کتابیں

لاہور کے لامتناہی قصے…… میم سین بٹ

لاہور شہر پر انگریزی میں لکھنے والوں کی فہرست زیادہ طویل نہیں اور ان میں سے مجید شیخ کا نام سرفہرست ہے۔ انگریزی ان کی مادری زبان بھی ہے، ڈیلی ڈان میں لاہور شہر پر ہفتہ وار کالم لکھتے رہے ہیں۔ انہیں ڈیلی ڈان کے ایڈیٹر ظفر اقبال مرزا (zim) نے کالم لکھنے پر آمادہ کیا تھا جو سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ان کے والد مرحوم کے جونیئر رہے تھے۔ ڈیلی ڈان میں لاہور شہر کے بارے میں شائع ہونے والے کالم بعد ازاں 2006ء میں مجید شیخ نے این جی او ادارہ برائے فروغ تعلیم ساہی اور جرمن ادارے ایچ بی ایف کی معاونت سے ”لاہور: لامتناہی قصے Lahore: Tales without end کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کئے تھے، دو برس بعد بھارت میں بھی اس انگریزی کتاب کا ایڈیشن شائع ہوا۔ اسی سال سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے بھی یہ کتاب شائع کر دی، اب سنگ میل پبلی کیشنز نے ہی مجید شیخ کی اس انگریزی کتاب کا اردو ایڈیشن ”قصے لاہور کے“ کے عنوان سے شائع کیا ہے جس کے مترجم سابق بیوروکریٹ وحید رضا بھٹی ہیں جو گورنمنٹ کالج (اب یونیورسٹی) میں مجید شیخ کے کلاس فیلو اورمجلہ ”راوی“ کے 1973ء میں ایڈیٹر رہے تھے۔وحید رضا بھٹی نے مجید شیخ کی انگریزی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کیلئے نہایت عرق ریزی سے کام لیا ہے تاہم اس سلسلے میں انہوں نے کلاسیکی زبان استعمال کر ڈالی ہے۔ شاید ترجمے کیلئے انہوں نے ”فرہنگ آصفیہ“ سے مدد لی ہے۔ تفنن برطرف انہوں نے بعض اردو جملے بھی انگریزی عبارت کے انداز میں الفاظ آگے پیچھے کر کے تحریر کئے ہیں جس سے صاف پتا چل جاتا ہے کہ یہ تحریر انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی گئی ہے۔
کتاب کا سرورق بھی غالباََ دانستہ قدیم قصے کہانیوں کی کتابوں جیسا بنایا گیا ہے۔ اس پر لاہور شہر کے کسی منظر کی تصویرکے بجائے کسی تاریخی عمارت کے ایسے اندرونی حصے کا عکس دیا گیا ہے جس میں دیوار پر کاشی کاری کی گئی ہے۔ کتاب کے پس سرورق یا اندرونی صٖفحات میں بھی لاہور شہر کے حوالے سے کوئی تصویر شامل نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ”قصے لاہور کے“ میاں محمد بخش صحاف کے قدیمی اشاعت گھر کا کوئی خطی نسخہ لگتا ہے۔ پبلشر نے کتاب کی قیمت 990 روپے رکھی ہے جو 256 صفحات کے مطابق بہت زیادہ ہے۔ ہمارے خیال میں اس کتاب کی قیمت زیادہ سے زیادہ تین چار سو روپے ہونی چاہئے تھی۔ اتنی مہنگی کتاب کو تو کوئی عام بندہ خرید کر کسی کو تحفے میں بھی نہیں دے سکتا۔ ان انگریزی کتابوں کا اردو ایڈیشن بھی اگر اس قدر مہنگا دستیاب ہو گا تو پھر اسے ترجمہ کرنے کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ زیادہ قیمت رکھنے سے مصنف کو ناشر سے رائلٹی کی مد میں معقول رقم تو مل گئی ہو گی لیکن یہ کتاب زیادہ سے زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچی ہو گی۔ ہمارے ہاتھ میں ”قصے لاہور کے“ دیکھ کر بہت سے احباب نے بڑے اشتیاق سے اس کی ورق گردانی کی مگر آخر میں کتاب کی قیمت دیکھنے کے بعد دل تھام کر رہ گئے تھے۔ چند احباب نے ہم سے فرمائش کی انہیں بھی یہ اہم کتاب پڑھنے کیلئے ضرور دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں! لاہورکا المیہ…… میم سین بٹ
مجید شیخ کا تعلق اندرون لاہور کے قدیم کشمیری خاندان سے ہے۔ ان کے دادا اندرون شہر سے نقل مکانی کر کے پہلے غالباً َریٹی گن روڈ پر اور پھر ماڈل ٹاؤن منتقل ہو گئے تھے۔ مجید شیخ کے والد حمید شیخ انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر تھے۔ قبل ازیں دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں جنگی نامہ نگار کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے تھے۔ ان کی اولاد میں سے مجید شیخ کے علاوہ رؤف شیخ بھی انگریزی صحافت سے وابستہ ہیں۔ مجید شیخ بی بی سی کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ ان کے بھائی رؤف شیخ دی نیوز میں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار پریس کلب میں دکھائی دے جاتے ہیں مگر مجید شیخ وہاں کبھی نظر نہیں آئے۔ ان کے والد حمید شیخ بھی سول اینڈ ملٹری گزٹ میں لاہور شہر کے حوالے سے لکھتے رہے تھے تاہم ان کا انگریزی میں لاہور شہر پر تحریری کام غالباً کتابی صورت میں شائع نہیں ہو سکا۔ البتہ اقبال بخاری بتا رہے تھے کہ حمید شیخ کا اردو میں ”گینڈا پہلوان“ کے عنوان سے ناول شائع ہوا تھا۔ مجید شیخ نے کتاب میں اپنا تعارف نہیں دیا، اپنے والد کے بارے میں بھی تفصیل سے نہیں لکھا، دیباچے میں صرف یہی بتایا ہے کہ وہ ”ایچ ایس“ کے مخفف سے قارئین میں معروف اور بڑے جاندار قصہ گو تھے۔ بچپن میں وہ ان کے قصے کہانیوں کو ہمہ تن گوش ہو کر سنا کرتے تھے،آٹھوں بہن بھائی ان کی کہانیوں کے دلدادہ تھے انہوں نے اولاد میں لاہور کیلئے اپنا جذبہ جنوں منتقل کر دیا تھا۔
کتاب کے اردو ترجمے ”قصے لاہور کے“ میں 76 کالم یا مضامین شامل ہیں اور اس کی ضخامت 256صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا انتساب مجید شیخ نے اپنے والدین حمید شیخ اور وائلٹ ایڈیتھ کے علاوہ شریک حیات ریحانہ بیگم، بیٹیوں سعدیہ و سحر اور لاہوریوں کے نام کیا ہے۔ دیباچہ بھی انہوں نے خود تحریر کیا ہے جس میں مجید شیخ بتاتے ہیں ”ہمیں والد حمید شیخ بچپن میں لاہور کے حوالے سے دلچسپ قصے سنایا کرتے تھے بلکہ اپنے ساتھ پیدل اندرون شہر لے جایا کرتے تھے، انہیں وہاں کے گلی کوچوں کے بارے میں گہرا علم تھا۔ وہ اپنے اخبار میں لاہور شہر کی سب سے بہتر منظر کشی کرنے والے لکھاری مانے جاتے تھے۔ انہوں نے لاہور کے افراد، مقامات اور اشیاء کے بارے میں لکھتے ہوئے جہاں پرکام چھوڑا تھا، میں نے وہاں سے شروع کر دیا تھا۔ اس دشت کی سیاحی میں بہت سی کتابوں اور افراد سے استفادہ کیا۔ ان میں میرے دوست رفیق ڈوگر اور فقیر سید اعجاز الدین کا ذکر ضروری ہے۔ ان کے علاوہ میرے دوست غضنفر اقبال عرف شیرو اور خالد محمود عرف خالدی بھی قدیم اندرون شہر کے بارے میں بے بہا معلومات رکھتے ہیں“۔
کتاب کا آغاز دریائے راوی کے ذکر سے کیا گیا ہے۔ پہلے مضمون کا عنوان ”راوی کے دفینے“ ہے۔ اسے سابق آمر جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت کے دوران بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے نتیجے میں سوکھ جانے والے دریائے راوی کا نوحہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسرا مضمون بھی راوی کے بارے میں ہے اور ”گم گشتہ پتن کشتیوں کا معاملہ“ کے عنوان سے مجید شیخ بتاتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں دریائے راوی شہر کی فصیل کے گرد بہتا ہوا خضری دروازے کو چھوتا تھا جسے اب شیرانوالہ دروازہ کہتے ہیں۔ یہ پتن کشتیوں کا گھاٹ ہوتا تھا، اس زمانے میں آمدورفت اور سامان و رسد کیلئے کشتی رانی استعمال کی جاتی تھی۔ بادامی باغ سے مغل پورہ تک ماہی گیروں کے چھوٹے چھوٹے گاؤں ہوتے تھے۔ ان ماہی گیروں کی پکڑی ہوئی مچھلیوں رہو اور کھگا وغیرہ کو بہترین ذائقے کی وجہ سے اساطیری حیثیت حاصل تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھی راوی میں کشتیاں چلتی رہی تھیں پھر سندھ طاس معاہدے نے راوی سے پانی چھین لیا، دریا خشک ہونے سے کشتیاں بھی ختم ہو گئیں“۔
کتاب کا تیسرا باب بھی راوی کا تسلسل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا عنوان ”گمشدہ کشتیوں کا پل“ ہے جو کامران کی بارہ دری سے بند روڈ تک واقع تھا۔ اس زمانے میں بارہ دری جزیرے کی شکل کے بجائے راوی کے مغربی کنارے پر ہوتی تھی اور دریا شاہی قلعے کے دروازے تک بہتا تھا۔ بعد ازاں راوی نے راستہ تبدیل کر کے موجودہ شکل اختیار کر لی تھی۔
چوتھے باب میں مجید شیخ اندرون شہر داخل ہو جاتے ہیں ”کچا کوٹ جو لاہور بن گیا“ میں وہ بتاتے ہیں ”لوہاری منڈی کا علاقہ صدیوں قبل کچا کوٹ کہلاتا تھا بعد ازاں شہر تین بار چار چار صدیوں کے وقفوں سے اپنے حجم میں کشادگی کے عمل سے گزرتا رہا۔ یہ نمایاں کشادگیاں راجہ جے پال، اکبر اعظم اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ادوارِ حکومت میں ہوئیں“۔ اگلے باب ”اشوک اور سیتا“ میں وہ بتاتے ہیں ”رام کی سیتا لاہور میں کچھ عرصہ مقیم رہی تھی، قدیمی شاعر والمکی نے ہندو رزمیہ نظم ”رامائن“ لاہور میں ہی نظم کی تھی، اشوک اعظم اور اس کا پوتا چندر گپت موریہ بھی لاہور کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے ہندو مت کی جگہ بدھ مت کو رائج کیا تھا، سلطان محمود غزنوی نے راجہ جے پال کو شکست دے کر لاہور میں پہلی مسجد قائم کی تھی جو شاہی قلعے میں واقع تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سکھ حکومت کا دربار بھی لاہور میں قائم تھا“۔ داتا دربار کے موضوع پر مضمون میں مجید شیخ نے سید علی ہجویری کا شجرہ لکھتے ہوئے انہیں ”حسینی سادات“ قرار دیا ہے حالانکہ وہ غالباََ ”حسنی سادات“ ہیں، مجید شیخ بی بی پاکدامن اور گورنر ہاؤس کی قبروں کے حوالے سے الگ الگ روایات بیان کرکے حتمی فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں۔
لاہور کی تین مؤثر ہستیوں سے محرومی کے عنوان سے مضمون میں بائیں بازو کے دانشوروں عبداللہ ملک، فیض احمد فیض اور استاد دامن کی وفات کا ذکر کرتے ہیں۔ اگلے مضمون میں رڈ یارڈ کپلنگ اور سر ونسٹن چرچل کے قیام لاہور کا احوال بیان کرتے ہیں اور اسی تناظر میں سول اینڈ ملٹری گزٹ سے منسلک رہنے والے اپنے والد مرحوم حمید شیخ کا بھی سرسری سا ذکرکرتے ہیں حالانکہ حمید شیخ جسے صحافی دانشور کا تفصیلی ذکر کیا جانا چاہیے تھا۔ ”لاہور کی عکس بندی“ کے عنوان سے مضمون میں معروف پریس فوٹو گرافر چاچا ایف ای چوہدری کا ذکر شروع کرتے ہیں اور مضمون کا اختتام بھی ان پر کرتے ہیں لیکن درمیان میں لاہور میں فوٹو گرافی کی مکمل ابتدائی تاریخ بیان کر دیتے ہیں۔ مجید شیخ ”لاہور بھنگیوں کی دسترس سے کیسے نکل گیا“ اور ”تین حکیموں کا تیس سالہ دور حکومت“ کے عنوان سے اپنے دو مضامین میں قاری کیلئے الجھن پیدا کر دیتے ہیں۔ پہلے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے 1799ء میں لاہور پر قبضے سے پہلے تین بھنگی سردار چیت سنگھ، صاحب سنگھ اور مہر سنگھ مسلسل دس برس تک حکمران رہے تھے۔ انہیں رنجیت سنگھ نے شکست دے کر لاہور سے بھگا دیا تھا لیکن اگلے ہی مضمون میں لکھتے ہیں کہ لاہور پر لہنا سنگھ، صوبہ سنگھ اور گجر سنگھ نے تیس برس تک حکومت کی تھی جنہیں کسی حکیم کے مشورے پر افیم استعمال کرنے کی وجہ سے لاہوریئے حکیم کہتے تھے۔ ان تین سکھ سرداروں کو رنجیت سنگھ نے شکست دی تھی۔
سلطان ٹھیکیدار پر مضمون میں مجید شیخ نے اسے نہایت منفی کردار میں پیش کیا ہے اور اس کی خامیاں بیان کرتے کرتے مضمون مکمل کر دیا ہے جبکہ اختتام ان پانچ الفاظ پر کیا ہے ”لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا“۔ وہ ”بغداد اور لاہور میں نسل کشی“ کے عنوان سے مضمون میں لکھتے ہیں کہ چنگیز خان نے لاہور اور بعدازاں بغداد میں کتابوں کو نذر آتش کیا تھا“۔ لاہور کا تو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن تاریخ کے مطابق بغداد کے کتب خانے چنگیز خان نہیں بلکہ غالباً اس کے پوتے ہلاکو خان نے جلائے تھے۔ مجید شیخ نے کتاب میں پنجاب پبلک لائبریری، بسنت میلے اور فصیل شہر کے نوحے بھی لکھے ہیں۔ وہ قصور، ملتان اور صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کو فتح کرنے والے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پنجابی جرنیل سردار ہری سنگھ نلوا سے بے حد متاثر لگتے ہیں اور ہری سنگھ نلوا کو”باگھ“ قرار دیتے ہیں۔ ایک مضمون میں مصنف انکشاف کرتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دیوانی اور مالیاتی محکمے کے سربراہ کشمیر ی پنڈت دیوان دینا ناتھ کی وجہ سے سیکڑوں پنڈت کشمیر سے نقل مکانی کر کے لاہور آ گئے تھے“۔ غالباً سینئر صحافی و دانشور اور لاہور پریس کلب کے سابق ممبر گورننگ باڈی آفتاب حنیف شیخ کے آباؤاجداد بھی ان کشمیری پنڈتوں میں شامل تھے بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ شاید مجید شیخ کے جد امجد بھی ان کشمیری پنڈتوں میں سے تھے۔ تقسیم ہند کے موقع پر ہندوؤں اور سکھوں کے لاہور چھوڑ کر انڈیا چلے جانے کا تو بہت سے لوگوں نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے لیکن مجید شیخ ”قصے لاہور کے“ میں ہندؤوں اور سکھوں کے ساتھ یہودیوں اور پارسیوں کا بھی تفصیلی ذکر کرتے ہیں۔ پارسیوں کے بارے میں ”غول بھاروچہ کا آم کا درخت“ کے عنوان سے مضمون میں بتاتے ہیں ”قیام پاکستان کے وقت لاہور میں کل 56 پارسی خاندان تھے جو 312 افراد پر مشتمل تھے۔ آج ان میں سے صرف 25 خاندان باقی بچے ہیں جن کی کل آبادی45 رہ گئی ہے۔ ان میں سے دس خاندان فرد واحد پر مشتمل ہیں جو مناسب رشتے نہ ملنے کی وجہ سے کنوارے رہ گئے۔ پارسی خاندانوں کی جوان سالہ اولاد امریکہ اور آسٹریلیا نقل مکانی کر چکی ہے۔ لاہور کے ان 45 پارسیوں کو ابھی مزید گھٹتے رہنا ہے“۔ مجید شیخ اقلیتوں کے حوالے سے لکھتے ہوئے دیسی عیسائیوں کو نظر انداز کر گئے ہیں جنہوں نے تقسیم ہند پر لاہور چھوڑ کر بھارت نقل مکانی نہ کی بلکہ پاکستان کا شہری بن کر لاہور میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں! لاہورکی دہلیز پر…… میم سین بٹ
”آزادی کی جنگ“میں ہندوستان کو آزاد کرانے کیلئے انگریزوں کے خلاف ہٹلر کا ساتھ والے حریت پسند سید وزیر علی امرتسری کی داستان بیان کی گئی ہے جس کا دادا جلیانوالہ باغ کے شہیدوں میں شامل تھا۔ سید وزیر علی کو دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر ہٹلر کی خود کشی کے تیسرے روز انگریزوں کی اتحادی روسی فوج نے برلن سے گرفتار کر کے پہلے تین سال پولینڈ کے جنگی قیدیوں کے کیمپ میں رکھا پھر امریکی فوج کے حوالے کر دیا جس نے ایک سال بعد اسے برطانوی فوج کو دے دیا تھا۔ اس دوران ہندوستان انگریز کی غلامی سے آزاد ہو گیا، پنڈت نہرو نے انگریزوں کے خلاف جرمنی کا ساتھ دینے والے ہندوستانی حریت پسند جنگی قیدیوں کو رہا کرا لیا، سید وزیر علی کو بھی اٹلی کے جنگی قیدیوں کے کیمپ سے نکال کر بحری جہاز میں کراچی بھجوا دیا گیا جہاں ”آزاد وطن“ کی بندرگاہ پر اترتے ہی انگریز کی تیار کردہ پاکستانی فوج نے اسے گرفتار کر کے ملتان کی سنٹرل جیل میں ڈال دیا اور اس پر ”غداری“ کا مقدمہ چلا دیا تھا، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے پر سید وزیر علی کو فوج نے رہا تو کر دیا مگر ان کے سرکاری ملازمت اختیار کرنے پر تاحیات پابندی لگا دی تھی۔ سید وزیر علی نے رہائی کے بعد 1954ء میں لاہور آکر بیڑیوں کی دکان کھول لی تھی،چار سال بعد جب بری فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان نے آئین و قانون سے غداری کرتے ہوئے حکومت پر قبضہ کر لیا تھا تو حریت پسند سید وزیر علی نے دل میں سوچا تو ضرور ہو گا……
نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
اگلے باب میں مجید شیخ 1857ء کے غدر پر میاں میر چھاؤنی (کینٹ) میں تعینات 26 ویں نیٹوو انفنٹری رجمنٹ کے314 پنجابی سپاہیوں کے انگریز فوج اور اس کی غلام ہندوستانی پولیس کے ہاتھوں قتل عام کا ذکر کرنے کے بعد سوال کرتے ہیں کہ کینٹ میں اپر مال پر کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے عین سامنے استادہ شاندار نشان راہ پر انگریزوں کیلئے پوری دنیا میں جنگیں لڑنے والی رجمنٹوں کے نام درج ہیں لیکن لاہور کی 26 ویں نیٹوو انفنٹری کے ان جوانوں کی کوئی یادگار کیوں قائم نہیں کی گئی جنہوں نے مادر وطن کی حمایت میں اپنے گلے کٹوائے تھے۔

Leave a Reply

Back to top button