کالم

لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات 2020ء…… میم سین بٹ

لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات برائے 2020ء مکمل ہو گئے ہیں اور نتائج کمیونٹی توقع کے مطابق ہی برآمد ہوئے ہیں۔ جرنلسٹ پینل کے امیدوار ارشد انصاری دوبارہ صدر جبکہ پروگریسو پینل (ڈیموکریٹ گروپ کے اتحادی) رائے حسنین طاہر سینئر نائب صدر، جرنلسٹ پینل کے قذافی بٹ نائب صدر، بابر ڈوگر سیکرٹری، حافظ فیض احمد جائنٹ سیکرٹری اور آزاد امیدوار بلکہ جرنلسٹ گروپ کے ہی ”باغی“ امیدوار زاہد شیروانی خزانچی منتخب ہوگئے ہیں۔ پروگرسو گروپ نے بڑے عہدوں میں سے جو اکلوتی نشست حاصل کی وہ بھی اتحادی ڈیموکریٹ گروپ کے قائد رائے حسین طاہرکی ہے، پروگریسو پینل اپنی گزشتہ برس کی جیتی ہوئی سیکرٹری کی نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے، پروگریسو پینل کے امیدوار کمزور ثابت ہوئے ہیں، محسوس ہوتا ہے اس سال بھی ایف بلاک والوں نے انتخابات میں جرنلسٹ گروپ کا ساتھ دیا ہے۔ جرنلسٹ پینل کی جانب سے ایف بلاک سے تعلق رکھنے والے امیدوار عمران شیخ اور طارق مغل کامیاب ہوئے ہیں جبکہ عباداللہ بابر ہار گئے ہیں۔ فیز ٹو کے نمائندے احمد رضا بھی اگر گورننگ باڈی تک محدود رہتے تو میدان سے باہر ہونے کے بجائے باڈی کا دوبارہ حصہ ہوتے، وہ خود کو اپ گریڈکرنے کے چکر میں پڑکر فیز ٹو کے مشن کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بن گئے۔ شاہد چوہدری، حسنین چوہدری اور حسن تیمور جکھڑ جیسے نوجوان پریس کلب میں مستقبل کی قیادت کے طورپر ابھرے ہیں۔

ارشد انصاری، صدر لاہور پریس کلب
ہم پریس کلب کا الیکشن لڑنے والے دونوں روایتی گروپوں میں سے کسی کا کبھی باقاعدہ حصہ نہیں رہے البتہ دونوں گروپوں میں ہمارے قریبی دوست شامل ہیں بلکہ موجودہ انتخابات میں بڑے عہدوں پر جیتنے اور ہارنے والے تقریباََ سبھی امیدوار ہمارے فیس بک فرینڈ ہیں جس کی وجہ سے ہم کسی کی کھل کر حمایت بھی نہیں کر سکے اور پھر گزشتہ برس سے ہم پریس کلب کے لائف ممبر بھی بن چکے ہیں اس لئے صرف ووٹ کاسٹ کرنے تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھتے ہیں تاہم تجزیہ کرتے رہتے ہیں، ارشد انصاری کو اپنے حریف امیدوار زاہد گوگی کے مقابلے میں یہ سبقت حاصل تھی کہ بطور رپورٹر ارشد انصاری پریس کلب کو بہت زیادہ وقت دے سکتے ہیں اور غالباََ سرکاری محکموں سے پریس کلب کے مسائل حل کرانے کیلئے ہی ووٹرز نے انہیں ترجیع دی ہے۔ رائے حسین طاہر دو عشرے پہلے پریس کلب کے سیکرٹری رہ چکے ہیں لیکن چینلز سے منسلک رہنے اور ٹی وی پروگرام کرنے کے باعث نئے ووٹرز بھی ان کی کرشماتی اور جرأت مند شخصیت سے واقف تھے پھر ان کا اپنا دھڑا بھی مضبوط تھا اور پروگریسو گروپ کے ساتھ اتحاد نے تو سونے پر سہاگے کا کام کر دیا۔ سینئر نائب صدر کے عہدے پر رائے حسنین طاہرکے حریف سابق سیکرٹری افضال طالب اگر تیسرے امیدوار یوسف رضا عباسی کے 84 اور مسترد 74 وٹ بھی حاصل کر لیتے تو رائے حسنین طاہر کے مقابلے میں نہیں جیت سکتے تھے تاہم وہ اگر جرنلسٹ پینل سے ہی نائب صدر کے امیدوار ہوتے تو دوبارہ کامیاب ہو سکتے تھے۔
بابر ڈوگر، سیکرٹری لاہور پریس کلب
قذافی بٹ کی نائب صدر کے عہدے پر کامیابی حیرت ناک ہے کیونکہ وہ بھی شہزاد حسین بٹ جیسا مزاج رکھتے ہیں اور ووٹرز کے ساتھ گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے۔ سلمان قریشی باغی بننے کے بجائے اگر اس بار بھی ممبر گورننگ باڈی کے عہدے پر امیدوار ہوتے تو یقیناََ کامیاب ہو جاتے، ان کے 446 ووٹ بھی قذافی بٹ کے مقابلے میں سید شعیب الدین چاچوکو فائدہ نہیں پہنچا سکے۔ سابق سیکرٹری سید شعیب الدین نے تقریباَ ڈیڑھ عشرے بعد نائب صدر کے عہدے پر پریس کلب کا الیکشن لڑا ہے۔ ان کے میدان سے باہر رہنے کے دوران پریس کلب کی چار مرتبہ ممبرز شپ ہوئی تھی اور تقریباََ دو ہزار ووٹرز کیلئے سید شعیب الدین بطور امیدوار اجنبی تھے۔ نائب صدر کے عہدے پر پروگریسو گروپ کے ہی ظہیراحمد بابر اور ڈیموکریٹ گروپ کے ستار چوہدری کے علاوہ ترجمان شیرافضل بٹ نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے لیکن بعدازاں تینوں نے ”بغاوت“ ترک کر دی تھی۔ ظہیر احمد بابر اور شیرافضل بٹ نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے تھے مگر ستار چوہدری نے غالباََ کمپنی کی مشہوری کیلئے آخری مرحلے میں ریٹائر ہونا پسندکیا تھا۔ امید ہے اگلی مرتبہ وہ ہیٹ ٹرک کرنے کے بجائے حاضر سروس ہی رہیں گے۔
جائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر حافظ فیض احمد نے رانا محمد اکرام کو شکست دی ہے، رانا اکرام کو گورننگ باڈی کے سوا بڑے عہدے پر امیدوار بننا راس نہیں آتا اور پھر حافظ فیض احمد بھی پہلے پروگریسو گروپ کا حصہ رہ چکے ہیں بلکہ وہ پروگریسو پینل کے ممبرگورننگ باڈی بھی رہ چکے ہیں، خزانچی کی نشست پر جرنلسٹ گروپ کے باغی زاہد شیروانی نے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہو کر نیا ہی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ان کی اس کامیابی میں فیلوشپ گروپ کے قائد فواد بشارت اور ان کے ساتھیوں ناصر بٹ، آغا عمیر ناصر وغیرہ کی محنت کا بھی اہم کردارہے۔ زاہد شیروانی نے بیک وقت جرنلسٹ گروپ کے اتحادی امیدوار نعیم حنیف اور پروگریسو گروپ کے اتحادی امیدوار اعجاز منظورکھوکھرکو شکست دی ہے۔ گورننگ باڈی پر شاہد چوہدری، عمران شیخ، حسن تیمور جکھڑ اور حسنین چوہدری دوبارہ کامیاب ہوئے ہیں۔ فرقان الہیٰ بھی ماضی میں پریس کلب کے ممبر گورننگ باڈی رہ چکے ہیں جبکہ گزشتہ برس کی کلب باڈی کے ارکان گورننگ باڈی میں سے قاسم رضا اور رانا طاہر اس بار اپنا اعزاز برقرار نہیں رکھ سکے۔ ہارنے والوں میں مبشرحسن بھی ماضی میں ممبرگورننگ باڈی رہے ہیں۔
ان انتخابات میں پہلی بار جیتنے والوں میں دیبا مرزا، طارق مغل، محی الدین اور امجد فاروق کلو شامل ہیں۔ ان میں سے طارق مغل جرنلسٹ پینل، دیبا مرزا آزاد اور باقی دونوں پروگریسو پینل کے امیدوار تھے۔ طارق مغل ایف بلاک کے علاوہ میڈم ناصرہ عتیق کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ دیبا مرزا نے ریکارڈ ووٹ حاصل کئے ہیں اورعمران شیخ جیسے سدا بہار امیدوار کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ دراصل دونوں پینلز نے اس مرتبہ کسی خاتون کو امیدوار نہیں بنایا تھا اور اعجاز حفیظ خان جیسے حقوق نسواں کے خود خواتین سے بھی زیادہ حامی دانشور کالم نگار صحافیوں نے دیبا مرزاکی خود انتخابی مہم چلائی اور اپنے حلقہ احباب سے دیبا مرزا کو ووٹ ڈلوائے۔ ہمارے سابق ایڈیٹر نعیم مصطفےٰ نے بھی اپنے ادارے سے تعلق رکھنے والی خاتون امیدوار دیبا مرزا کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
عباداللہ بابر بٹ ماضی میں مخالفین کے ساتھ جو سلوک کرتے رہے تھے اس بار امیدوار بن کر وہ خود بھی اسی سلوک کا نشانہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامی کم اور مخالف زیادہ پیدا کر رکھے ہیں۔ بابا مزمل گجر کے امیدوار میاں علی افضل، بابا طارق کامران کے امیدوار عرفان سلیم اور فواد بشارت کے امیدوار عمر بابر بھی اس مرتبہ تو کامیاب نہیں ہو سکے تاہم اسد عباس جعفری نے 500 سے زائد اور قاسم رضا، مبشرحسن، ندیم شیخ، رانا وحید حسن نے 500 سے کم جبکہ میاں علی افضل، عرفان سلیم، عباداللہ بابر بٹ، رانا طاہر اشفاق، سبطین علی اور عاصم امین نے 400 سے کم ووٹ حاصل کئے ہیں۔ یاسین مغل، عمر بابر، ذیشان گیلانی، شہباز کاظمی، غضنفراعوان، محمد علی میو، شہزاد ملک، شہزاد عاطف، فیضان وڑائچ اور جہانزیب چٹھہ نے بھی اس مرتبہ ووٹرزکو اپنا تعارف کروادیا ہے، محسن اکرم بھی اگر ریٹائرنہ ہو جاتے تو اچھے ووٹ حاصل کر لیتے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button