کتابیں

لاہور کا چیلسی…… میم سین بٹ

’لاہورکا چیلسی‘ حکیم احمد شجاع کی اپنے آبائی محلے بھاٹی دروازے کے حوالے سے تحریر کردہ کتاب ہے۔ وہ مترجم، افسانہ نویس، فلم نگار، شاعر، صدا کار اور ڈرامہ نگار تھے۔ انہیں آغا حشر کاشمیری کی شاگردی کا اعزاز حاصل تھا۔ حکیم احمد شجاع کو بمبئی اور کلکتہ کی تھیٹریکل کمپنیوں کے مالکان سے آغا حشر کاشمیری نے ہی متعارف کروایا تھا، نیو تھیٹرزکمپنی کلکتہ کیلئے تیارکردہ کے ایل سہگل کی فلم ”کاروان حیات“کی کہانی حکیم احمد شجاع نے ہی لکھی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پریم یاترا، دھن وان، دو عورتیں، آنسوؤں کی دنیا نامی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔ حکیم احمد شجاع لاہور میں بھاٹی دروازے بازار حکیماں کے مشہور خاندان میں پیدا ہوئے، سینٹرل ماڈل سکول، گورنمنٹ کالج لاہور، میرٹھ کالج اور ایم اے اوکالج علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی۔ نواب آف بھوپال سر حمید اللہ خان، سابق گورنر جنرل پاکستان ملک غلام محمد اور سابق پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور ملک عمر حیات علی گڑھ کالج میں ان کے ہم جماعت رہے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کچھ عرصہ میرٹھ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے لاہور آکر پنجاب اسمبلی میں ملازمت کر لی اور سیکرٹری اسمبلی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں! یہ ریڈیو لاہور ہے…… میم سین بٹ
حکیم احمد شجاع کے پردادا حکیم عبداللہ انصاری تھے جن کی بھتیجی چونیاں کے فقیر سید غلام محی الدین سے بیاہی گئی تھی جن سے تین بیٹے فقیر سید عزیز الدین، فقیر سید امام الدین اور فقیر سید نورالدین پیدا ہوئے۔ یہ تینوں بھائی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں مختلف عہدوں پر فائز رہے تھے۔ فقیر سید امام الدین امرتسر میں قلعہ گوبند گڑھ (اسلحہ ڈپو) کے انچارج اور حکیم احمد شجاع کے پھوپھا تھے۔ حکیم احمد شجاع اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے جبکہ ان کی آٹھ بہنیں تھیں، بیرسٹر حکیم امین الدین اور سر مراتب علی شاہ ان کے بہنوئی تھے، سرمراتب علی شاہ سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن ایم پی اے کے نانا تھے۔ حکیم احمد شجاع کی دوسری بہنوں کی شادی پاکپتن، دیپالپور، پیر کوٹ اور مصطفٰی آباد کے سجادہ نشین خاندانوں میں ہوئی تھی، سید افضل حیدر ان کے بھانجے ہیں جبکہ معروف فلمساز وہدایت کار انورکمال پاشا حکیم احمد شجاع کے اکلوتے صاحبزادے تھے۔ حکیم احمد شجاع کی ایک صاحبزادی خورشید جہاں آراء کی شادی سابق وزیراعلیٰ پنجاب سر سکندرحیات کے صاحبزادے سردارعظمت حیات سے ہوئی تھی، حکیم احمد شجاع کے پوتے اور انور کمال پاشا کے صاحبزادے محمد کمال پاشا معروف فلمی کہانی نویس ہیں۔
چیلسی لندن کے مضافات میں دریائے ٹیمزکے کنارے ایک قدیم علاقے کا نام ہے جہاں کے رہنے والے علم و ادب اور فن و ثقافت کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے جن میں سر ٹامس مور، ٹامس کارلائل، جارج ایلیٹ، لی ہنٹ، آسکر وائلڈ، ہنری جیمز، ایلن ٹیری، جن مارلے سوفٹ رسکن، آگسٹن جان، مائیکل ریڈ گریو، برٹرینڈرسل اور جان آئر لینڈ جیسے ادیب، شاعر، مصور، فنکار، موسیقار اور گلوکار شامل تھے۔ ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی نے یکم جون 1964ء کو بی بی سی پر چیلسی کے عنوان سے فیچر نما ایک مقالہ نشر کیا تھا جس کے بعد بسلسلہ ملازمت لاہور میں مقیم رہنے والے ان کے ایک انگریز دوست نے جب ان سے پوچھا کہ راوی کنارے لاہور کا کون سا محلہ چیلسی کہلایا جا سکتا ہے تو ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی نے بھاٹی دروازے کا نام لیا تھا۔ بعد ازاں ان کے اصرار پر حکیم احمد شجاع نے ”لاہورکا چیلسی“ کے عنوان سے مختصرکتاب تحریرکی تھی وہ خود بھی بھاٹی گیٹ کے قدیم خاندان کے فرد تھے، علامہ اقبال اپنے دوست احباب کے ساتھ بازار حکیماں میں ان کے چچیرے بھائیوں بیرسٹر حکیم امین الدین اور حکیم شہباز دین کی بیٹھک پر محفل جمایا کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں اندرون بھاٹی دروازے مقیم رہنے والی معروف علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی شخصیات مین مولانا محمد حسین آزاد، مولوی سید ممتاز علی، علامہ اقبال، سر شیخ عبدالقادر، چوہدری شہاب الدین، مرزا سلطان احمد بیگ، حکیم امین الدین، فقیر سید وحیدالدین، میر ناظر حسین ناظم لکھنوی، مولوی عبدالحکیم کلانوری، مولوی فیض الحسن سہارنپوری، مفتی عبداللہ ٹونکی، مولانا غلام مرشد، جج سید محمد لطیف، مولوی احمد دین وکیل، شیخ گلاب دین وکیل، سید محمد شاہ وکیل، بیرسٹر خواجہ فیروزالدین، بیرسٹر میراں بخش، ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر الہٰ دین، ڈاکٹر ہیرا لال، ڈاکٹر دولت رام، حکیم حسام الدین، حکیم شجاع الدین، حکیم شہباز دین، خلیفہ نظام الدین، خواجہ رحیم بخش، خواجہ کریم بخش، خواجہ امیر بخش، حسین بخش پہلوان، محمد حسن پہلوان، آغا حشر کاشمیری، غلام عباس، اے آر کاردار، خواجہ خورشید انور، گلوکار محمد رفیع، سید امتیاز علی تاج اور مرزا محمد سعید وغیرہ شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں! لاہور کے لامتناہی قصے…… میم سین بٹ
کتاب میں حکیم احمد شجاع بتاتے ہیں کہ منشی احمد حسن خاں نے ادبی رسالہ شور محشر (1895ء)، سر شیخ عبدالقادر نے مخزن (1901ء)، حکیم احمد شجاع نے ہزار داستان (1919ء) اور محمد طفیل نے نقوش (1948ء) بھاٹی دروازے سے ہی جاری کئے تھے۔ گورنمنٹ کالج، اسلامیہ کالج اور دیال سنگھ کالج کے جو پروفیسر بھاٹی دروازے میں مقیم رہے تھے ان میں مولوی فیض الحسن سہارنپوری، مولوی عبدالحکیم کلانوری، مولوی محمد شفیع، مفتی عبداللہ ٹونکی، سر چوہدری شہاب الدین، علامہ تاجور نجیب آبادی اور مرزا محمد سعید وغیرہ شامل تھے۔
حکیم احمد شجاع اورئینٹل کالج کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اسے انجمن پنجاب نے1865ء کے بعد پہلے ہیرا منڈی کے علاقے میں مزار نو گزا کے سامنے سکھشا سبھاکے پاٹھ شالہ میں اورئینٹل سکول کے طور پر قائم کیا تھا اور ہندی، سنسکرت، کے ساتھ اردو، عربی اور فارسی کی تعلیم کا بھی اضافہ کر دیا گیا تھا۔ اس پاٹھ شالہ کے مقام پر بعد ازاں بلدیہ لاہور کا ہسپتال بنا دیا گیا تھا۔ اس کے بالمقابل حویلی راجہ دھیان سنگھ میں انگریزوں نے سب سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور قائم کیا تھا، اورئینٹل سکول کو 1872ء میں کالج کا درجہ دے دیا گیا اور پھر کچھ عرصہ بعد اسے ہیرا منڈی کے علاقے سے اندرون لوہاری دروازے حویلی کھڑک سنگھ میں منتقل کر دیا گیا۔ اگلے سال کالج کو انارکلی کے اندر کرائے کی عمارت میں رکھنے کے بعد 1876ء میں گورنمنٹ کالج (اب جی سی یونیورسٹی) کی موجودہ عمارت مین منتقل کر دیا گیا، پھر 1912ء میں اورئینٹل کالج موجودہ عمارت سے متصل کانونٹ کی بلڈنگ میں منتقل کیا گیا تھا۔
بڑے سائزکے 80 صفحات پر مشتمل حکیم احمد شجاع کی یہ کتاب پیکجز لمیٹڈ کے زیر اہتمام سید بابر علی نے دسمبر 1988ء میں شائع کی تھی۔ اس کی کتابت خوش نویس شیر زمان نے کی تھی جبکہ سرورق مرتضےٰ احمد قریشی نے تیار کیا تھا۔ اس کا ابتدائیہ ڈاکٹر محمد اجمل نے تحریر کیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میرے دوست عاشق حسین بٹالوی نے بھاٹی گیٹ کو لاہور کا چیلسی بنا دیا ہے اگر استعارے کو الٹ دیا جائے تو چیلسی لندن کا بھاٹی گیٹ ہے، البتہ دونوں میں مماثلت بہت ہے جو اکابر اصحاب قلم اور ارباب ذوق بھاٹی گیٹ میں رہے ہیں ان کی داستان حکیم احمد شجاع نے اپنی اس کتاب میں بیان کر دی ہے۔ لاہورکا یہ حصہ اپنے علمی اور ادبی ہنگاموں کی وجہ سے مشہور تھا انہیں ہنگاموں سے ہمارے لئے ادب کا مزاج بنا ہے اور انہی صحبتوں سے ہمارے مزاج میں نئے ادب کا احترام اور حساسیت پید اہوئی ہے“۔

Leave a Reply

Back to top button