کالم

لاہور سے ٹورنٹو تک!

کینیڈا ٹورنٹو میں آج مجھے تیسرا روز ہے۔ پاکستان لاہور سے ٹورنٹو تک کا سفر بہت تکلیف دہ تھا۔ تکلیف دہ کیوں تھا؟ میں اگر نہ بھی بتاﺅں تو آپ سمجھ جائیں گے میری فلائیٹ پی آئی اے کی تھی۔ جس کے خطرات سے میرے کچھ دوستوں نے مجھے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ کینیڈا رخصتی سے ایک روز قبل حسن بھائی (حسن نثار) نے چائے پر مدعو کیا تھا۔ وہ مجھے کینیڈا کے اپنے کچھ دوستوں کے ٹیلی فون نمبرز دینا چاہتے تھے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کونسی ایئر لائن سے جا رہے ہو؟ عرض کیا ”پی آئی اے“ سے تو بولے پھر منیر نیازی کا یہ شعر اچھی طرح یاد کر لینا ”ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو ….ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا“….میرا خیال تھا حکومت تبدیل ہونے کے بعد پی آئی اے کے حالات کچھ بہتر ہوگئے ہوں گے‘ اور اِسی خیال کے تحت اپنی قومی ایئر لائن کو میں نے ترجیح دی تھی۔ سچی بات ہے اور یہ میں اپنے تازہ ترین تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں پی آئی اے کے حالات پہلے سے ابتر ہوگئے ہیں۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے اِسے بھی کسی ”گلوبٹ“ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ منگل30اکتوبر کو صبح ساڑھے دس بجے ہیتھرو لندن کے لئے میری فلائیٹ تھی۔ انٹرنیشنل فلائیٹ کے لئے دو گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنا ہوتا ہے۔ ایف آئی اے یا آئی بی والوں سے تعلقات کے نتیجے میں تو آدھا گھنٹہ پہلے بھی پہنچ جائیں پورے پروٹوکول کے ساتھ جہاز پر آپ کو چڑھا دیا جاتا ہے۔ اور اگر آپ کچھ زیادہ ہی ”وی وی آئی پی“ ہوں تو فلائیٹ کے ایک دو گھنٹے بعد بھی پہنچ جائیں جہاز آپ کے انتظار میں کھڑا رہتا ہے۔ اب صورت کچھ تبدیل ہو رہی ہے جس کا کریڈٹ ظاہر ہے عمران خان کو جاتا ہے۔وی وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے لئے کنٹینر پر چڑھ کر روز جو درس دے رہا ہوتا ہے۔ گزشتہ دِنوں جو کچھ رحمان ملک اور نون لیگ کے ایک ایم این اے کے ساتھ ہوا اُس کے نتیجے میں وی وی آئی پی کلچر کا مکمل خاتمہ نہیں بھی ہوا تو اُس کی ابتداءضرور ہوگئی ہے۔ لاہور ایئرپورٹ پر جب آئی جی بلوچستان کو کوئٹہ کے لئے اُن کی فلائیٹ کے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ایئرپورٹ پر میں نے بیٹھے دیکھا تو خوشی ہوئی اِس ملک کی وی وی آئی پی شخصیات کا شمار بھی ہم جیسے ”کیڑوں مکوڑوں“ میں ہونے لگا ہے۔ ورنہ تو حالات یہ ہوگئے تھے یوں محسوس ہوتا تھا ایسی شخصیات کو جہاز اب اُن کے گھر سے پک کرنے کے لئے آیا کریں گے۔لاہور سے لندن ہیتھرو کی فلائٹ کے مقررہ وقت ساڑھے دس بجے صبح سے پندرہ منٹ پہلے جہاز پر چڑھا دیا گیا تو میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا کہ روایت کے مطابق فلائیٹ لیٹ نہیں ہے۔ جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہی نیند کی گولی میں نے لی اور جہاز کے ٹیک آف کرنے سے پہلے ہی سو گیا۔ سونے سے پہلے میں سوچ رہا تھا اُٹھوں گا تو آدھا سفر طے ہو چکا ہوگا۔ دو گھنٹے بعد مسافروں کے شور سے آنکھ کھلی تو پتہ چلا جہاز تو ابھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ کپتان صاحب حسبِ معمول معذرت کر رہے تھے ”آپریشنل پرابملز“ کی وجہ سے فلائیٹ ”ذرا لیٹ“ ہوگئی۔ یعنی دو گھنٹے کی تاخیر اُن کے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی تھی۔ مسافروں کا صبر جواب دینے لگا تھا۔ ”گو نواز گو“ کی ہلکی ہلکی آوازیں ذرا بلند ہونے لگیں تو جہاز نے ”اڑنا“ شروع کر دیا۔ تھوڑی سی مزید تاخیر ہو جاتی تو ”گو نواز گو“ کے نعروں سے جہاز آسمان پر اُٹھا لیا جاتا۔ مجھے پیاس لگی تو ”بوڑھی ایئر ہوسٹس“ سے پانی کے لئے میں نے گزارش کی‘ ایسے گھور کر اُس نے میری طرف دیکھا جیسے میں نے دودھ مانگ لیا ہو۔ جہاز کے لیٹ ہونے کا تو ہم نے بہت سنا تھا اور اُس کا عملی مظاہرہ آج ایک بار پھر ہم دیکھ رہے تھے ”پانی“ کے لیٹ ہونے کا تجربہ پہلی بار ہوا۔ ایئر ہوسٹس سے ایک بار پھر پانی لانے کی میں نے گزارش کی تو وہ بولی ”سر ابھی تو میں آپ کو پانی دے کر گئی ہوں“۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کوئی ”گملہ“ ہوں جسے وہ ابھی پانی دے کر گئی ہے۔ عرض کیا ”بی بی آپ بھول رہی ہیں کسی اور کو پانی دیا ہوگا“۔ وہ بضد تھی نہیں میں نے آپ کو ہی دیا ہے….اب میںکیا بحث اُس کے ساتھ کرتا۔ عورتوں کے ساتھ بحث کرنا کونسا آسان کام ہوتا ہے۔ سو میں نے درخواست کی چلیں آپ ایک اور گلاس پانی کا مجھے لا دیں۔ میری اِس بات کا وہ شاید برا منا گئی۔ لہٰذا دوران سفر جب بھی میرے قریب سے وہ گزرتی انتہائی معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھتی ”آپ کو پیاس تو نہیں لگی ہوئی؟“ جواباً میں بھی احتیاطاً پانی منگوا کر رکھ لیتا کہ اُس کا کیا پتہ پیاس لگنے پر دوبارہ میرے ساتھ وہ وہی سلوک کرے جو پہلے کر چکی ہے۔ اب ہم اِس انتظار میں تھے کچھ کھانے کو ملے گا۔ بہت دیر بعد تک کھانے کو کچھ نہ ملا تو اُس ایئرہوسٹس سے میں نے کہا ”بی بی کچھ کھانے کو دو میرا ”پانی“ گلے میں پھنسا ہوا ہے“…. مسافروں کو کھانے کے لئے جو ”بریانی“ دی گئی اصل میں وہ ”تڑکے والے چاول“ تھے جس کے ساتھ فراہم کئے جانے والے دہی میں ”زیرے“ کے بجائے کچھ اور ہی لگ رہا تھا۔ خیر کھانے کے بعد زیادہ تر مسافر سوگئے اور میں احتیاطاً جاگتا رہا کہ جہاز کا عملہ بھی اگر سو گیا تو اسے جگانے کے لئے کسی کو تو جاگتے رہنا چاہئے۔ اللہ اللہ کرکے تاخیر سمیت تقریباً گیارہ گھنٹے بعد جہاز ہیتھرو ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تو میری ایئر کینیڈا کی ٹورنٹو کے لئے فلائیٹ میں وقت بہت ہی کم رہ گیا تھا اور مجھے حسن بھائی کی بات یاد آرہی تھی ”ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو ….ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا“….پی آئی اے کا جہاز ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل3پر لینڈ ہوا تھا جبکہ ٹورنٹو کے لئے فلائ
یٹ ٹرمینل2 پر تھی جس کا فاصلہ اُتنا ہی ہے جتنا پاکستان میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا ہوتا ہے۔” فاسٹ ٹریک“ کے ذریعے ایک ”مسافر کوچ“ میں کوئی بیس منٹ کا فاصلہ طے کرکے ایئر کینیڈا کے ”بورڈنگ کاﺅنٹر“ پر پہنچا تو پتہ چلا بورڈنگ بند ہو چکی ہے‘ ایک لمحے کے لئے یوں محسوس ہوا جیسے میرا سانس بند ہوگیا ہو۔ میں نے بہت گزارش کاﺅنٹر پر بیٹھی ہوئی کینیڈین خاتون سے کی کہ فلائیٹ کے مقررہ وقت میں دس منٹ ابھی باقی ہیں بورڈنگ کارڈ جاری کر دیا جائے۔ مگر کوئی اثر میری ”آہ و زاری“ کا اُس پر نہ ہوا۔ واپس ٹرمینل3پر پی آئی اے کے کاﺅنٹر پر پہنچا تو میری حالت سفر کی تھکان سے بری ہو چکی تھی۔ اِس سے پہلے کہ میں باقاعدہ طور پر گر جاتا کاﺅنٹر پر بیٹھے نوجوان نے مجھے حوصلہ دیا۔ میرا پاسپورٹ اور دیگر کاغذات چیک کرنے کے بعد کہنے لگا ”فکر نہ کریں اب آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں کیونکہ میں بھی ”بٹ“ ہوں“….ازرہ مذاق میں نے کہا ”یہ تو زیادہ فکر مندی کی بات ہے “….خیر مجھے تسلی ہوگئی کہ ”کشمیریوں کی نانی سانجھی“ کے فارمولے کے تحت برہان بٹ نامی یہ پڑھا لکھا اور خوش اخلاق نوجوان ضرور میری مدد کرے گا۔ ایسے ہی ہواپی آئی اے کے عملے کے ایک سینئر عہدیدار سے اُس نے رابطہ کیا اور میری اگلی فلائیٹ کا بندوبست کر دیا گیا جو اگلے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے تھی۔ میرا خیال تھا ”پریشانیوں کا سفر“ اب شاید ختم ہونے والا ہے مگر
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
(جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button