہ کی 7 سالہ بیٹی ہے جسے خالہ ساتھ لے کر گئی ہے۔

ایس ایچ او پریڈی کا کہنا تھا کہ مقتول کے قتل میں ملزمہ کی بہن ملوث ہے یا نہیں اس کی تحقیقات ہو رہی ہے، واقعے کے بعد سے ملزمہ کی بہن مفرور ہے۔

پولیس نے پریڈی تھانےمیں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمہ کو ویمن تھانے منتقل کیا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!