کتابیں

لاہور تجھے سلام…… میم سین بٹ

لاہور شہر پر بہت سے لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں جن میں انہوں نے شہر بے مثال کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا ہے لیکن سابق بیوروکریٹ قیصر امین الدین ان سب سے انوکھے ہیں۔ انہوں نے چند برس قبل ”لاہور تجھے سلام“ کے عنوان سے کتاب لکھی تھی جس میں ان کا دعویٰ تو یہی ہے کہ انہیں لاہور سے محبت ہے مگر انہوں نے کتاب میں لاہور اور لاہوریوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان سے تو نفرت ٹپکتی ہے بلکہ اپنی اس نفرت کا باقاعدہ اظہار بھی کر ڈالتے ہیں وہ لکھتے ہیں ”لاہور میں زندگی اس قدر بے رحم، سفاکانہ، غیر منصفانہ، وحشیانہ اور مختصرہے کہ یہاں کوئی حساس انسان ایک دن بھی اطمینان سے نہیں گزار سکتا۔ اس سال میں نے ہر روزکوشش کی کہ اس شہر کو چھوڑکر کہیں اور چلا جاؤں مگر لاہورمجھے کمبل کی طرح چمٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لاہور میں معاشرتی ابتری اور بدامنی کی بڑی وجہ لاہوریوں میں شہری شعور کی کمی ہے۔ یہ کمی اس امرکی عکاسی کرتی ہے کہ لاہور کے باشندے اپنے آپ پر ڈسپلن نافذ کرنے کیلئے تیارنہیں!“
ہمیں لاہور اور لاہوریوں کے بارے میں قیصرامین الدین کے یہ خیالات پڑھ کر بڑی شرمندگی محسوس ہوئی کہ ہمارے آبائی شہر نے یہ کس قسم کا انسان لاہور بھیجا تھا مگر پھر یہ سوچ کر دل کو تسلی ہوئی کہ انہیں سیالکوٹ کی مٹی نے جنم نہیں دیا تھا، قیصر امین الدین بنیادی طور پر ریاست بھوپال کے رہنے والے تھے، یہ مارچ 1949ء میں صرف 9 برس کی عمر میں بھوپال سے خاندان سمیت ہجرت کر کے بمبئی اور کراچی کے راستے لاہور چلے آئے تھے۔ یہاں کرشن نگر میں ان کی خالہ رہتی تھیں ان کا گھرانہ چھ ماہ لاہور میں رہنے کے بعد سیالکوٹ منتقل ہو گیا تھا۔ مرے کالج سے گریجویشن کے بعد انہوں نے دوبارہ لاہور آ کر اسلامیہ کالج سول لائنز سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا اور پھر مانسہرہ کالج میں لیکچرر ہو گئے تھے بعد ازاں پشاور، ایبٹ آباد اورگوجرانوالہ کے کالجوں میں بھی پڑھاتے رہے تھے۔ اسی دوران 1965ء میں ان کی اپنی خالہ زاد سے شادی ہو گئی تھی جو لاہور میں مقیم تھیں۔ یہ 1972ء میں پی سی ایس کا امتحان پاس کر کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بن گئے تھے۔ لاہور اور چشتیاں میں مجسٹریٹ دفعہ 30 کے علاوہ جڑانوالہ، شجاع آباد، ملتان، ساہیوال، گجرات میں اسسٹنٹ کمشنر رہے بلکہ گجرات میں بعدازاں ڈپٹی کمشنر بھی تعینات رہے تھے۔ لاہور میں یہ مجسٹریٹ درجہ اوّل، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو سوسائٹی، ڈائریکٹر ایل ڈی اے، ایڈیشنل ڈائریکٹر پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ایڈیشنل کمشنر (رابطہ)، سیکرٹری وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم اور سیکرٹری کالونیز بورڈ آف ریونیو پنجاب کے عہدوں پرفائز رہے۔ آخر میں ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن) محکمہ خوراک پنجاب کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔
سول سروس سے ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت بری فوج کے سربراہ جنرل پرویزمشرف وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پرقابض ہو چکے تھے جو قیصرامین الدین کی طرح اردو داں ہی نہیں رنگین مزاج بھی تھے۔ قیصر امین الدین ”لاہور تجھے سلام“ میں لکھتے ہیں ”میں ایام جوانی سے ہی رقص و سرود اور پینے پلانے کی محفلوں کا شوقین تھا، یہ محفلیں دوستوں کے گھروں پر برپا ہوتی تھیں، چار پانچ دوست، چار پانچ پیشہ ور جسم فروش عورتیں جو خود بھی شراب پیتی تھیں اور رقص بھی بڑے ماہرانہ اندازمیں کرتی تھیں، جب کوئی خوبصورت لڑکی یا عورت تیز دھنوں والے بھارتی فلمی گانے پر کسی اپسرا کی طرح محورقص ہوتی تو یوں لگتا جیسے پوری کائنات رقص کررہی ہو!“
قیصر امین الدین کو پرانا لاہور بہت زیادہ پسند رہا ہے جبکہ نئے لاہورکو یہ ذہنی طور پر قبول نہیں کرتے۔ ان کی کتاب پڑھ کر لگتا ہے کہ پرانا لاہور بائبلی شہر سڈوم کو بھی پیچھے چھوڑگیا تھا یہ خود لکھتے ہیں ”لاہور تقسیم ہند سے پہلے ایشیا کا پیرس کہلاتا تھا، اس زمانے میں یہاں شراب خانوں، ناچ گھروں، قحبہ خانوں کی تعداد مندروں، مسجدوں گورودواروں اورگرجا گھروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھی کچھ عرصہ لاہور نے اپنی روایات کو برقرار رکھا تھا۔ شراب پینے کو گالی اور عورتوں کے رسیا مردوں کو اچھوت نہیں سمجھا جاتا تھا نہ ہی ایسے لوگوں کو کوڑوں یا جیلوں میں سڑنے کا خوف ہوتا تھا۔ ان دنوں شراب خانوں میں پرمٹ بھی نہیں مانگا جاتا تھا۔ لاہور میں دنیا کے اعلیٰ برانڈکی شرابیں آسانی سے دستیاب تھیں، سرکاری اور نجی محفلوں میں شراب عام استعمال ہوتی تھی، اچھے کلبوں اور ہوٹلوں میں خواتین بھی مردوں کے ساتھ بارمیں بیٹھ کر شراب نوشی کرتی تھیں!“
یہ بھی پڑھیں! لاہور کا چیلسی…… میم سین بٹ
بھٹو دورکو قیصر امین الدین اپنی کتاب میں لاہورکی تاریخ کا سنہری دور قراردیتے ہیں لکھتے ہیں ”منچلوں کیلئے شراب عام دستیاب تھی، روٹی،کپڑا، مکان کی دستیابی کے اس دور میں بھی عورت آسانی سے دستیاب تھی اور جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوتا تھا تو پورے صوبے کی جسم فروش عورتیں لاہور آکر خوب کمائی کرتی تھیں۔ جنرل ضیا نے غریبوں اور نچلے متوسط طبقے سے ان کی تفریح کا تمام سامان چھین لیا تھا۔ نچلے اور متوسط طبقے کے جو افراد شراب پیتے تھے وہ مقررہ معیار سے نیچے اتر آئے تھے، جو ولائتی شراب پیتے تھے وہ پاکستانی شراب پینے لگے تھے اور جو پاکستانی شرابیں پیتے تھے وہ ٹھرے پینے لگے اور بیماریوں میں مبتلا ہو کر مرنے لگے تھے!“
پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں شراب پر پابندی لگاگئے تھے مگر اس قانون پر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں سختی سے عملدرآمد شروع ہوا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ شراب پینے والے زیادہ تر لوگ بھٹو کے حامی تھے اور پیپلز پارٹی کے بانی سابق وزیر اعظم کے بارے میں تو سنا ہے کہ انہوں نے خود بھی کسی جلسے میں اقرارکر لیا تھا کہ وہ شراب پیتے ہیں مگر تھوڑی سی پیتے ہیں۔ ان کی کابینہ کے وزیر مولانا کوثرنیازی کو تو مولانا وہسکی کہا جاتا تھا، جنرل ضیاء نے تو بعض صحافیوں کوکوڑے بھی لگوائے تھے اب پتا نہیں الزام جھوٹا یا سچا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ وہ صحافی بھی پیپلزپارٹی اور بھٹوکے حامی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیا نے یہ سیاسی انتقام لیا تھا۔
قیصرامین الدین شراب بندی پر جنرل ضیا ء الحق کے خلاف ہو گئے تھے کتاب میں لکھتے ہیں ”جنرل ضیا نے سمجھ لیا کہ اگر وہ اپنے قبیلے کو ہی اقتدار کی بنیاد بنا لیں تو کافی ہوگا لہٰذا انہوں نے آرائیں وزراء، مشیروں اور ارکان مجلس شوریٰ کو اس کام پر مامور کر دیا اور شہر شہر،گاؤں گأوں آرائیوں کی مختلف تنظیمیں نہ صرف وجود میں آ گئیں بلکہ فعال بھی ہو گئیں۔ جب ملک بھر میں آرائیں منظم ہونے لگے تو دوسرے قبیلوں نے بھی خودکو منظم کرنا شروع کر دیا تھا۔ جنرل ضیا نے فوجی اور سول ملازمتوں میں آرائیوں کو ہرطرح کی ترجیحات سے نوازا، لاہورکے آرائیں جو سیاسی اور معاشی لحاظ سے پہلے بھی کمزور نہیں تھے۔ ضیا دور میں تو وہ اس قدر طاقتور ہو گئے کہ انہیں شاہی قبیلے کے اراکین کو طور پر پکارا جانے لگا تھا!“
قیصر امین الدین نجانے کیوں آرائیں برادری کے اتنے زیادہ خلاف ہو گئے تھے حالانکہ جنرل ضیا کے دور میں آرائیں برادری کے گڑھ لاہور سے کشمیری برادری کے صنعتکار نوجوان نواز شریف کو پہلے صوبائی وزیر اورپھر وزیر اعلیٰ پنجاب بنایاگیا تھا جو آگے چل کر وزیر اعظم بنے اور تین مرتبہ وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ جنرل ضیا کی کابینہ اور مجلس شوریٰ میں صرف آرائیں نہیں ہر برادری سے تعلق رکھنے والے سیاستدان شامل تھے کیونکہ اقتداربرقرار رکھنے کیلئے سب کو حصہ دینا پڑتا ہے البتہ ہر حکمران کے دور میں اس کی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نمایاں ہوتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی کابینہ کے پانچ ارکان کا تعلق ان کی کشمیری برادری سے تھاا، ن میں خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، اسحاق ڈار، خرم دستگیر خاں اورعابد شیرعلی شامل ہیں، بلکہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں اور ائرچیف طاہر بٹ بھی کشمیری تھے لیکن ان دونوں کو میاں نواز شریف کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے سے پہلے غالباً صدر آصف زرداری نے تعینات کیا تھا۔ میاں نواز شریف نے ماضی میں دوسری مرتبہ وزیر اعظم بن کر لاہور سے تعلق رکھنے والے جنرل خواجہ ضیاء الدین کو آرمی چیف بنایا تھا اور غالباََ لاہور سے سے ہی تعلق رکھنے والے مصحف علی میرکو بھی انہوں نے ہی ائر چیف مقررکیا تھا۔ ان میں سے جنرل خواجہ ضیاء الدین صرف چند گھنٹے آرمی چیف رہ سکے تھے جبکہ ائر چیف مارشل مصحف علی میر جنرل(ر) پرویزمشرف کے دور آمریت میں پراسرار ہوائی حادثے کے دوران جاں بحق ہوگئے تھے۔ مصحف علی میر کے کزن اور برادرنسبتی میجر جنرل حسین مہدی گورنمنٹ کالج لاہور میں نوازشریف کے کلاس فیلو رہے تھے۔
میاں نوازشریف کو قیصرامین الدین سابق صدر جنرل ضیاء الحق کی باقیات قرار دیتے ہیں اور مارشل لاء کا مخالف ہونے کے باوجود جنرل (ر) پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے لکھتے ہیں ”بری فوج کے سربراہ جنرل پرویزمشرف نے بھاری مینڈیٹ پر سوار وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ وہ تمام اختیارات سے محروم ہو کر نظربند ملزم بن گئے۔ ان کا دوراقتدار ختم ہوگیا گویا ایک عذاب ٹل گیا۔ جنرل پرویز مشرف سے قوم نے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور قوم سمجھتی ہے کہ یہ (فوجی) حکومت بہتری کے راستے پرگامزن ہے، شریف برادران کے اقتدار کے خاتمہ سے اب لاہور اور لاہوریوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے!“
یہاں قیصرامین الدین غالباََ جنرل پرویز مشرف کی طرح اردو داں ہونے کی وجہ سے آمرانہ فوجی حکومت کی حمایت کر گئے ہیں۔جنرل مشرف کو چاہیے تھا کہ وہ قیصر امین الدین کو بھی اپنی حکومت میں کوئی اعلیٰ عہدہ دے دیتے، دونوں میں اردو زبان ہی نہیں رنگین مزاجی بھی مشترک تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے آگرہ کے مہاجر خاندان سے تعلق رکھنے والے بینکار شوکت عزیزکو وزیراعظم جبکہ بھوپال کے نواب خاندان کے فرد سابق سیکرٹری خارجہ شہریار خان کوکرکٹ کنٹرول بورڈ کا چئیرمین بنایا تھا۔ قیصر امین الدین زبان کے حوالے سے بڑے متعصب ثابت ہوئے ہیں۔ سیالکوٹ میں دس سال تک مقیم رہنے کے باوجود انہوں نے پنجابی بولنا نہیں سیکھا تھا۔ اپنی کتاب میں خود لکھتے ہیں ”اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں ایم اے کرنے کے دوران میں اردوکے ساتھ انگریزی بھی روانی سے بول لیتا تھا البتہ پنجابی بولنے میں مجھے مشکل پیش آتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں بھوپال سے پنجاب آ کر بھی ہم تینوں بہن بھائی گھر میں ہی نہیں باہر بھی اردو ہی بولتے چلے آئے تھے!“
”لاہور تجھے سلام“میں مصنف نے اپنی طرف سے زندہ دلان لاہورکے شب و روز کی کہانی تحریرکی ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی اپنی ادھوری خودنوشت ہے اور اس کتاب کا عنوان ”راسپوٹین ثانی کی نامکمل آپ بیتی“ہونا چاہیے تھا۔ سرکاری ملازمت کے دوران رنگ رلیوں میں زندگی گزارنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے موقع پرکتاب لکھتے ہوئے قیصر امین الدین خودکو جب بوڑھا محسوس کرتے ہیں تو سچائی اور ڈھٹائی کے ساتھ لکھتے ہیں ”میرے قویٰ مضحمل ہو گئے ہیں، میرے پٹھوں کی گرمی سرد راکھ میں بدلتی جا رہی ہے مگر لاہور چونکہ ابھی جواں ہے اس لئے میں اپنی کسی کمزوری، نااہلی اورکسی محرومی کا اعتراف نہیں کروں گا۔ مجھے 1949ء میں لاہور (کی رنگین دنیا) سے عشق ہوا تھا، اس عشق کی آگ کو میں نے نصف صدی تک جلائے رکھا ہے اب میں کیسے اس آگ کو بجھنے دوں، اس آگ نے مجھے کندن بنایا ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ اور زیادہ بھڑکے۔۔۔۔!“
یہ بھی پڑھیں! یہ ریڈیو لاہور ہے…… میم سین بٹ
قیصرامین الدین کا مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی طور پر ماضی کے لاہور میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے لاہور کو قبول نہیں کرتے۔ دوسرے شہروں اور خاص طور پر دیہات سے نقل مکانی کر کے لاہور آنے والوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے اندرکا سارا زہر باہر نکال کرکتاب کے صفحات پربکھیر دیا ہے۔ لکھتے ہیں ”لاہور کے اصل شہری تو باشعور، صفائی پسند اور پرانی اقدارکے قدر دان ہیں مگر یہ نیا لاہور اب نئے لاہوریوں کا زیادہ اور پرانے لاہوریوں کا کم ہے، نئے لاہوریئے جو ملازمت یا شہری زندگی کا لطف اٹھانے کیلئے اپنے دیہات کے کچے گھروندوں کی جگہ لاہور کی پکی سڑکیں اور زیرزمین سیوریج سسٹم استعمال کرنے لگے ہیں مگر شہری شعور سے محروم ہیں یہ لوگ اپنے احساس کمتری کو چھپانے کیلئے کئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ لاہور میں ان کی اکثریت ہو گئی ہے، ان لوگوں نے لاہورکو بدصورت بنا دیا ہے یہ بدصورت لوگ غلیظ اور قابل نفرت ہیں اور میں ان سے پوری شدت کے ساتھ نفرت کرتا ہوں۔۔۔!“
کتاب کا ابتدائیہ کلیم نشتر نے ”نوحہ روشنیوں کے شہر کا“ اور مقدمہ ڈاکٹر ایم ایس ناز نے ”قیصر امین الدین کا لاہورکو سلام“ کے عنوان سے جبکہ دیباچہ مصنف نے خود تحریرکیا ہے۔ آٹھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب فروری 2002ء میں محمود عاصم نے الحق پبلی کیشنز ایبک روڈ انارکلی لاہور کے زیر اہتمام شائع کی تھی اور اس کے تقسیم کار مکتبہ جمال، حسن مارکیٹ احاطہ مچھلی منڈی اردو بازار لاہورتھے۔ کتاب کے کمپوزر ریاض محمود انجم (گولڈن گریڈ) جبکہ پروف ریڈر ڈاکٹر خالد پرویز ہاشمی تھے، سرورق ذاکر نے بنایا تھا، یہ کتاب گنج بخش پرنٹرزلاہور سے طبع ہوئی تھی اور اب کہیں سے بھی دستیاب نہیں ہے۔

Leave a Reply

Back to top button