کتابیں

لاہور کی ٹھنڈی سڑک…… میم سین بٹ

لاہور پر کتابیں لکھنے والے صرف چند مصنفین کو شہر بے مثال کا جم پل قرار دیا جا سکتا ہے ان میں سید محمد لطیف،حکیم احمد شجاع،عبداللہ ملک،یونس ادیب، طاہر لاہوری، انیس ناگی،مجید شیخ،ڈاکٹر اعجاز انور، ممتاز راشد اورنعیم مرتضےٰ وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں، بیشتر لکھاریوں نے باہر سے آکر لاہور شہرپر کتابیں لکھی تھیں جن میں کنہیا لال ہندی، ایچ آر گولڈنگ،ای تھارنٹن،محمد دین فوق،ایف ای چوہدری، اے حمید، عطاء الحق قاسمی،ابوالحسن نغمی، قیصر امین الدین،زاہد عکاسی،ڈاکٹر علی محمد خان، ڈاکٹر اختر شمار، ڈاکٹر غافرشہزاد، راؤجاوید اقبال اور راقم الحروف بھی شامل ہیں،کچھ ہندو شرنارتھیوں نے تقسیم ہند پر بھارت جا کر لاہور شہر پر کتابیں تحریر کی تھیں ان میں گوپال متل، سوم آنند، سنتوش کمار اور پران نوائل کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں،خوشونت سنگھ کی پاپ بیتی کا بھی اچھا خاصا حصہ لاہور کی یادداشتوں پر مشتمل ہے، معروف محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر اسد سلیم شیخ لاہور شہر کے حوالے سے کتاب لکھنے والوں میں سب سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے پنجاب کے تاریخی قصبے پنڈی بھٹیاں میں مقیم رہتے ہوئے سیاح کے طور پر لاہور شہر کی مرکزی شاہراہ مال روڈ کو بنیاد بنا کر انگریز دور سے اب تک کی اہم تاریخ اور جغرافیے کو قلمبند کردیاہے، انہیں علمی و تحقیقی خدمات پر صدارتی ایوارڈ ”اعزاز فضیلت“ مل چکا ہے۔پروفیسر اسد سلیم شیخ اور پنڈی بھٹیاں لازم و ملزوم ہیں ہم سمجھتے رہے تھے کہ پنڈی بھٹیاں میں صرف بھٹی قبیلے کے لوگ ہی رہتے ہونگے اور پروفیسر اسد سلیم شیخ غالباََ بسلسلہ ملازمت وہاں رہتے ہوں گے مگر پھر پتا چلا کہ وہ پنڈی بھٹیاں میں ہی پیدا ہوئے،وہیں پلے بڑھے،پرھے لکھے،اسی شہر کے سرکاری کالج میں لیکچرر ہوئے، اسسٹنٹ پروفیسر بنے، وائس پرنسپل ہوئے اور اپنے آبائی شہر کے ڈگری کالج میں ہی اب ایسوسی ایٹ پروفیسر ہو کر پرنسپل کا عہدہ سنبھال چکے ہیں غالباََ مستقبل میں پنڈی بھٹیاں کالج سے ہی ریٹائر ہونا پسند کرینگے۔
کتاب کے پس سرورق پر تعارف پڑھ کرانکشاف ہوا کہ پروفیسر اسد سلیم شیخ لاہور میں بھی زیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ گورنمنٹ کالج (اب یونیورسٹی) سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا تھا،لیکچرر کے طور پر ملکوال اور دیگر شہروں میں بھی تعینات رہے تھے، پنڈی بھٹیاں کے علاوہ چنیوٹ اور شاہکوٹ بھی ان کے پسندیدہ شہر قرار دیئے جا سکتے ہیں،پنڈی بھٹیاں ان کی ددھیال جبکہ چنیوٹ ان کی ننھیال اور شاہکوٹ سسرال ہے ان کی نصف درجن سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور تمام کتابیں انہوں نے پنڈی بھٹیاں میں مقیم رہ کر لکھی ہیں ان کی تحقیقی کتابوں میں حاکمان پنجاب،انسائیکلو پیڈیا تحریک پاکستان، نواب سعداللہ خان، دلے دی بار،وسیب، کچھ سفر بھولتے نہیں اور ٹھنڈی سڑک وغیرہ شامل ہیں ان کی کتاب ”حاکمان پنجاب“ ہم نے برسوں قبل لاہور پریس کلب کی لائبریری سے جاری کروا کر پڑھی تھی اس وقت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کتاب کے مولف سے برسوں بعد لاہور پریس کلب میں ہی ہماری پہلی ملاقات بلکہ چند برس قبل مئی کے دوران پریس کلب کی لائبریری میں ہی ان کے ساتھ مختصر نشست بھی ہوگی،ہم نے اپنی کتاب ”لاہور۔شہر بے مثال“ لکھنے سے پہلے اس موضوع پر چھپنے والی بیشتر کتابیں پڑھ لی تھیں مگر پروفیسر اسد سلیم شیخ کی کتاب ’ٹھنڈی سڑک“ نہیں پڑھ سکے تھے کیونکہ یہ ہماری کتاب چھپنے کے دوسال بعد شائع ہوئی تھی اور پھر اس کے عنوان میں بھی ”لاہور“ کا لفظ شامل نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کئی ماہ تک پتا ہی نہ چلا تھا کہ یہ کتاب لاہور شہر کے بارے میں ہے۔ ہم اسے بھی منٹو کے افسانے”ٹھنڈا گوشت“ ٹائپ کی کوئی کتاب سمجھتے رہے تھے تاہم روزنامہ دنیا میں اس کی قسط وار اشاعت سے انکشاف ہوا تھا کہ ”ٹھنڈی سڑک“ کے عنوان سے چھپنے والی اس کتاب میں دراصل لاہور کی مال روڈ کا تاریخی، ثقافتی،سیاسی اور ادبی منظر نامہ بیان کیا گیا ہے۔
چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب فکشن ہاؤس کے مالک ناشر ظہور احمد خان نے گزشتہ برس بک سٹریٹ مزنگ روڈ لاہور سے شائع کی تھی اور اس کی قیمت 900 روپے رکھی تھی،اس میں لاہور کی مختلف عمارتوں کی 64 رنگین اور 60 بلیک اینڈ وہائٹ نایاب تصویریں بھی شامل کی گئی ہیں،کتاب کا انتساب مال روڈ کی تاریخی عمارات پر بسیرا کرنے والے کبوتروں کے نام کیا گیا ہے جبکہ پیش لفظ پروفیسر اسد سلیم شیخ نے خود تحریر کیا ہے جس میں وہ کتاب کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس کی تکمیل کیلئے انہیں خود مال روڈ پر کئی سفر کرنا پڑے اس کی قدیم و جدید عمارتوں میں جھانکنا پڑا،اس سفر میں ان کا ایم اصغر چشتی نے سب سے زیادہ ساتھ دیا وہ اکثر ان کے ہم سفر رہے ان کے علاوہ محمد بشیر دیوانہ،ناصر محمود،محمد علی انجم اور اعظم توقیر بھی ساتھ دیتے رہے،محقق اور دانشور احمد سلیم،پروفیسر احمد سعید اور ڈاکٹر امجد علی بھٹی بھی ان کا حوصہ بڑھاتے رہے پروفیسراحمد سعید تو ہر ہفتے ہر ہفتے دو ہفتے بعد پوچھتے ”ٹھنڈی سڑک“کہاں تک پہنچی؟ پروفیسر اسد سلیم شیخ کتاب کے پیش لفظ کا اختتام ان الفاظ پر کرتے ہیں ”میں ان تمام احباب کے تعاون اور پیار کیلئے شکرگزار ہوں آپ(قارئین) ٹھنڈی سڑک پر کتنی راحت اور سرورمحسوس کرتے ہیں یہ آپکے ذوق پر منحصر ہے!“
یہ بھی پڑھیں! مٹتا ہوا لاہور…… میم سین بٹ
پروفیسر اسد سلیم شیخ اپنی کتاب ”ٹھنڈی سڑک“(مال روڈ) میں بتاتے ہیں ”میں کالج (جی سی) میں داخل ہونے کیلئے لاہور گیا تھا اور داخلے کیلئے تصاویر ضروری تھیں،تصویر بنوانے کیلئے میں پہلی مرتبہ ”مال روڈ“ پر گیا اور ”سینڈی رولو“ سے تصویر بنوائی یہ تصویر کیا بنی پوری مال روڈ ہی میرے ذہن میں نقش ہو گئی،میں جب تک گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا رہا ہر رات ہوسٹل سے کھانا کھانے کے بعد مال روڈ پر چہل قدمی کرتا رہا، سرخ و سفید عمارات،ان پر پھڑپھڑاتے ہوئے کبوتر،دکانوں کے اندر آتے جاتے خوبصورت چہرے، ان دنوں بیل باٹم یعنی کھلے پاجاموں اور اونچی قمیضوں کا رواج تھا،لڑکے زیادہ تر لمبے اور گھنے بال رکھتے تھے، مال روڈ کا یہ ماحول اگلے کئی سال تک مجھے اپنی طرف کھینچتا رہا اس لئے جب تک میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا رہا اس وقت تک ہر رات ہوسٹل سے کھانا کھا نے کے بعد اس پر چلتا رہا میں نے اپنی طالب علمی کازمانہ اسی مال روڈ کے ارد گرد ہی گزارا تھا!“، پروفیسر اسد سلیم شیخ ”مال روڈ کا ارتقائی سفر“ کے عنوان سے باب میں انگریز افسر اور محقق کرنل ایچ آر گولڈنگ(گولڈنگ روڈ) کی کتاب ”اولڈ لاہور“ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مال روڈکوسول انجینئرکرنل نپیئر (نپیئرروڈ) نے 52۔1851ء میں بنایاتھا اسے فوجی مقاصد کیلئے تعمیر کیا گیا تھاکیونکہ انارکلی سے فوجی چھاؤنی کومیاں میر کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا تھا، آغاز میں مال روڈ کی چوڑائی کم تھی بعدازاں چیف انجینئر مسٹر ڈی سمتھ نے مال روڈ کی تعمیرنو کے دوران اس کی چوڑائی میں اضافہ کردیا تھا، پہلے بھاٹی گیٹ سے چوبرجی تک تعمیر کی جانے والی سڑک مال روڈ کہلاتی تھی اور موجودہ مال روڈ لارنس روڈ کہلاتی تھی بعدازاں پرانی مال روڈ کو لوئر مال کا نام دے کر ٹاؤن ہال سے میاں میر پل تک بنائی جانے والی اس شاہراہ کو مال روڈ قرار دیدیا گیا تھا آزادی کے بعد مال روڈ کو شاہراہ قائداعظم کا سرکاری نام دیدیا گیا تھا مگرلاہوریئے اب بھی اسے مال روڈ کے ابتدائی نام سے ہی لکھتے اورپکارتے ہیں!“
مال روڈ پر پائی جانے والی عمارتوں کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر اسد سلیم شیخ نے کتاب میں لکھا ہے کہ 1864 ء میں صنعتی و زرعی نمائش کے بعد ٹولنٹن مارکیٹ (اولڈ) کی عمارت وجود میں آئی تھی جبکہ 1866 ء میں پنجاب چیف کورٹ (موجودہ ہائی کورٹ) وجود میں آئی تو اس کا دفتر مال روڈ پر مقبرہ شاہ چراغ کے ساتھ قائم ہوا!“یہاں ہم تھوڑی سی تصحیح کردیں پنجاب چیف کورٹ کی پہلی عمارت ضلع کچہری و ایوان عدل کے عقب میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی وجہ سے وہ سڑک اب تک کورٹ سٹریٹ کہلاتی ہے، پنجاب چیف کورٹ کو بعدازاں غالباََ 1920 ء کی دہائی کے وسط میں مال روڈوالی نئی عمارت میں منتقل کیا گیا تھااور1900ء میں پنجاب چیف کورٹ کو لاہور ہائیکورٹ کا نام دے دیا گیا تھا اسی طرح پنجاب اسمبلی کی عمارت کے بارے میں لکھتے ہوئے بھی مصنف اس کا ماضی فراموش کر گئے ہیں،پنجاب اسمبلی پہلے پنجاب لیجسلیٹو کونسل کہلاتی رہی تھی اور اس کے اجلاس آغاز میں سول سیکرٹریٹ کے اندر ہال میں ہوتے رہے تھے اس زمانے(1920ء کے عشرے) میں علامہ اقبال بھی پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ممبر یعنی”ایم پی اے“ رہے تھے،پروفیسر اسد سلیم شیخ نے کافی ہاؤس کو بھی کتاب میں ”کافی شاپ“قرار دیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب کافی شاپ بند ہوگئی تو اس کی جگہ پاک ٹی ہاؤس نے لے لی تھی!“ حالانکہ کافی ہاؤس اور پاک ٹی ہاؤس دونوں میں بیک وقت ادیب، شاعر،صحافی دانشور بیٹھا کرتے تھے،ناصر کاظمی ان میں سرفہرست تھے،کافی ہاؤس میں زیادہ تر وکلاء اور صحافی دانشور جبکہ پاک ٹی ہاؤس میں ادیب، شاعر،نقاد،دانشور نشست جمایا کرتے تھے، پروفیسر اسد سلیم شیخ نے کافی ہاؤس کے بارے میں لکھا ہے کہ آزادی سے قبل اسے انڈین کافی شاپ اور تقسیم ہند کے بعد پاک کافی شاپ کہا جاتا تھا!“ حالانکہ پہلے یہ غالباََ زیلن کافی ہاؤس اور قیام پاکستان کے بعد صرف ”کافی ہاؤس“ کہلاتا رہا تھا تاہم پروفیسر اسد سلیم شیخ اگلے صفحات میں کافی شاپ کی بجائے اسے کافی ہاؤس ہی لکھتے ہیں مگر ساتھ ”انڈین“ کالفظ لگا دیتے ہیں حالانکہ یہ کبھی بھی انڈین کافی ہاؤس نہیں کہلایا تھا۔
ٹھنڈی سڑک (مال روڈ) کی بتدریج ترقی کا خوبصورت انداز میں ذکر کرتے ہوئے پروفیسر اسد سلیم شیخ کتاب میں لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی عیسوی کا سورج غروب ہونے تک مال روڈ نے تاریخی حیثیت حاصل کرلی تھی۔ محض عمارات کی وجہ سے نہیں اپنے ماحول اور ثقافت کی وجہ سے بھی کئی کاروباری دکانیں بھی وجود میں آ گئی تھیں،بیسویں صدی عیسوی کاسورج طلوع ہونے تک مال روڈ اپنی خوبصورت عمارات اور پرسکون ثقافتی و تعلیمی ماحول کی وجہ سے بہت اہمیت اختیار کر گئی تھی، آزادی سے کچھ برس پہلے مال روڈ مکمل سماجی ماحول سے بھرپور شاہراہ کا روپ دھار چکی تھی،تاریخی عمارات،تجارتی مراکز، جگہ جگہ جھولتے ہوئے سرسبز درخت، صاف ستھرا ماحول،قدیم و جدید ریستوران،باغات، کلب،عبادت گاہیں،درس گاہیں سب کچھ اس پر موجود تھا،قیام پاکستان کے شروع دنوں میں مال روڈ کا منظر عجیب و غریب رہا ان دنوں مال روڈ شام ہی سے ویران نظر آنے لگی بڑے بڑے کلب اور اچھے اچھے ریستوراں بھی خالی خالی نظر آتے ان میں سے کئی تو بند ہی ہوگئے اور جو باقی بچے وہ گاہکوں کی راہ تکتے تھے،لاہور سے ہندو،سکھ اور انگریز جانے سے مال روڈ کا پورا کلچر ہی تبدیل ہو گیاتھا،شہر کی زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا تھا پھر رفتہ رفتہ مہاجر اور مقامی مسلمان اس خلا کو پر کرنے لگے اور اس کی رونقیں بحال ہونے لگیں!“
یہ بھی پڑھیں! لاہور کا کافی ہاؤس…… میم سین بٹ
مال روڈ کے سفر میں پروفیسر اسد سلیم شیخ ہمیں جناح ہال (ٹاؤن ہال)،زمزمہ توپ، نیشنل کالج آف آرٹس،عجائب گھر،ٹولنٹن مارکیٹ،پنجاب پبلک لائبریری، پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) اورینٹل کالج، انارکلی بازار، نیلا گنبد،فوڈ سٹریٹ (پرانی انارکلی) کمرشل بلڈنگ، مہیشور مینشن، الفریڈ بلڈنگ، بیلجئم سکوائر،بنک سکوائر، وائی ایم سی اے بلڈنگ، جی پی او، نرسنگھ داس بلڈنگ، ای پلومر بلڈنگ، ہائیکورٹ، کیتھڈرل، سٹیٹ بنک، مال مینشن، گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ، دھونی چند بلڈنگ، بجاج مینشن،دیال سنگھ مینشن،کوآپرا بلڈنگ، سیکرڈ ہارٹ، سینٹ انتھونی سکول، مسجد شہداء، ہال روڈ،لکشمی مینشن، ڈنگا سنگھ بلڈنگ، پینو راما سینٹر، چوپڑا بلڈنگ، نقی مارکیٹ، انڈس ہوٹل، غلام رسول بلڈنگ، الفلاح بلڈنگ، شاہ دین منزل، سمٹ مینار، پنجاب اسمبلی، واپڈا ہاؤس، فری میسن ہال،چڑیا گھر، باغ جناح (لارنس گارڈن) کاسموپولیٹن کلب، جمخانہ کرکٹ کلب، قائد اعظم لائبریری، آواری، الحمراء، گورنر ہاؤس، پرل کانٹی نینٹل،ایوان کارکنان تحریک پاکستان، نرسنگھ داس،ایچی سن کالج،جی او آر، نیول وار کالج، سٹیٹ گیسٹ ہاؤس، سول سروسز اکیڈمی، جمخانہ کلب اورمیاں میرپل کی تاریخ وجغرافیہ سے آگاہ کرتے ہیں،پروفیسر اسد سلیم شیخ مال روڈ پر غلام رسول بلڈنگ میں قائم معروف اشاعتی ادارے فیروزسنز کے شوروم میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں انہیں ریک میں اپنی دوتین کتابیں بھی دکھائی دیتی ہیں،کچھ عرصہ بعد فیروز سنز کا شوروم خوفناک آتشزدگی کے باعث چند سال بند رہا تھا ابھی دو تین ہفتے قبل مال روڈپرریگل اور چیئرنگ کراس چوک کے درمیان پایا جانے والاکتابوں کا یہ مرکز دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔
لوئرمال کے سفر میں پروفیسر اسد سلیم شیخ امام بارگاہ گامے شاہ،سنٹرل ماڈل سکول،ایجوکیشن یونیورسٹی، ضلع کچہری،ریٹی گن روڈ،بریڈلا ہال اور اردو بازارسے گزرکر لوئر مال پر گول باغ کے قریب کچہری چوک میں پہنچتے ہیں تو اپنی مادر علمی اور نیوہاسٹل کودیکھ کر ماضی میں پہنچ جاتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ عالی شان عمارت اور اس کا عظیم کلاک ٹاور ہمیں اپنی طرف کھینچ رہے تھے گولائی میں مڑتی ہوئی سڑک پر اس کی دیوار کے سائے میں چلتے چلتے مین گیٹ پرجا پہنچے جس کو کبھی بند نہیں دیکھا گیا تھا مگر دہشت گردی کے خوف نے بہت سے در بند کردیئے تھے چھوٹے گیٹ سے اندر داخل ہو کراوپر جانے والی سڑک پر ہولئے اب ہمارے سامنے گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی) کی قدیم اور عظیم عمارت پوری شان و شوکت کے ساتھ اوول کے اوپر جھانکتی نظر آنے لگی تھی،مینارکے نیچے کھڑے ہو کر سر اوپر اٹھایا تو گھڑی بارہ بج کر بیس منٹ کا وقت بتا رہی تھی،نیچے پتھر کی گول سلیٹ پر انگریزی حروف میں گورنمنٹ کالج 1875ء لکھا ہوا تھا،دائیں جانب یونیورسٹی یونیورسٹی کے افتتاح کی تختی نصب تھی جس پر درج تھا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کاافتتاح گورنر پنجاب (چانسلر) خالد مقبول کے ہاتھوں 20 ستمبر 2002ء کو ہوا دونوں تختیوں کے درمیان بظاہر یہ چند فٹ کا فاصلہ تھا مگر یہ چند فٹ کا فاصلہ اس کالج سے یونیورسٹی بننے کا سوا سوسالہ سفر ہے!“

Leave a Reply

Back to top button