کتابیں

لاہورکی دہلیز پر…… میم سین بٹ

لاہور شہرسے پاک بھارت سرحد ”واہگہ اٹاری“ تقریباََ تیس کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔ آزادی کے وقت لاہورکے ہندو اور سکھ شہری شرنارتھی بن کر واہگہ اٹاری بارڈرکے راستے ہندوستان چلے گئے تھے جبکہ امرتسر اور مشرقی پنجاب کے دیگر اضلاع کے بیشتر مسلمان مہاجرین اسی راستے پاکستان آ کر والٹن کیمپ میں پڑاؤکرنے کے بعد لاہور سمیت مغربی پنجاب کے مختلف اضلاع میں آباد ہوگئے تھے۔ بھارت کے ہندو اور سکھ لیڈروں نے تقسیم ہندکو دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ آزادی کے موقع پر ہندوؤں اور سکھوں نے مشرقی پنجاب کے مسلمان مہاجرین کا قتل عام کیا تھا جس کے ردعمل میں مغربی پنجاب کے مسلمانوں نے بھی ہندو اورسکھ شرنارتھیوں کے قافلے مارڈالے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد بھارتی قیادت کی کوشش رہی تھی کہ وہ پاکستان کو جنگ کے ذریعے فتح کرکے دوبارہ ہندوستان میں ضم کر دے۔ بھارت نے پہلی بڑی کوشش ستمبر 1965ء میں کی تھی۔ اس وقت پاکستان میں مارشل لاء نافذ تھا اور بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان سات برسوں سے اقتدار پر قابض چلے آرہے تھے۔ انہوں نے جنگ کے آغاز میں تو ریڈیو پر بڑی جوشیلی تقریرکی تھی مگر دوہفتے بعد جنگ بندی قبول کر کے بھارت کے ساتھ معاہدہ تاشقند کرنا پڑا تھا۔
بھارتی فوج 1965ء کی جنگ کے دوران سرحد پارکر کے لاہور شہر پر قبضہ کرنا چاہتی تھی مگر ہماری مسلح افواج نے وطن کا دفاع کرتے ہوئے بی آر بی نہرکے پار اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، سرحدی دیہات جلو موڑ، ڈوگرئی، برکی، بھینی، بھسین، باٹا پور کے علاقوں میں سترہ دنوں تک پاک بھارت فوجوں کے مابین معرکے جاری رہے تھے، ڈوگرئی گاؤں (ڈوگرکلاں) میں 7 گھنٹوں پرمشتمل جنگ کا آخری معرکہ ختم ہونے پر فائربندی ہوگئی تھی اور لاہور پرقبضہ کرکے جمخانہ کلب میں فتح کا پیگ پینے کی خواہش دل میں لئے بھارتی فوج کے جرنیل اپنے جوانوں کی لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر پسپائی پر مجبور ہوگئے تھے، بھارتی حکومت نے بعد ازاں بی آر بی نہر پارکرنے میں ناکام رہنے پر اپنی فوج کے ایک میجر جنرل، پانچ بریگیڈئرز اور متعددکرنلز ریٹائرکردیئے تھے۔
”لاہورکی دہلیز پر“ واہگہ بارڈر کے علاقے میں لڑی جانے والی اسی سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کی داستان ہے جسے حکایت ڈائجسٹ اورمکتبہ داستان کے بانی عنایت اللہ مرحوم نے تحریرکیا تھا۔
لاہورکے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے پاک فوج کے تین سو سرفروشوں کی داستان کا زیرنظر ایڈیشن ہماری تیسری کتاب ”لاہور: شہر بے مثال“ کے ناشرگل فراز احمد نے اپنے اشاعتی ادارے علم وعرفان پبلشرز غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہورکے تحت مارچ 2009ء میں شائع کیا تھا اور 212 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت صرف 160روپے رکھی تھی۔ عنایت اللہ نے کتاب کا انتساب فوجی شہداء کے نام کیا تھا اور پیش لفظ بھی خود لکھا تھا۔ انہوں نے کتاب کو جنگی وقائع نگار سے زیادہ نسیم حجازی کے انداز میں تحریرکیا ہے ان کا انداز بیاں پڑھنے والے میں اس قدر جوش و جذبہ بھر دیتا ہے کہ اس کا بے اختیا جی چاہتا ہے کہ وہ اسی وقت اٹھ کر محاذ جنگ پر پہنچ جائے۔ عنایت اللہ غالباََ خود بھی ماضی میں فوجی رہے تھے اور دوسری جنگ عظیم کے دوران برٹش انڈین آرمی کی طرف سے کسی محاذ پرجرمن یا ترک فوج کے خلاف لڑ چکے تھے۔
پاک بھارت جنگ ستمبر 1965ء میں پوری قوم نے جوش وجذبے کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا لاہوریئے تو بھاگ بھاگ کر واہگہ بارڈر کی طرف جاتے تھے جنہیں زبردستی واپس شہر کی طرف بھیج دیا جاتا تھا۔ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں نے بھی قلمی محاذ پر بھرپور حصہ لیا تھا۔ ریڈیو، ٹی وی کیلئے صوفی تبسم، صفدرمیر، رئیس امروہوی، جمیل الدین عالی وغیرہ نے جنگی ترانے اورملی نغمے تخلیق کئے تھے جنہیں گلوکاروں نے گا کر محاذ جنگ پر لڑنے والے فوجیوں اور عوام کا لہوگرمایا تھا۔ انجم رومانی اورعابد حسن منٹوکی زیر صدارت حلقہ ارباب ذوق کے 2 ہفتہ وار جلسوں میں الطاف قریشی، انتظارحسین، صفدرمیر، ذوالفقار احمد اور مبارک احمد نے پاک بھارت جنگ کے موضوع پر اپنے مضامین پیش کئے تھے جبکہ جنگ بندی کے بعد ہونے والے حلقے کے تیسرے اجلاس میں شیر محمد اختر کی زیرصدارت نذیرخواجہ نے ”لاہور“ کے عنوان سے نظم اور پروفیسر جیلانی کامران نے ”لاہورکی گواہی“ کے عنوان سے طویل مضمون پڑھا تھا جسے بعدازاں کتابی صورت میں بھی شائع کیا تھا۔ ان کے علاوہ انجم رومانی، مختار صدیقی اور افتخار جالب نے بھی اپنی نظمیں پیش کی تھیں۔ جنگ کے بعد فوجی صدر جنرل ایوب خان نے لاہور میں ٹاؤن ہال پر ہلال استقلال لہرایا تھا اس موقع پر قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری نے اپنی طویل نظم پڑھی تھی جس کے متعدد اشعارمیں لفظ ”لاہور“ کا ذکر پایا جاتا ہے۔
کتاب ”لاہورکی دہلیز پر“میں میجر راجہ عزیزبھٹی کا ذکر نہیں کیاگیا جو اس جنگ میں لاہورکے محاذ پر برکی سیکٹر میں بی آر بی نہرکے پار بطورکمپنی کمانڈر بھارتی فوج کا مسلسل پانچ روز تک مقابلہ کرنے کے بعد 10 ستمبرکو شہید ہوئے تھے اور انہیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدردیا گیا تھا۔ میجر عزیز بھٹی شہیدکا تعلق 17پنجاب رجمنٹ سے تھا، انہیں بری، بحری اور فضائی تینوں افواج میں کام کرنے کا تجربہ حاصل تھا۔ وہ تقسیم ہند سے قبل جاپانی نیوی میں تین سال لیفٹننٹ اور رائل انڈین ائر فورس میں دوسال کارپورل افسر رہے تھے، آزادی کے چند برس بعد پاک بری فوج میں بطور افسر شمولیت اختیارکر لی تھی۔
عنایت اللہ مرحوم کی کتاب پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ پہلی بڑی پاک بھارت جنگ کا آغاز5 اور 6 ستمبر 1965ء کی درمیانی شب ہوا تھا۔ رات ساڑھے تین بجے واہگہ اٹاری سیکٹر کی چوکیوں پر تعینات رینجرزکو اچانک چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ سنائی دی، اندھیرے کے باعث فائرنگ کو محض معمول کی سرحدی جھڑپ سمجھا گیا پھر انہیں پتا چلا کہ بھارت کی انفنٹری نے حملہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد انہیں ٹینک بھی دکھائی دیئے، رینجرز کے میجرعلم الدین نے فوری طور پر لاہورڈویژن کو ٹیلیفون پر دشمن فوج کے حملے کی اطلاع دی اور کچھ ہی دیر بعد میجر علم الدین رینجرزکے دیگر افسروں اورجوانوں سمیت حملہ آورفوج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ بھارتی فوج کا بریگیڈ 54 سرحدی دیہات بھسین اور باٹا پورپر دو اطراف سے حملہ آورہوا تھا، لاہورکے دفاع پر پاک فوج کا صرف ایک ڈویژن تعینات تھا جس میں کل 7 پلٹنیں تھیں اورہر پلٹن کی نفری تقریباََ سات سو تھی یوں پاک فوج کے 5 ہزارجوان اپنے سے 7 گنا زیادہ حملہ آوروں کے مقابل تھے۔ 16 پنجاب رجمنٹ کی اے اور بی کمپنیوں نے بی آر بی نہر کے پار ڈوگرئی گاؤں سے آگے واہگہ روڈ پر دشمن کو روکا اور جنگ بندی تک اسی علاقے میں بڑی بے جگری سے لڑتی رہی تھیں۔ اے کمپنی کی کمان میجر مبارک علی اور بی کمپنی کی میجر نذیرگل کر رہے تھے دونوں نے شہادت پائی تھی۔
لاہورکے محاذ کی کمان اس وقت میجر جنرل سرفراز خان کے پاس تھی۔ ان کے ساتھ بریگیڈئر آفتاب احمد، بریگیڈئر قیوم شیر،کرنل امداد ملک،کرنل گلزار، میجر امیر افضل خان، میجر اکرم، کیپٹن مظفر اورکیپٹن ناصر نواز جنجوعہ تھے۔ میجر جنرل سرفراز خان نے انڈین آرمی کا لاہور پرقبضے کا ارادہ ناکام بنانے اور اپنے بہادر سپاہیوں کو دشمن کے ٹینکوں کے حملوں سے بچانے کیلئے میجرسرور کو ٹینک سکوارڈن کے ساتھ شالا مار سے محاذ جنگ پر روانہ کیا جنہوں نے باٹا پور کے قریب بی آر بی نہرکے عارضی پل (بیلی برج) کو پار کر کے ڈوگرئی گاؤں سے آگے جا کر دشمن کے چند ٹینکوں کا صفایا کر دیا اور جوابی حملے میں بھارتی ٹینک کا گولہ لگنے سے شہید ہوگئے۔
بی آر بی کے پیچھے نصب رانی توپوں کے گولے بھارتی حملہ آوروں کی پیش قدمی روکتے رہے۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سیبر طیارے بھی اپنی پیدل اور ٹینک بردارفوج کی مددکو پہنچ گئے جن کے پائلٹوں سکوارڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتا، فلائٹ لیفٹننٹ سیف الاعظم، فلائٹ لیفٹننٹ امان اللہ خان، فلائٹ لیفٹننٹ منصورالحسن ہاشمی، فلائٹ لیفٹننٹ سلیم، فلائٹ لیفٹننٹ پرویز، فلائنگ آفیسر آفتاب اور فلائنگ آفیسر قادرنے بھارتی توپخانے پر حملہ کر دیا اور لاہور پرگولے فائرکرنے والی بھارتی توپوں کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے تھے۔
اس دوران پنجاب رجمنٹ، بلوچ رجمنٹ اورفرنٹیئر فورس کے میجر عارف جان، میجرضیاء الدین اپل، میجرخورشید عالم، کیپٹن صغیرحسین، کیپٹن ظہور السلام،کیپٹن مظہر حسین شاہ، لیفٹیننٹ جعفر افتخار، سیکنڈ لیفٹننٹ محمد اختر، صوبیدار غلام رسول، صوبیدار عبدالحمید، صوبیدار حکیم خان، نائب صوبیدار محمد اسلم اور متعدد لانس نائیک اور سپاہی لاہور کی دہلیز پر وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ ان شہداء میں سے کوئی بھی افسر یا جوان لاہورکا رہائشی نہیں تھا، ان میں سے بیشتر بنوں، کوہاٹ، پشاور، ہزارہ، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، میانوالی، اٹک، چکوال، راولپنڈی، جہلم،گجرات، گوجرانوالہ اور آزادکشمیر کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان شہداء کو چھاؤنی کے علاقے میں دفن کیاگیا۔ یہ قبرستان گنج شہیداں کہلاتا ہے جبکہ میدان جنگ میں بھسین گاؤں کے قریب شہید ہونے والے 22 فوجیوں کی بی آر بی نہر کنارے یادگار قائم ہے جس پر لکھا ہوا ہے ”پیارے ہم وطنو! ہم نے اپنا آج آپ کے کل پر قربان کردیا ہے!“

Leave a Reply

Back to top button